معیشت کو سیاسی کھلوارڑنہ بنائیں
- تحریر افتخار بھٹہ
- منگل 03 / ستمبر / 2019
- 6640
پاکستان میں حکومت کو اس وقت کئی محاذوں پر چیلنجوں کا سامنا ہے۔ مہنگائی میں کمی، معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنا، ڈالر کی قیمت کو نیچے لانا اور نئی سرمایہ کاری کیلئے ترغیبات دینا۔ مگر یہ تمام دعوے خیالی پلاؤ ثابت ہوئے ہیں۔
موجودہ حکومت تمام بد عنوانی کی ذمہ داری سابق حکمرانوں پر ڈالتی رہی ہے جو کہ اب جیل میں بند ہیں۔ حکومت نے اپوزیشن کے لیڈروں کی کرپشن کے بارے میں تصور کو بہترین اجاگر کرتے ہوئے لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھانے کی کوشش کی ہے کہ تمام بد عنوانی اور منی لانڈرنگ سابق سیاسی حکومتوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہے۔دیکھا جائے نہ تو کرپشن میں کمی ہوئی ہے، نہ زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ بلکہ تمام ریاستی امور سابق خامیوں اور خرابیوں کے ساتھ چلائے جا رہے ہیں۔لوگوں کا خیال تھا کہ بد عنوانی پر قابو پانے سے معیشت میں بہتری آئے گی، ان کا اعتماد بحال ہوگا، تجارتی اور صنعتی حلقے متحرک ہوں گے، ایماندار حکومت ٹیکس اصلاحات کے ذریعے حکومتی ذریعے آمدنی میں اضافہ کرے گی۔ مگر ایسا کچھ نہیں ہوا ہے۔
لوگ مہنگائی اور بے روز گار ی کے ہاتھوں پریشان ہیں۔ مارکیٹوں،سرکاری و غیر سرکاری شعبے وہاں پر ہر شخص پریشان ہے۔ خریدو فروخت کا کام ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ پراپرٹی سے متعلق سودے نہ ہونے کے برابر ہیں اور جبکہ اس سے متعلق صنعتیں بھی چل نہیں رہی ہیں۔ تنخواہ دار طبقہ جن کی آمدنی محدود ہے وہ خاصا پریشان ہے۔ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے روپے کی قدر میں 30%کمی ہوئی ہے دوسری مہنگائی میں 25% سے40%اضافہ ہوا ہے۔ بازار میں سبزیاں اور پھل ایک بھاؤ فروخت ہو رہے ہیں۔ چھوٹا اور بڑا گوشت خریدنے کا کوئی غریب تصور ہی نہیں کر سکتا ہے۔دودھ 110روپے ہو گیا ہے جس کی قیمت پانچ سال پہلے 60سے80روپے کلو رہی تھی، ڈبل روٹی کی قیمت35اور60روپے سے بڑھ کر55اور100روپے ہو گئی ہے۔ جبکہ اس کا وزن اور سائز بھی کم کر دیا گیا ہے۔ عام روٹی کی قیمت بھی چھ،آٹھ سے بڑھ کر 12روپے ہو گئی ہے۔ یہی حال بیکری اور مٹھائیوں کی قیمتوں کا ہے۔ عام آدمی کھانے پینے کی اشیاء خریدتے وقت حکومت کو ضرور کوستا ہے۔
پاکستان میں 70سالوں میں اتنی مہنگائی نہیں ہوئی ہے مگر اس سے رشوت کا ریٹ بڑھ گیا ہے۔ ارباب اختیار کو نعروں اور ماضی کی کرپشن کا ڈھول پیٹنے کے علاوہ کوئی کام نہیں ہے۔ لوگ کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ حکومت کارکردگی دکھائے۔ اس ساری صورتحال میں یہ نظر آتا ہے کہ کاروباری طبقہ حکومت سے خفا ہے حکومت کی ایف بی آر اور دیگر محکموں سے ملنے والی دھمکیوں کی وجہ سے خوف زدہ ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ حکومت سیاسی عناد کو الگ رکھے اور کاروباری بحالی کیلئے اقدامات کرے۔کاروبار چلے گا تو معاشی استحکام آئے گا۔ ایف بی آر کے ٹارگٹ پورے ہوں گے۔ خزانہ خالی ہوگا تو ہم ہاتھ پھیلاتے رہیں گے۔ کوئی کام سیدھا نہیں ہوگا۔ دوسری طرف اشیائے ضروریہ کی یک طرفہ قیمتوں میں اضافے کے خلاف ضلعی انتظامیہ کوئی اقدامات نہیں کرتی۔ ہر آدمی اپنی مرضی سے قیمتیں بڑھتا جا رہا ہے۔ اس صورتحال سے پیدا ہونے والی سنگینی اور عوام کے اضطراب میں اضافہ نہیں ہو رہا ہے۔ معلوم ایسے ہوتا ہے حکمران مہنگائی اور بے روز گاری کے ایشوز کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے۔ وہ شائد سوچتے ہیں کہ کرپشن کا ذکر کر کے پانچ سال نکال لئے جائیں گے مگر عوام زیاد ہ دیر ان باتوں کو برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں۔ستم یہ ہے کہ ملک کی مقبول پارٹی مہنگائی اور بے روز گاری کے خلاف آواز نہیں اٹھا رہی۔ جبکہ ملک کی بائیں بازو کی پارٹیاں عوامی مرکز پارٹی، مزدور کسان پارٹی اور لیبر یونین نے مہنگائی اور بے روز گاری کے خلاف احتجاج کئے ہیں۔
