اقتدار کا ایک برس

عمران خان نے بہت زیادہ توقعات بڑھا کر اقتدار حاصل کیا تھا او ران کا دعوی تھا کہ وہ اقتدار سنبھالتے ہی ”تبدیلی“ کا ایک ایسا منظر پیش کریں گے جو ماضی کے مقابلے میں بہتر اور نمایاں ہوگا۔ البتہ حزب اختلاف اور حزب اقتدار کی سیاست میں بنیادی حقائق  ایک دوسرے سے کافی مختلف ہوتے ہیں۔

 جذباتیت پر مبنی سیاست  لوگوں میں ہیجانی کیفیت تو پیدا کرسکتی ہے، لیکن مسائل کے حل میں وہ معاون ثابت نہیں ہوتی۔یہ بات بھی کافی حد تک سچ ثابت ہوئی ہے  کہ  عمران خان نے ہوم ورک کے بغیر وعدے کئے تھے۔ وہ  محض خوش فہمی کی سیاست تھی۔کیونکہ اقتدار ملنے کے بعد ہمیں کوئی ایسا ہوم ورک نظر نہیں آیا جو حکمرانی کے نظام کو موثر بناپاتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان اور تحریک انصاف کو ایک مشکل صورتحال میں اقتدار ملا ہے او ران ہی مصائب او رمشکلات میں ہی ان کو مسائل کا حل تلاش کرنا تھا۔یہ سوچ اور فکر تو پی ٹی آئی کو پہلے معلوم ہوناچاہیے تھی کہ مسائل کیا ہیں اور اگر ہم اقتدار میں آتے ہیں تو ان مسائل کو کیسے نمٹ سکیں گے۔مسائل کے حل کے لیے خواہش کا موجود ہونا اہم ہوتا ہے، مگر اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہوتا ہے کہ آپ کو اپنی ان خواہشات پر عملدرآمد کرنے کی کتنی صلاحیت موجود ہے۔ کیونکہ محض خواہشات پر دنیا نہیں بدلتی بلکہ اس کے لیے کچھ کرنے اور دکھانے کے لیے بہت کچھ ہاتھ میں ہونا چاہیے۔

عمران خان نے جب اقتدار سنبھالا تو ان کے چند بنیادی نکات تھے۔ اول احتساب اور جوابدہی کے عمل کو شفاف بنانا، دوئم ادارہ جاتی اصلاحات کا عمل، سوئم معاشی بحران کا حل، چہارم حکمرانی کے نظام کو موثر بنانے کے لیے مضبوط مقامی حکومتوں کا نظام، پنجم پولیس کے نظام میں اصلاحات کا عمل، میں،ششم کمزور طبقات کو سیاسی، سماجی او رمعاشی عمل میں مضبوط بنانا شامل تھا۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے پہلے 100 دنوں میں بھی بہت کچھ تبدیل کرنے کا دعوی کیا، جو عملی طو رپر حقائق کے برعکس تھا۔پہلے 100دنوں میں اس بات کا اندازہ تو کیا جاسکتا ہے کہ حکومتی ترجیحات درست سمت میں ہیں یا نہیں، لیکن کوئی بڑی تبدیلی کا عمل ممکن نہیں ہوتا۔اسی طرح پچاس لاکھ گھروں اور ایک  کروڑ نوکری کے دعوے میں بھی جذباتی عمل ذیادہ تھا۔

ایک برس کے اقتدار کے بعد ہم مجموعی طور پر حکومت کو ناکام یا کامیاب قرار دنہیں دے سکتے۔ کیونکہ حکومت کے پاس تبدیلی کے لیے پانچ برس کا مینڈیٹ ہے۔لیکن پہلے برس کے تجزیے کے بعد یہ اندازہ ضرور لگایا جاسکتا ہے کہ حکومتی سمت کدھر جارہی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں میں مشکل حالات کے باوجود ایک امید کا پہلو قائم ہونا چاہیے کہ حکومت مشکلات کے باوجود عام آدمی کے مفاد سے جڑی سیاست کررہی ہے۔حکومت کو کسی بھی سطح پر کوئی بڑا خوف حزب اختلاف کی جماعتوں سے نہیں بلکہ اپنی حکمرانی کے داخلی مسائل او ربالخصوص معاشی بحران سے ہے۔حکومت اگر واقعی موجودہ معاشی بحران سے نمٹ لیتی ہے تو یہ ہی اس کی بڑی کامیابی کی ضمانت ہوسکتی ہے او رلوگوں کی موجودہ حالات میں بڑی توقعات بھی معاشی بحران کے حل سے جڑی ہوئی ہیں۔

