کلبھوشن یادیو شدید دباؤ میں ہیں: بھارتی دفترِ خارجہ

  • منگل 03 / ستمبر / 2019
  • 4550

بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے بتایا ہے کہ اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے افسر نے کلبھوشن سے  ملاقات میں واضح ہؤا ہے کہ وہ شدید دباؤ میں ہیں۔

رویش کمار کے بقول یہ ملاقات عالمی عدالت کے 17 جولائی کے فیصلے کے تحت کرائی گئی ہے۔ عالمی عدالت نے حکم دیا تھا کہ بھارتی افسروں کو کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم مفصّل رپورٹ کے منتظر ہیں البتہ یہ واضح ہے کہ یادھو شدید دباؤ میں تھے۔ شدید دباؤ کے باعث وہ پاکستان کے عائد کردہ جھوٹے الزامات کو بھی قبول کر رہے ہیں۔ ہم تفصیلی رپورٹ آنے کے بعد مستقبل کا لائحہ عمل طے کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ وزارتِ خارجہ نے کلبھوشن کی والدہ سے بات کرکے انہیں ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ کیا ہے۔ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کرے گی کہ کلبھوشن کو جلد انصاف ملے اور وہ بحفاظت بھارت واپس آجائیں۔

دوسری جانب پاکستان کے دفترِ خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ کلبھوشن یادیو کو آج عالمی عدالت کے فیصلے کی روشنی میں قونصلر رسائی دی گئی ہے۔ بھارت کے ڈپٹی کمشنر گورواہلو والیانے کلبھوشن یادھو سے ملاقات کی ہے جو تقریباً دو گھنٹے جاری رہی۔

دفترِ خارجہ کے مطابق ملاقات میں پاکستانی حکام بھی موجود تھے اور یہ ملاقات بلا تعطّل اور کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہی۔ ملاقات میں ہونے والی گفتگو کو ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے متعلق بھارتی حکام کو پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا۔  دفترِ خارجہ کے بیان کے مطابق ملاقات میں گفتگو کی زبان پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی تھی۔

پاکستان نے جاسوسی کے الزام میں قید بھارتی شہری کلبھوشن یادیو کو عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے مطابق سوموار کو دوپہر 12 بجے قونصلر رسائی دی تھی۔ بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر گورو اہلووالیا سے کلبھوش یادیو کی ملاقات نامعلوم مقام پر کروائی گئی جسے سب جیل کا درجہ دیا گیا تھا۔

دو گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات کے دوران پاکستان کی جانب سے بھارتی امور کی ڈائریکٹر فریحہ بگٹی بھی موجود تھیں۔

پاکستان نے تین مارچ 2016 کو پاکستان اور ایران کی سرحد کے قریب بلوچستان سے کلبھوشن یادیو کو گرفتار کیا تھا۔ پاکستان نے الزام عائد کیا تھا کہ کلبھوشن یادیو بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر اور بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے لیے کام کرتا ہے۔ بھارت نے پاکستان کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ کلبھوشن یادیو ریٹائرڈ نیوی افسر ہے اور ایران میں قیمتی پتھروں کا کاروبار کرتا ہے۔

پاکستان میں اس پر مقدمہ چلایا گیا اور 10 اپریل 2017 کو فوج کے فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے اسے سزائے موت سنا دی۔