خلیجی ممالک میں اردو اور کویت میں ادبی پیش رفت
- تحریر ڈاکٹر مہتاب عالم
- اتوار 01 / ستمبر / 2019
- 28910
اردو زبان جو ہندستان میں پیدا ہوئی اور آزادی سے قبل تک ہند پاکستان اور بنگلہ دیش کی سرحد تک محدود تھی آج وہی شیریں زبان صرف ہند،پاکستان،بنگلہ دیش ہی نہیں بلکہ ایشیائی ممالک سے نکل کر افریقہ اور یورپ میں بھی اپنی کامیابی کے پرچم کو بلند کر رہی ہے۔
آزادی سے قبل تک یہ زبان صرف لندن اور ٹوکیو(جاپان) یونیورسٹی کے نصاب اور ا ن کی نشریات کا حصہ تھی لیکن آج یہ شریں زبان دنیا کے چوالیس ممالک کی یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل ہے۔ یہاں پر دنیاکی مختلف یونیورسٹیوں میں اردو زبان کی صورتحال کا ذکر مقصود نہیں بلکہ کویت میں اردو زبان و ادب کی تاریخ وادبی پیش رفت کے حوالے سے گفتگوہے۔
کویت کی جدید تاریخ سترہویں صدی کے آخر یاور اٹھارہویں صدی کے آغاز سے شروع ہوتی ہے۔ کویت کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ شیخ مبارک الصباح کے عہد میں کویت تعلیمی بیداری کے لئے خصوصی مہم شروع کی گئی تھی۔ 1911 میں کویت میں (مدرسہ مبارکیہ)کے نام سے کویت میں پہلا با ضابطہ تعلیمی ادارہ قائم کیا گیا تھا۔مدرسہ مبارکیہ میں تعلیم کا نظام بہت اعلی تھا۔جس میں صرف کویت ہی نہیں بلکہ بیرون کویت کے طلبہ بھی حصول تعلیم کے لئے آتے تھے۔ جب شیخ مبارک الصباح نے داعی اجل کو لبیک کہا تو ان کے بڑے فرزند شیخ جابر المبارک الصباح ان کے جانشین بن کر تخت شاہی پر متمکن ہوئے۔ شیخ جابر المبارک الصباح ابھی حکومت کے نظامت کو ٹھیک سے سمجھ بھی نہیں سکے تھے کہ موت نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیا۔اس کے بعد کویت کے تخت شاہی پر شیخ جابر المبارک اور الصباح کے برادرشیخ سالم المبارک الصباح جلوہ افروز ہوئے۔
کویت نے 1961میں آزادی حاصل کی تھی۔دوہزار گیارہ میں جب کویت نے اپنی آزادی کی پچاسویں سالگرہ منائی، اس وقت کی ایک تقریب میں راقم الحروف کو جانے کا اتفاق ہوا۔اس کے بعد مشاعرہ اوردوسری تقاریب میں شرکت کے لئے کویت میں منعقد ہونے والی کئی تقاریب میں شرکت کا موقع ملا۔ مملکت کویت کا شمار دنیا کے چھوٹے سے ملک کے طور پر ضرور ہوتا ہے لیکن یہاں کی کرنسی دینارزر مبادلہ میں دنیا کی سب سے مہنگی شرح رکھتا ہے۔غیر عرب میں ہندستانی باشندوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ دوہزار سترہ میں دو بار کویت جانے کا موقع ملا۔ پہلی بار منفرد لب ولہجے کے ممتاز شاعربھائی عامر قدوائی کی تنظیم کے زیر اہتمام منعقد ہ عالمی مشاعرہ میں شرکت کی اور دوسری بار جشن تسنیم انصاری میں اپنے خیالات کا اظہار اور شاعری کو پیش کرنے کا موقع فراہم کیاگیا۔ خلیج جنگ کے دوران کویت میں ہندستانی باشندوں کی تعداد ایک لاکھ بیاسی ہزار تھی جو اب بڑھ کر ساڑھے نو لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے۔ ہندستانی باشندوں میں ڈاکٹر،انجینئر،دانشور اور مزدور سبھی شامل ہیں۔
کویتی دستور کی رو سے یہاں کی سرکاری زبان عربی ہے۔ عربی زبان کے بعد اردو یہاں کی دوسری بڑی رابطہ کی زبان ہے۔ یہ زبان یہاں پر بیسویں صدی کی نصف دہائی کے آغاز میں آئی تھی۔ابتدا میں لوگ خاموشی سے اپنے لوگوں کے بیچ آپسی بول چال کے لئے استعمال کرتے تھے لیکن اب یہاں پر اردو کی تقاریب کا بھی کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ یہیں نہیں افروز عالم کی کتاب(کویت میں ادبی پیش رفت) کے مطالعہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ کویت میں اردو شاعری اور نثری اصناف میں اب تک دو سو سے زیادہ کتابیں مختلف موضوعات پر شائع ہو چکی ہیں۔
