امت مسلمہ کا مفروضہ اور کشمیریوں کی جدو جہد

تقسیم ہند کے بعد بھارت میں جواہر لال نہروکے علاوہ کوئی وزیر اعظم کشمیریوں سے اتنا سنجیدہ، خوشنما اور واضح وعدہ نہیں کر سکا ہے۔ 7اگست1952کو جواہر لال نہرو نے کہا تھا ہم کشمیر کے لوگوں کی مرضی کے خلاف بندوق کے زور پر ان سے کوئی بات نہیں منوانا چاہتے۔ اگر جموں کشمیر کے لوگ ہمارے ساتھ نہیں رہنا چاہتے ہیں تو ہم انہیں زبردستی کی شادی کے بندھن میں نہیں باندھنا چاہتے۔

 مگر اس اقرار کے سات دہائیوں بعد مودی حکومت نے کشمیر کی خود مختار حیثیت کیلئے منظور کی گئی آئینی ترمیم 370اور35Aکی شقوں کو منسوخ کر دیا۔بھارت نے بظاہر  یہ قدم اس لیے اٹھایا ہے کہ ان شقوں کے خاتمے سے کشمیر کی متنازعہ حیثیت کا خاتمہ ہو جائے گا اور وہ ہندوستان کا قانونی طور پر حصہ بن جائیں گے۔ مگر ان اقدامات کے بعد کشمیر کی صورتحال بگڑی ہے وہاں پر کرفیو کی وجہ سے لاکھوں افراد اپنے گھروں میں مقعید ہیں جنہیں خوراک، ادوایات اور دیگر ضروریات کی کمی کا سامنا ہے۔ ہندوستانی میڈیا کی طرف سے کوئی خبر باہر نہیں آ رہی۔ جبکہ مغربی دنیا کے اخبارات وشنگٹن پوسٹ، وال سٹریٹ جنرل اور فارن پالیسی، اندرونی خبریں لوگوں کو پہنچا رہے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستانی افواج کشمیریوں پر بے پناہ ظلم و ستم روا  رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے بیرونی دنیا سے رابطے منعقد ہیں۔

مودی حکومت کے اس اقدام کی امریکہ، مغربی دنیا اور ہمارے مسلمان ممالک نے کھل کر کوئی حمایت نہیں کی ہے بلکہ کہا ہے کہ ہم کشمیر میں بھارت کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جبکہ ترکی کی پارلیمنٹ نے کشمیریوں کی حمایت میں آواز اٹھائی ہے۔ایرانی پارلیمنٹ نے ایک قرار داد میں ہندوستان سے احتجاج کیا ہے کہ وہ کشمیر میں ہونے والے ظلم و ستم کو ختم کرے۔ ہم متحدہ عرب امارات کی طرف سے نریندر مودی کو سب سے بڑا سول ایوارڈ دینے پر احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہی آرڈر آف زید پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کو 2007میں عطا کیا جا چکا ہے۔ سعودی عرب نے بھی اعلیٰ ترین ایوارڈ آرڈر آف کنگ عبدالعزیز اپریل2016میں مودی کو دیا تھا جبکہ یہ ایوارڈ پاکستان کئی جرنیلوں کو بھی پاک سعودی عسکری تعلقات کے استحکام کے اعتراف میں دیا جا چکا ہے۔ یہ درست ہے ایسے موقع پر جبکہ کشمیر میں انسانی بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے متحدہ عرب امارات کو اس اعلیٰ ترین اعزاز دینے کا فیصلہ کچھ دیر کیلئے موخر کر دینا چاہیے تھا مگر پاکستان میں مشکل یہ ہے کہ ہم پچھلے 75سال سے عالم اسلام کی یک طرفہ محبت میں گرفتار ہیں جس کا عملی طور پر کوئی وجود نہیں ہے

 یہ بات ہمیں کب سمجھ آئے گئی کہ یہ دنیا مفادات کی ہے جہاں پر نظریات، مذہب، مسلک، تہذیب، تاریخ اورجغرافیائی رشتوں کو کسی وقت بھی لپیٹا جا سکتا۔ پاکستان نے پہلی بار 1990میں کویت پر عراقی قبضہ چھڑانے کیلئے اتحادی مہم میں سعودی عرب کی خواہش پر فوجی ساتھ دینے کی معذرت کی تھی۔ پھر اپریل 2015میں یمن کی لڑائی میں شمولیت سے انکار کیا، اب ایران کے خلاف  خلیج میں جو نئی صف بندی ہو رہی ہے اس میں بھی پاکستان اسلامی ممالک کے کاغذی فوجی اتحاد میں علامتی شمولیت کے باوجود غیر جانبداری نبھا رہا ہے۔سابق حالات و واقعات کو دیکھا جائے تو پاکستان میں اپنے اجتماعی مفادات کی خاطر علاقائی خارجی پالیسیوں کو اپنی مرضی سے چلانے کی کوشش کی ہے جس سے یقینا عرب ممالک ہم سے مایوس ہوئے ہیں۔ جبکہ ہندوستان میں سعودی عرب متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ علاقائی اقتصادی اسٹریجک پارٹنر شپ بڑھائی ہے جس سے مسئلہ کشمیر کو وہ پاکستان کے نقطہ نظر سے نہیں دیکھ پا رہے ہیں۔

