طالبان نے کابل دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی
- منگل 03 / ستمبر / 2019
- 4760
طالبان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ جس میں ہلاکتوں کی تعداد 16 ہوگئی جب کہ 100 سے زائد افراد زیر علاج ہیں۔
بین الاقوامی تنظیموں کی رہائشی کالونی کے قریب گاڑی میں پیر کو ہونے والا دھماکہ اس وقت ہوا جب امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے والے مجوزہ معاہدے کی تفصیلات افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکیٹو عبداللہ عبداللہ کو دکھانے کابل پہنچے تھے۔
افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی کا کہنا ہے کہ دھماکہ مشرقی کابل میں رہائشی کمپاؤنڈ 'گرین ویلیج' کے قریب بارود سے بھرے ٹریکٹر کے ذریعے کیا گیا۔ جہاں امدادی تنظیموں سمیت بین الاقوامی گروپوں کا غیر ملکی عملہ رہائش پذیر ہے۔
نصرت رحیمی کا مزید کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے 400 غیر ملکیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔ جب کہ سکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں کو جوابی کارروائی میں ہلاک کردیا ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ دھماکے میں غیر ملکی افواج کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اُن کا مزید کہنا ہے کہ گاڑی میں سوار خود کش بمبار نے خود کو اڑایا۔ جس کے بعد حملہ آوروں نے کمپاؤنڈ پر دھاوا بول دیا۔
طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا اپنی ایک ٹوئٹ میں کہنا ہے کہ دھماکے میں عام شہریوں کو نشانہ بننے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد کا ایک ٹی وی انٹرویو میں کہنا تھا کہ اگر طالبان ضمانت دیتے ہیں کہ افغانستان امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر حملوں کے لیے استعمال نہیں ہوگا تو پانچ ہزار کے لگ بھگ امریکی فوج کو افغانستان سے نکال لیا جائے گا اور پانچ امریکی اڈے بند کر دیے جائیں گے۔
کابل میں پیر کو ہونے والے خودکش حملے سے قبل شمالی شہر قندوز اور پلے خمری میں بھی حملے ہوئے تھے جس کے بعد امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے سے متعلق خدشات میں اضافہ ہورہا ہے۔