کویت کی تاریخ،آئین،نظام حکومت،زبان،معاشرت،تجارت پر نظر ڈالنے کے بعد جب ہم افروز عالم کی کتاب (کویت میں ادبی پیش رفت) پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں یہ کتاب ایک دستاویز کی صورت میں نظر آتی ہے۔افروز عالم کی کتاب کو تاریخی حوالے سے سند کا درجہ اس لئے بھی حاصل ہے کہ انہوں نے اپنی اس کتاب میں صرف اردو زبان و شعر ادب کے حوالے سے ہی گفتگو نہیں کی بلکہ انہوں نے اپنی کتاب میں کویت میں اردو کی صورتحال کے ساتھ کویت میں تحریر کئے جانے والے نثری ادب،ریڈیو کویت کی اردو سروس،کویت سے شائع ہونے والے اردو کے اخبار و رسائل،کویت کی ادبی انجمنوں کے ساتھ کویت میں اردو کے شعری و نثری کا رواں کو آگے بڑھانے میں جن مقتدر شخصیات نے کلیدی کردار ادا کیا ہے ان کا بھی مبسوط انداز میں خاکہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔اس کتاب میں افروز عالم نے کویت کے شعر ا وادبا کی تصانیف کی فہرست پیش کرنے کے ساتھ کویت کی نثری تصنیف کو الگ سے بھی پیش کیا ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب میں جہاں اردو کے کارواں کو آگے بڑھانے میں مرد فنکاروں کا ذکر کیا ہے وہیں انہوں نے شاعرات کا تذکرہ بھی خصوصیت کے ساتھ کیا ہے۔
افروز عالم کے بارے میں ممتاز ادیب،ناقد و شاعر پروفیسر مظفر حنفی نے ایک جگہ لکھا ہے کہ’افروز عالم نے اردو کی نئی بستی میں اردو کی مختلف تحریکوں سے وابستہ ہوکر ایک کارنامہ انجام دیا ہے‘۔یہ ہجرت کی ہی برکت ہے کہ اردو نے اپنے وطن کے باہر اردو کی نئی بستیاں آباد کر لی ہیں۔ کویت میں اردو زبان کی جو بہار دیکھنے کو مل رہی ہے اس میں ہندستان کے باشندوں کے ساتھ پاکستان کے باشندوں کا بھی اہم کردار ہے۔کویت میں گزشتہ چار دہائیوں سے اردو کے اخبار کا جو سلسلہ جاری ہے اس میں پاکستان کے محبان اردو کی مساعی جمیلہ شامل ہے۔
حالانکہ اردو کو لے کر دبئی،سعودی،شارجہ،ابوظہبی،عمان،بحرین،مسقط،قطر میں بھی محفلیں منعقد ہوتی ہیں لیکن ان میں سرزمین کویت میں اردو کی ادبی قوس قزح کو جو مرکزیت حاصل ہے وہ دوسرے عرب ممالک کو حاصل نہیں ہے۔ البتہ قطر میں حسن عبد الکریم چوگلے،سہیل صبیح بخاری،عزیز نبیل،ندیم ماہر،احمد اشفاق،عتیق احمد،عتیق انظرکی کوششوں سے مشاعرہ سے ہٹ کر کتابوں کی اشاعت اور ایوارڈ کا بھی سلسلہ جاری ہے۔حسن چوگلے کی نگرانی اور عزیز نبیل کی ادارت میں دستاویزات کی اشاعت اردو ادب میں ایک اضافہ کی حیثیت رکھتی ہے۔قطرہی میں بھوپال فورم کی تشکیل اور بھوپال کے ادبی شہ پاروں کو منظر عام پر لانے کی سہیل بخاری کی کوششیں بھی اہمیت کی حامل ہیں۔ دوبئی میں سلیم جعفری نے اپنی حیات میں مشاعروں کے انعقاد کے ساتھ اردو کے شاعروں ادیبوں کا اعزازاور کتابوں پر مالی تعاون دینے اوراہم کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ بھی شروع کیا تھا لیکن ان کے رخت سفر باندھنے کے بعد یہ سلسلہ وہیں پر ختم ہوگیا۔بحرین میں شکیل صبرحدی،قطرمیں حسن عبد الکریم چوگلے اور سہیل بخاری نے جس طرح سے اردو کی شمع کو جلا رکھا ہے وہ نہ صرف قابل تقلید ہے بلکہ ہندستان کے اہل اردو کے لئے مشعل راہ بھی ہے۔
کویت میں اردو کی ہلچل تو بیسویں صدی کی نصف دہائی سے نمایاں طورپرہے لیکن یہاں پر اردو نے ایک منظم تحریک کی شکل افروز عالم کے کویت میں جانے کے بعد حاصل کی ہے۔اردو شاعری کے افق پر نوے کی دہائی کے بعد جو نسل سامنے آئی ہے اس میں افروز عالم کا نام ان معنوں میں سب سے نمایا ں ہے کہ وہ فن کی خوبیوں سے واقف ہیں۔افروز عالم کی ولادت صوبہ بہار کے مردم خیز خطہ گوپال گنج میں ہوئی۔تحصیل علم کے بعد بسلسلہ ملازمت افروز عالم نے دیار غیر یعنی سر زمین عرب میں قدم رکھا اور یہاں بھی انہوں نے اپنی محنت او رلگن سے اہل اردو کے بیچ نمایاں مقام بنالیا۔افروز عالم دو دہائی سے زیادہ عرصہ سے سر زمین عرب کی بود وباش کا حصہ ہیں لیکن ان کے دل میں اردو اور ہندستان بستا ہے۔ ملازمت کی مصروفیت کے بعد انہیں جو بھی وقت ملتا ہے وہ اسے اردو زبان کی آبیاری اور شعر و ادب کی خدمت میں صرف کر دیتے ہیں۔
