ویڈیو اسکینڈل میں ناصر جنجوعہ سمیت 3 ملزمان گرفتار
- سوموار 02 / ستمبر / 2019
- 4760
وفاقی تحقیقاتی ادارے نے جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس میں مرکزی ملزم ناصر جنجوعہ سمیت 3 افراد کو ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست خارج ہونے کے بعد گرفتار کرلیا۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی سائبر کرائم عدالت میں جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس کے مرکزی ملزم ناصر جنجوعہ اور خرم یوسف کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ سائبر کرائم عدالت کے جج طاہر محمود نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت وکیل صفائی نے بتایا کہ ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق ناصر بٹ نے ویڈیو ریکارڈ کروائیں اور ویڈیو ریکارڈنگ کا منصوبہ انہوں نے خود ہی بنایا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ میرے موکل کا ویڈیو سے کوئی تعلق نہیں۔ اس پر جج نے استفسار کیا کہ کیا اس رپورٹ میں کہی بھی ناصر جنجوعہ کا نام لیا گیا؟ جس پر انہیں بتایا گیا کہ رپورٹ میں کہی بھی ایسا نہیں لکھا جس سے میرے موکل پر کوئی الزام لگایا گیا ہو۔ وکیل صفائی نے بتایا کہ میرے موکل کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کیے گئے سوائے اس کے کہ درخواست گزار نے انہیں نامزد کیا ہے۔ اگر موکل کے ضمانتی مچلکے جمع ہو جاتے ہیں تو وہ تحقیقات میں شامل ہو کر خود کو بے گناہ ثابت کرتے۔
دوران سماعت راجا رضوان عباسی نے عدالت کو بتایا گیا کہ جج ارشد ملک کی جو ویڈیو بنائی گئی وہ جاتی امرا اور مختلف جگہوں پر بنائی گئی تھیں۔ ویڈیو پبلک کرنے کا جو الزام لگایا گیا، اس میں میرے موکل شامل نہیں، ویڈیو پبلک کرنے کے خلاف جو ایف آئی آر درج کی گئی اس میں میرے موکل کا نام شامل نہیں۔
اس دوران ایف آئی اے پراسیکیورٹر نے کہا کہ ملزمان سے تفتیش کرنی ہے، خدشہ ہے کہ ملزمان فرار یا روپوش ہو سکتے ہیں۔ بعد ازاں عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر ناصر جنجوعہ اور خرم یوسف کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست خارج کر دی، جس کے بعد ایف آئی اے نے انہیں گرفتار کرلیا۔
ویڈیو اسکینڈل میں میاں طارق کو جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا جہاں جج عائشہ کنڈی نے ملزم کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کردی۔ عدالت نے میاں طارق کو 16 ستمبر کو دوربارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
واضح رہے کہ 6 جولائی کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز پریس کانفرنس کے دوران العزیزیہ اسٹیل ملز کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ارشد ملک کی مبینہ خفیہ ویڈیو سامنے لائی تھیں۔ اس میں مبینہ طور پر جج ارشد ملک، مسلم لیگ (ن) کے کارکن ناصر بٹ سے ملاقات کے دوران نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنس سے متعلق گفتگو کر رہے تھے۔
مریم نواز نے بتایا تھا کہ ویڈیو میں نظر آنے والے جج نے فیصلے سے متعلق ناصر بٹ کو بتایا تھا کہ 'نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، فیصلے کے بعد سے میرا ضمیر ملامت کرتا رہا اور رات کو ڈراؤنے خواب آتے ہیں، لہٰذا نواز شریف تک یہ بات پہنچائی جائے کہ ان کے کیس میں جھول ہوا ہے‘۔
تاہم ویڈیو سامنے آنے کے بعد احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے خود پر لگنے والے الزامات کا جواب دیا تھا اور ایک پریس ریلیز جاری کی تھی۔ اور الزامات کی تردید کی تھی۔