لوگ ایسی پالیسیاں چاہتے ہیں جن میں گیس، گھریلوں کھانے پینے کی ایشیاء، صحت کو سستا کیا جائے مگر یہاں علاج معالجے کی سہولتیں لوگوں سے چھین لی گئی ہیں۔ حکومت غریبوں کو کوئی ریلیف دینے کیلئے تیار نہیں ہے وہ آزاد معیشت کی حامی ہے جہاں پر منڈی کی طاقتوں کو قیمتیں طے کرنے کا اختیار ہے۔ مگر پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔ یہاں پر بڑی صنعتوں والے کارٹیل، چیزوں کے ریٹ پول کر دیتے ہیں جس سے انہیں تمام کمپنیوں سے ایک ہی قیمت پر چیزیں ملتی ہیں۔جس سے صنعت کار زیادہ منافع کماتے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت غریب عوام کو تو کچھ ریلیف نہیں دے سکتی مگر اس نے اپنے سیاسی اتحادی صنعت کاروں کے قرضہ جات قومی اسمبلی میں کسی بحث و مباحثہ کے بغیر صدارتی آرڈیننس کے ذریعے207ارب روپے معاف کر دیئے ہیں۔ اس حوالے سے مقدمات عدالت میں زیر سماعت تھے۔ تاثر یہ مل رہا ہے کہ حکومت نے ان کمپنیوں کو ناجائز فائدہ دیا ہے۔ پی ٹی آئی کے راہنماؤں کا کہنا ہے کہ معاف کی گئی وہ رقوم ہے جن کے ٹیکس ناجائز طور پر زرداری اور شریف حکومت نے عائد کئے تھے۔ لگتا ہے حکومت کو فی الحال معیشت کو چلانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
پی ٹی آئی حکومت کا موقف رہا ہے کہ ساری بزنس کمیونٹی چونکہ ٹیکس نہیں دیتی لہذا چور ہے۔ عام شہریوں اور سمال و میڈیم کی کمپنیوں کو اکانومی ڈاکومنٹس کے نام پر ڈرایا گیا تھا، ایف بی آر کے افسران کو اختیارات دیئے جا رہے تھے کہ وہ کسی گھر میں گھس کر ان سے رسیدیں اور ٹیکس کا ثبوت مانگ سکتے ہیں۔ لوگ شناختی کارڈ چھپانے لگے تھے جیسے یہ ان کی اے ٹی ایم مشین ہو۔ ایسا ڈر اور خوف پیدا کیا گیا کہ تمام کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ حکومت اس کام کی تکمیل کیلئے عوام سے تعاون کرتی۔صنعت کاروں کو ترغیبات دیتی۔ مغربی ممالک کے نظام کو دیکھو، ہندوستان سے سیکھو کہ اس نے کس طرح غیر روایتی معیشت کو دستاویزی بنانے کی کوشش کی ہے۔
بچگانہ اور دھمکی آمیز طریقوں سے معاملات کو حل نہیں کیا جا سکتا۔ یاد رہے ہماری معیشت کا ستر فیصد حصہ ان فارمل ہے جو کسی ٹیکس نیٹ ورک میں شامل نہیں ہے۔ مگر آپ نے نہ جانے کیوں ڈاکومنٹیشن کا کام روک لیا ہے۔ اکانومی بجٹ خسارے نام کے اژدہا کے منہ میں چلی گئی ہے۔ خدارا معیشت کی گروتھ کا گلا نہ گھونٹو اس سے ٹیکسوں کی وصولی میں اضافہ ہوتا ہے جس سے حکومت کے اخراجات چلتے ہیں۔ مگر ہم نے اکانومک گرؤتھ کے انجن اکانومی پر اتنی ضربیں لگائی ہیں کہ اس نے کام کرنا ہی چھوڑ دیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو تاریخ کے بد ترین مالی خسارے 8.9%کا سامنا ہے حکومت کے سابق مشیر ڈاکٹر اشفاق حسن کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں اتنا زیادہ خسارہ نہیں دیکھا ہے۔ وزارت خزانہ خرچ پر قابو پانے پر توجہ نہیں دے رہی جبکہ حکومتی آمدن تاریخ کی کم ترین سطح کی جانب جا رہی ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے ڈسکاؤنٹ ریٹ میں اضافے سے 11کھرب 6ارب روپے سود کی ادائیگی سامنے آئی ہے جس میں 10کھرب 20ارب کے اندرونی اور900ارب کے بیرونی ادائیگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ترقیاتی اخراجات 45%کم کئے گئے ہیں مگر اس بار خسارے میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے آتے ہی پالیسی ریٹ 7.5%سے13.20%بڑھا دیا ہے جبکہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہونے سے سود اور قرضوں کی رقوم بڑھی ہیں۔
محسوس ایسے ہوتا ہے حکومت کے ماہرین معاشیات کے پاس ساری صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے کوئی لائحہ عمل موجود نہیں ہے۔ حکومت کو اپنے سیاسی مفادات کی خاطر معاشی ترجیحات کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے کہ وہ اس طرح ملک کے معاشی مستقبل سے کھیل رہی ہے۔اور شائد ملک کی تاجر برادری کو نواز شریف کی حمایت کی سزا دینا چاہتی ہے۔