سعودی اتحاد کی حوثی ٹھکانوں پر بمباری، 100 افراد ہلاک

  • سوموار 02 / ستمبر / 2019
  • 5900

یمن میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے مبینہ طور پر حوثی باغیوں کے حراستی مراکز پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم سو افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سعودی اتحاد کی جانب سے یہ کارروائی جنوب مغربی صوبے دھامر میں اتوار کو کی گئی۔ متاثرہ علاقے کا دورہ کرنے والے یمن میں ریڈ کراس کے سربراہ فرینز راشینٹن نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حراستی مراکز میں زندہ بچ جانے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔

ریڈ کراس کے مطابق مبینہ حراستی مرکز میں موجود افراد کی تعداد 170 تھی جن میں سے 40 زخمیوں کا علاج کیا جا رہا ہے جب کہ دیگر کے بارے میں خیال ہے کہ وہ اس کارروائی میں مارے گئے ہیں۔

یمنی حکام کا کہنا ہے کہ اتحادی افواج نے اتوار کو ایک کالج کو نشانہ بنایا جسے حوثی باغیوں حراستی مرکز کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔ اتحادی افواج نے حراستی مراکز کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے حوثی باغیوں کے زیر استعمال فوجی مرکز کو نشانہ بنایا ہے۔

سعودی اتحاد کے اس حملے کو گزشتہ ایک سال کے دوران سب سے بڑی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔ سعودی اتحاد کو اسکولوں، اسپتالوں اور شادی کی تقریبات کے دوران بمباری پر عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا بھی رہا ہے۔ یمن میں جنگ کا آغاز 2015 میں اس وقت ہوا تھا جب ایران نواز حوثی باغیوں نے عالمی حمایت یافتہ یمنی حکومت کا تختہ الٹ کر دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا تھا۔

حوثی باغیوں نے صدر منصور ہادی کا تختہ الٹ دیا تھا تاہم سعودی عرب نے منصور ہادی کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ سعودی اتحاد کی جانب سے آئے روز حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر کارروائی کی جاتی ہے جب کہ حوثی باغی بھی وقتاً فوقتاً سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں میزائل اور ڈرون حملے کرتے رہتے ہیں۔

چار سال سے جاری لڑائی کے دوران اب تک ہزاروں افراد ہلاک جبکہ لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ نے یمن جنگ کے باعث بڑا انسانی المیہ جنم لینے کا بھی خدشہ ظاہر کیا تھا۔