کویت میں اردو کی ادبی تقریب اور مشاعروں کا انعقاداور اس میں افروز عالم کی شمولیت مشاعرہ کی کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے۔افروز عالم کی خوبی یہ ہے کہ وہ کسی صلے کی تمنا کے بغیر دیوانہ وار اردو کی بقا کے لئے مصروف رہتے ہیں۔افروز وعالم نے اپنی پوری قوت اور علمی بصیرت کے ساتھ پہلی بار کویت کی حقیقی ادبی صورتحال سے اہل ادب کو نہ صرف روشناس کرایا بلکہ اس خطہ کو اپنی فکر کی جولان گاہ بناکر نیا تشخص اور وقار عطا کیا ہے۔افروز عالم ایک ایسے خانوادے کے چشم و چراغ ہیں جس میں علم و حکمت کے آفتاب و مہتاب ہمیشہ اپنی چمک دمک سے اہل علم کی نگاہوں کو خیرہ کرتے رہتے ہیں۔ان کی تصنیف کردہ کتابیں اور شعری مجموعے ان کی علمی لیاقت و بصیرت کی غماز ہیں۔
کویت میں ادبی پیش رفت افروز عالم کی ایسی کتاب ہے جس کے مطالعہ سے کویت کی تاریخ،تہذیب و ثقافت،زبان و ادب، مذہب، لباس، غذا، جغرافیائی حالات و موسم کو قریب سے جاننے کا موقع ملتا ہے۔کتاب کے مطالعہ سے جہاں اس بات کا پتا چلتا ہے کہ کویت میں اردو کی ادبی تحریک کو شروع کرنے والے کون لوگ تھے،کون لوگ ابھی اس تحریک سے وابستہ ہیں اور کون کون سے لوگ اب کویت سے واپس جا چکے ہیں۔فضل کریم اخترؔکو نہ صرف افروز عالم نے بلکہ کویت کے دو اہم مورخین مسرت جبین زیباؔ اورسعید روشن ؔنے بھی سرزمین کویت کا پہلا شاعر تسلیم کیا ہے۔
کویت میں اردو کے حوالے سے دوسرا نام نور پرکار کا ملتا ہے۔ نور پرکار نے ابتدا میں اردو نثر نگاری میں اپنے قلم آزمائے بعد از اں انہوں نے نظموں پر بھی طبع آزمائی کی۔کویت کی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ا ب تک ڈھائی سو سے زائید سنجیدہ اہل قلم نے کویت میں اپنی ادبی نگارشات کے پرچم بلند کئے اور ایک عرصہ ملازمت کرنے کے بعد اپنے اپنے وطن واپس چلے گئے۔افروز عالم اور اسی طرح دوسرے محبان اردو نے کویت میں اردو کی جو شمع جلائی ہے اسے نئی توانائی عطاکرنے کی ضرورت ہے۔کویت میں پاکستانیوں کے کئی مدارس چل رہے ہیں۔پاکستانی اسکول بھی ہیں لیکن سب کا ذریعہ تعلیم انگریزی ہی ہے۔ البتہ ان اسکولوں میں اردو کی تدریس ایک مضمون کے طورپر جاری ہے۔اگر آپ کویت میں کبھی سفر کریں تو آپ دیکھیں گے کہ کویت ایکسپریس ہائی وے پر رفتار کی حد کے لئے جو بورڈ لگائے گئے ہیں ان میں عربی اور انگریزی زبان کے ساتھ اردو میں بھی بورڈ لگائے گئے ہیں۔یہی نہیں کویت کی اعلی ظرفی کا نمونہ مساجد اور اسپتال میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہاں پر پانی،بجلی اور دوسری اشیائے ضروریہ کے لئے عربی کے ساتھ اردو میں بھی سائن بورڈ لکھے ہوئے ہیں۔کمپنیوں کے اشتہارات میں بھی اردو شامل ہے۔
ستر کی دہائی سے اب تک ریڈیو کویت سے دو گھنٹے کی اردو سروس جاری ہے۔ حالانکہ یہ مقام اردو کی جائے پیدائش کہے جانے والے ملک میں بھی اردو کوریڈیوسروس میں اب حاصل نہیں ہے۔اگر اہل اردو کویت میں اپنی نظر اور نظریہ کو تھوڑا سا بدل دیں تو یہ سر زمین اردو کے لئے نہ صرف ایک چمن زار بن جائے گی بلکہ یہاں کی حکومت کی سرپرستی میں اردو کے لئے وہ کارنامے انجام دیے جا سکتے ہیں جودنیا میں بے مثل ہوں گے۔