 پاکستان ایک عجمی ملک ہے جبکہ عرب ریاستوں اور سعودی عرب نے اپنے ہم نسل عربی بھائیوں فلسطینیوں، شامیوں اور لیبیا کے ہونے والے لوگوں پر ظلم و ستم کے خلاف آواز نہیں اٹھائی ہے۔ اسی طرح ہمارے ملک کی دینی اور دائیں بازو کی جماعتوں پر رویئے بھی عجب سوچ کے حامل ہیں۔ وہ امت مسلمہ کے نام پر اپنی دکان داری چلانے کی کوشش کرتے ہیں مگر ہمیں کشمیر کے حوالے سے ان تنظیموں کی طرف سے کوئی قابل ذکر مظاہرے دیکھنے میں نہیں آئے ہیں۔جبکہ دفاع پاکستان کونسل اور ان کے لیڈران بھی خاموش ہیں۔ نہ ہی ہمیں موم بتی مافیا نظر آتا ہے جو کہ دنیا میں ہونے والے ظلم و ستم کے  خلاف احتجاجی ریلیاں نکالتا اور موم بتیاں روشن کرتا تھا۔

پانچ اگست کو کشمیری عوام کی جدو جہد کے حوالے سے ایک فیصلہ کن لمحہ آیا ہے جو کہ بر صغیر کی تقسیم کے بعد سب سے بڑا واقع ہے جس نے کشمیریوں کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ تمام واقعات عمران خان کے دور حکومت میں ہوئے ہیں۔ ہم اس حوالے پاکستانی ریاست کو کسی قسم کا الزام نہیں دے سکتے  کیونکہ ماضی میں بھی پاکستانی حکومتیں اپنی حکمت عملی کے تحت مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے اجاگر کرتی رہی ہیں۔ مگر اس وقت ہم موجودہ تناظر میں جائزہ لیں تو گزشتہ ایک صدی سے ہم وہیں پر  کھڑے ہیں۔

آج ورلڈ آرڈر برطانیہ کی بجائے امریکہ کے پاس ہے۔ آج ایک کروڑ کشمیری زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ شریف مکہ کی جانشین سلطنتیں محض مودی کے کشمیریوں کے خلاف بھیانک مظالم کی حمایت کے اظہار کیلئے اسے القابات و خطابات و انعامات سے نواز رہی ہیں۔ ہمیں جمعہ کے جمعہ ہفتہ وار آدھے گھنٹے کے احتجاج کے پر لگا دیا گیا ہے۔ ہم کولہوکے بیل ہیں۔ایک صدی سے دس فٹ مدار کے ایک دائرے میں چکر لگا رہے ہیں۔ ہم سامراجی ایجنڈے کی تکمیل کیلئے بچوں سمیت دوسروں کی آگ میں کود جاتے ہیں۔اپنے آپ کو، اپنے طرزِ حیات کو، اپنے بچوں کے مستقبل کو، اپنی آنے والی نسلوں کو داؤ پر لگادیتے ہیں اور اسے تزویری گہرائی کانام دیتے ہیں۔ ہم کرشن چندر کے افسانے کفن چور کا مرکزی کردار ہیں۔

سیاسی اور سفارتی محاذ پر ہماری کمزوری کی وجہ ہماری معیشت ہے کیونکہ ہم کسی دوسرے ملک کو ویلیو ایڈیٹ اشیاء اور مشینری فروخت نہیں کر سکتے ہیں یوں بھی اس ساری تجارت کے خلا کو بھارت نے میڈل ایسٹ اور سعودی عرب میں پر کر دیا ہے۔ دونوں ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں جس میں سب سے اہم مسئلہ تیل کی تجارت ہے۔ ہم نے عرب ممالک کیلئے کوئی خدمات سر انجام دی ہیں تو وہ محض دفاعی نویت کی ہی ہیں جس کیلئے ہم نے پیسے لئے ہیں۔ اس طرح ہمارا ان پر کوئی احسان نہیں ہے۔ لہذا وہ ملک جو کہ اقتصادی طور پر ترقی یافتہ اور خوشحال ہوں وہ ہی کسی دوسرے ملک کو کچھ دینے اور لینے کی پوزیشن میں ہوتا ہے۔ہمارے ساتھ ایسا کوئی معاملہ نہیں ہے۔ ہم نے70سال تک جھوٹ پر مبنی مفروضوں کے ذریعے بیانیہ پروان چڑھائے ہیں۔

 امیر عرب شیوخ کی امداد  اسلامی بھائی چارہ کے فروغ کی بجائے محض اپنے مفادات کی تکمیل تھا۔ جس کے تحت جہاد افغانستان کے دوران ہزاروں مدارس قائم کئے گئے تھے۔ جہاں پر سائنس دان انجیئنئر تو نہیں پیدا ہوئے  بلکہ ایسے نوجوان سامنے ہیں جنہوں نے یہاں پر مذہبی اور فرقہ وارانہ منافرتوں میں اضافہ کیا ہے۔پاکستان کی بقا اور ترقی صرف سائنس اور ٹیکنالوجی کے حصول سے وابستہ ہے۔ اخلاقی ٹوٹکے ہمیں زوال کی طرف ہی لے جا سکتے ہیں۔