بھارتی قونصلر کی جاسوس کلبھوشن یادیو کے ساتھ ملاقات

  • سوموار 02 / ستمبر / 2019
  • 4470

پاکستان نے زیر حراست بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو ویانا کنونشن کے تحت آج قونصلر رسائی دے دی۔  بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر گورو اہلوالیہ  نے دفتر خارجہ میں کلبھوشن یادیو سے ملاقات کی۔

اطلاعات کے مطابق بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر گورو اہلووالیہ، ویزا افسر اور زیر حراست بھارتی جاسوس کے درمیان سب جیل میں یہ ملاقات 2 گھنٹے تک جاری رہی۔ ذرائع کے مطابق کمانڈر کلبھوشن یادیو سے ملاقات کیلئے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو نامعلوم مقام لے جایا گیا۔ اس ملاقات میں پاکستان کی جانب سے وزارت خارجہ کی ڈائریکٹر جنرل بھارتی امور فریحہ بگٹی بھی موجود تھیں۔

حکام کا کہنا تھا کہ ملاقات عالمی عدالت انصاف کی جانب سے کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی کی فراہمی کے فیصلہ کی روشنی میں کروائی گئی۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بھارتی عہدیدار نے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے اُمید ظاہر کی تھی کہ عالمی عدالت انصاف کی ہدایات کی روشنی میں پاکستان ملاقات کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے گا تاکہ ملاقات آزاد، معنی خیز اور موثر طور پر ہوسکے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے ٹوئٹر پر اعلان کیا تھا کہ بھارتی جاسوس کو ویانا کنونشن کے تحت 2 ستمبر کو قونصلر رسائی دی جائے گی۔ گزشتہ ماہ بھی پاکستان نے بھارت کو کلبھوشن یادو کو قونصلر رسائی دینے کی باضابطہ پیش کش کی تھی۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی 'را' کے جاسوس کمانڈر کلبھوشن یادیو کو ویانا کنونشن، عالمی عدالت انصاف کے فیصلے اور پاکستانی قوانین کے تحت رسائی دی جائے گی۔  ٹوئٹ میں واضح کیا گیا تھا کہ ’کلبھوشن یادیو کو 2 ستمبر کو قونصلر رسائی دی جائے گی‘۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا تھا کہ ’پاکستان میں دہشت گردی، جاسوسی اور امن و امان سبوتاژ کرنے پر کمانڈر کلبھوشن یادیو پاکستان کی حراست میں ہی رہیں گے‘۔  واضح رہے کہ رواں سال 17 جولائی کو عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی بریت کی درخواست مسترد کردی تھی۔

عالمی عدالت نے کلبھوشن یادیو کو پاکستانی فوجی عدالت کی جانب سے دیا جانے والا سزائے موت کا فیصلہ منسوخ کرنے اور اسے بھارت کے حوالے کرنے  کی درخواست بھی مسترد کردی تھی۔

بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے لیے کام کرنے والے بھارتی نیوی کے حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن یادیو عرف حسین مبارک پٹیل کو پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 3 مارچ 2016 کو غیرقانونی طور پر ملک میں داخل ہوتے وقت گرفتار کرلیا تھا۔ اس نے اعتراف کیا تھا کہ کہ انہیں ’را‘ کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی اور رابطوں کی ذمہ داری دی گئی تھی۔

کلبھوشن نے یہ بھی کہا تھا کہ 2004 اور 2005 میں انہوں نے کراچی کے کئی دورے کیے تھے، جن کا مقصد 'را' کے لیے کچھ بنیادی ٹاسک سرانجام دینا تھا جب کہ 2016 میں وہ ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہوا۔