وزیراعظم کا ٹویٹ و ٹیلیفون، جہاد اور تحریک کشمیر
- تحریر ارشد بٹ ایڈووکیٹ
- اتوار 01 / ستمبر / 2019
- 5620
نئے پاکستان کے نئے حکمرانوں نے کشمیر کی آزادی کے نت نئے طریقے دریافت کرنا شروع کر دیے ہیں۔ نہ بیرونی دوروں کی ضرورت، نہ سفر کی تھکان سے چور ہونے کا اندیشہ، نہ سرکاری خزانے پر بوجھ۔ ۔۔ عالمی راہنماؤں اور عالمی رائے عامہ کو کشمیر کے حالات سے آگاہ کرنے کا مجرب نسخہ ٹیلیفون اور ٹویٹ کا ماہرانہ استعمال۔ ٹیلیفون اور ٹویٹ کو انصافی حکومت نے نئے جہادی ہتھیار کا درجہ دے ڈالا۔
ملک میں آدھے گھنٹے کی سرکاری ہڑتال کی کال دے کر پھولے نہیں سما رہے کہ ہم نے آدھ گھنٹہ کی ہڑتال سے دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ ڈالا ہے۔ وزیراعظم کی افلاطونی ترجمان کس ڈھٹائی سے اعلان کرتی ہیں کہ وزیراعظم عمران خان 27 ستمبر کو یو این او کی جنرل اسمبلی میں کشمیر کا مقدمہ لڑنے کے لئے بے چین ہیں۔ اس سے کشمیر میں انڈین مسلح فورسز کے کریک ڈاؤن کے نتیجہ میں انسانی المیے اور 5 اگست کے بعد بدترین حالات پر حکمرانوں کی سنجیدگی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
نئے پاکستان کے حکمران سنجیدہ منصوبہ بندی اور حکمت عملی سے خود کو بالاتر سمجھتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کے باربار ایٹمی جنگ کے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے دنیا کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش نئے پاکستان کی نئی حکمت عملی ٹھہری۔ انڈیا کے وزیراعظم مودی اور وزیر خارجہ ملکوں ملکوں گھوم کر عالمی راہنماؤں سے ملاقاتوں میں انڈیا کی سفارتی اور سیاسی پوزیشن مضبوط کرنے میں مصروف ہیں۔ اسلام آباد میں براجمان پاکستان کے وزیراعظم، وزیرخارجہ اور وزارت خارجہ عضو معطل بنے ٹیلیفون، ٹویٹ اور پریس کانفرنسوں سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ سوچی سمجھی پالیسی کے تحت حکومت نے پارلیمنٹ کو غیر موثر کر رکھا ہے۔ جمہوری ممالک میں پارلیمانی وفود بھیجنے سے ان ممالک کی سیاسی جماعتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی میڈیا سے رابطوں کے ذریعے کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر عالمی رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کے امکانات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
کشمیری عوام ستر سال سے انڈیا کے غاصبانہ قبضے اور غلامی کی زنجیروں سے نجات کے راستے پر ہزاروں جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ جس کاسلسلہ ختم ہوتا نظر نہیں آرہا۔ مگر پاکستانی حکمرانوں کی غیر دانشمندانہ اور مذہب کے نام پر کشمیر کو پاکستان بنانے کی جہادی پالیسی نے کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی میں رخنے ڈالنے اور عالمی رائے عامہ کی حمائت سے محروم رکھنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی۔
5اگست کو نریندر مودی کا متنازعہ اعلان تنازعہ کشمیر کو عالمی سٹیج پر لے آیا۔ مودی کے اعلان پر کشمیری عوام کی مزاحمت، آزادی کے نعروں کی گونج، انڈین سیکورٹی فورسز کے غیر انسانی مظالم اور چار ہفتوں سے مسلسل کرفیو کی پابندیوں سے تنازعہ کشمیر کی اہمیت اور نزاکت کا احساس بڑھ رہا ہے۔ دنیا کے اہم دارالحکومتوں، عالمی اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی میڈیا میں کشمیر میں انسانی اور جمہوری حقوق کی پامالی پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
انڈین فورسز کے مظالم کے خلاف کشمیری عوام کی مزاحمت دنیا کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہی ہے۔ مفادات کے قیدی اسلام آباد کے حکمران اور پالیسی ساز تاریخی غلطیوں کو دہرانے سے گریز نہیں کر رہے۔ کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی اور کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنے پر توجہ نہیں دی جارہی۔ دن رات ایٹمی جنگ کے خطرے سے دنیا کو خوفزدہ کرکے تنازعہ کشمیر پر حمائت حاصل کرنے کی لایعنی کوشش کی جارہی ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کے ایٹمی جنگ کے بار بار حوالوں سے کشمیری تحریک آزادی کی مدد ہر گز نہیں ہو رہی۔ بلکہ اس غیر دانشمندانہ پالیسی کے نتائج الٹ برآمد ہونے کے زیادہ امکانات ہیں۔ نئے پاکستان کے حکمران اور پالیسی ساز ہوش کے ناخن لیں۔ اگر نئے پاکستان کے حکمران کشمیر کے عوام اور تحریک سے مخلص ہیں تو اسلام آباد کے آرام دہ ماحول سے باہر نکلیں۔ پارلیمٹیرینز کو بھی بیرونی ممالک دوروں پر بھیجیں۔ عالمی راہنماؤں، سیاسی جماعتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا سے رو برو ملاقاتیں کریں۔ انہیں کشمیر میں انسانی جمہوری حقوق کی تشویشناک صورت حال اور انڈین فورسز کے مظالم سے آگاہ کریں۔ اگر آپ اتنا بھی نہیں کر سکتے تو خدارا اپنا منہ بند رکھیں اور کشمیری عوام کی تحریک آزادی کو تہس نہس کرنے سے باز رہیں۔ 27ستمبر تو ایک دن ہے۔ اس سے پہلے اور بعد میں کیا آپ سوئے رہیں گے؟