طالبان سے معاہدہ کی صورت میں امریکہ پانچ فوجی اڈے خالی کردے گا: زلمے خلیل زاد

  • منگل 03 / ستمبر / 2019
  • 4790

طالبان کے ساتھ معاہدے میں کلیدی کردار ادا کرنے والے امریکی سفیر زلمے خلیل زاد نے افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی اور انہیں عسکریت پسند گروپ کے ساتھ مجوزہ معاہدے کا مسودہ دکھایا۔ اس کے مطابق امریکی فوج 135 روز کے اندر افغانستان میں پانچ فوجی اڈے خالی کردے گی۔

زلمے خلیل زاد دوحہ میں طالبان کے ساتھ ایک سال سے مذاکرات کررہے ہیں، جس کے 9 دور مکمل ہوچکے ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد افغانستان میں جاری 18 سالہ طویل امریکی جنگ کا خاتمہ کرنا ہے۔

امریکی سفیر زلمے خلیل زاد قطری دارالحکومت دوحہ میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے نویں دور کے بعد گزشتہ روز کابل پہنچے تھے۔ حکام کا کہنا تھا کہ انہوں نے افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی اور انہیں امریکا وطالبان معاہدے کا مسودہ دکھایا۔

ملاقات کے بعد افغان صدر کے ترجمان صادق صدیقی نے صحافیوں کو بتایا کہ 'امریکا اور دیگر شراکت داروں کی کوششوں کے نتائج اس وقت برآمد ہوں گے جب طالبان براہ راست افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہوجاتے ہیں، ہمیں امید ہے کہ یہ کوششیں تنازعات کے خاتمے کا باعث بنیں گی'۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ 'سب سے اہم یہ ہے کہ طالبان کے تشدد کو روکا جائے، ہم پرامید ہیں کہ امریکا اور طالبان کے درمیان کوئی بھی معاہدہ امن اور جنگ بندی کا سبب ہوگا'۔

افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ انہیں بھی 'افغانستان میں مکمل اور پائیدار امن' کے بارے میں بریفنگ اور یقین دہانی کروائی گئی ہے۔

اکبتہ ایک طرف معاہدہ حتمی مراحل میں داخل ہورہا ہے لیکن دوسری طرف افغانستان بھر میں پرتشدد واقعات جاری ہیں۔ 31 اگست کو طالبان نے قندوز شہر پر قبضے کے لیے شمال سے حملہ کیا جبکہ انہوں نے بغلان صوبے کے دارالحکومت پل خمری میں بھی آپریشن کا آغاز کردیا تھا۔ گزشتہ روز کابل میں ایک دھماکہ میں 16 افراد ہلاک ہوگئے۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان امن سمجھوتے کے مسودہ  کے مطابق معاہدہ پر  دستخط کے  135 دن کے اندر امریکی فوج افغانستان میں پانچ فوجی اڈے خالی کر دے گی۔ زلمے خلیل زاد نے پیر کو افغانستان کے سب سے بڑے ٹیلی ویژن چینل ’ٹولو نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان پانچ فوجی اڈوں سے 5,000 امریکی فوجی واپس بلا لیے جائیں گے۔ اس وقت افغانستان میں لگ بھگ سات فوجی اڈوں میں 14,000 امریکی فوجی تعینات ہیں۔

اس سے قبل افغان صدر کے ترجمان نے ترجمان نے مسودے کی تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا تھا۔  تاہم اُن کا کہنا تھا کہ افغان حکومت مسودے کی تفصیلات کا بغور جائزہ لے کر خلیل زاد کی ٹیم کو آگاہ کرے گی۔ ترجمان صادق صدیقی کا کہنا تھا کہ اس کام میں دو دن لگ سکتے ہیں جس کے بعد وہ خلیل زاد اور اُن کی ٹیم کو اپنے تاثرات سے آگاہ کریں گے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی سربراہی میں ہونے والے ان مذاکرات کے نتیجے میں طالبان کی کارروائیاں ختم ہو جائیں گی جس کے بعد افغان حکومت اور طالبان کے درمیان براہ راست بات چیت ہو گی۔ افغان صدارتی ترجمان کے بیان پر طالبان کی طرف سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ طالبان افغان حکومت سے براہ راست بات چیت سے مسلسل انکار کرتے رہے ہیں۔ وہ اسے ناجائز اور امریکہ کی کٹھ پتلی حکومت سمجھتے ہیں۔

زلمے خلیل زاد نے اتوار کو ایک ٹوئٹ کے ذریعے کہا تھا کہ انہوں نے قطر میں طالبان کے ساتھ بات چیت کا نواں دور مکمل کر لیا ہے اور وہ افغانستان کے صدر کو اس بات چیت کے نتائج سے آگاہ کرنے کے لیے کابل روانہ ہو رہے ہیں۔ طالبان کے سیاسی ترجمان سہیل شاہین نے بھی اتوار کو اپنی ٹوئٹ میں کہا تھا کہ افغانستان پر غیر ملکی قبضے کا خاتمہ اور افغانستان کے پر امن حل کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں۔