حکمرانی کے نظام کے تین اہم حصے ہوتے ہیں جن میں لانگ ٹرم، مڈٹرم اور شارٹ ٹرم منصوبہ بندی کا عمل ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت نے لانگ ٹرم کو بنیاد بنا کر بہت سے منصوبے شروع کیے ہوئے ہیں جن میں تعلیم، صحت، ماحولیات، معاشیات، ادارہ جاتی عمل، روزگار پیدا کرنے، گھروں کی تعمیر، کمزور طبقات جن میں معذور افراد، خوا جہ سرا، بیوہ، یتیم سمیت کئی سطح کے غربت سے نیچے زندگی گزرانے والے افراد کے لیے مختلف منصوبے شامل ہیں۔لیکن حکومت کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے پاس شارٹ ٹرم منصوبے یا فوری طور پر عام آدمی کو ریلیف دینے کے حوالے سے کوئی ٹھوس منصوبہ نظر نہیں آیا۔ معاشی سطح پر جاری خوف کی کیفیت نے لوگوں کو ڈراکر رکھ دیا ہے او روہ سرمایہ کاری کے لیے پیسے باہر نکالنے کے لیے تیار نہیں۔ اسی طرح ٹیکسوں کی بھرمار نے عام آدمی کی زندگی میں لاتعداد مسائل پیدا کیے ہیں۔ یہ بات حکومت کو سمجھنی ہوگی کہ ڈنڈے اور خوف کی بنیاد پر معاشی ترقی کا عمل ممکن نہیں ہوتا۔

عمران خان نے بطور وزیر اعظم مقامی نظام حکومت اور پولیس نظام میں جن بڑح اصلاحات کی بات کی تھی اس میں اب سمجھوتے کی سیاست غالب نظر آتی ہے۔ پی ٹی آئی کی پنجاب اور خیرپختونخواہ میں براہ راست صوبائی حکومتیں ہیں اور یہاں مقامی نظام حکومت مفلوج ہے او ر جو اس نظام میں اصلاحات کی گئی ہیں وہ کافی کمزور نظر آتی ہیں۔ پنجاب میں پولیس نظام میں مکمل سمجھوتہ ہے اور پنجاب کی طاقت ور سیاسی  انتظامی قیادت پولیس اصلاحات کے لیے تیار نہیں۔معاشی عمل میں اسد عمرپر مبنی پہلی ٹیم کی ناکامی کے بعد دوسری ٹیم جو ماہرین پر مشتمل ہے جس میں سیاسی چہرے کم ہیں وہ ابھی تک لوگوں کو کسی بھی سطح پر معاشی ریلیف دینے میں ناکام نظر آتی ہے۔

پی ٹی آئی حکومت کو تین بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ وزیر اعظم کی وفاقی اور صوبائی ٹیم کا چناؤ جس میں میرٹ سے زیادہ اقرباپروری کا عمل کا غلبہ او ر یہ ٹیم انقلابی سے زیادہ روائتی او رپرانے نظام کی حامی اور تبدیلی کے حق میں نہیں۔ دوئم معاشی میدان میں عام آدمی کو طاقت فراہم کرنے میں بنیادی نوعیت کے فیصلے جو براہ راست اور فوری طور پر لوگوں کا حکمرانی کے نظام میں اعتماد بڑھاسکیں۔سوئم ادارہ جاتی عمل میں اصلاحات کے داخلی یعنی بیوروکریسی کے محاذ پر شدید مشکلات کا سامنا۔چہارم جو بہتر کام ہو بھی رہے ہیں اس محاذ پر ان کی میڈیا سے جڑی ٹیم کی ناکامی کا پہلو بھی نمایاں ہے او ریہ ٹیم حکومتی اچھے کاموں کی بہتر طو رپر تشہیر بھی نہیں کرسکی۔ اس کی بڑی وجہ میڈیا ٹیم میں موجود گروہ بندی اور غلط افراد کا چناو ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کو سمجھنا ہوگا کہ ان کی سیاسی وکٹ روائتی سیاست نہیں ہے اور اگر انہوں نے واقعی کچھ کرنا ہے تو مختلف محاذ پر غیر معمولی اقدامات او رکڑوی گولیوں کی مدد سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ایک برس کے بعد اب موقع ہے کہ وہ اپنی سیاسی غلطیوں کا جائزہ بھی لیں اور تسلیم کریں ان سے کافی غلطیاں  ہوئی ہیں۔ ان غلطیوں کو بنیاد بنا کر بہتری کی طرف آگے بڑھنا ہوگا اور خاص طور پر سیاسی چہروں او رپی ٹی آئی کی اصل طاقت کو میدان کا حصہ بنانا ہوگا۔یہ جو جو تاثر دن بد ن مضبوط ہوتا جارہا ہے کہ حکومت کے پاس معاشی میدان میں عام آدمی کو ریلیف دینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے اس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ اس کی واحد شرط یہ ہی ہے کہ حکومت کے اقدامات میں عملی طو رپر عام آدمی کو کسی نہ کسی شکل میں ریلیف ملنا بھی چاہیے او ر نظر بھی آنا چاہیے۔

وزیر اعظم عمران خان کو سمجھنا ہوگا کہ اگلا برس ان کی حکومت کا سب سے اہم امتحان ہے۔ یہاں بلا وجہ کے نئے نئے تجربات کی بجائے ان ٹھوس اقدامات پر عملی اقدام اٹھائے جائیں جو حکمرانی کے نظا م کی اشد ضرورت ہے۔ سمجھوتے پر مبنی حکمرانی کے نظام نے ان کی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے او راس نظام میں ان کو ایسا کچٖھ کرکے دکھانا ہوگا جوان کی حکمرانی کی ساکھ کو بہتر بناسکے۔جو بھی اقدامات اب تک وفاق اور پنجاب سمیت خیبر پختونخواہ میں اٹھائے گئے ہیں جن میں نئی پالیسیاں، قانون سازی اور نئے منصوبے شامل ہیں ان کی کڑی نگرانی ہونی چاہیے جو موثر نتائج کی صورت میں سامنے آسکیں۔

ایک برس میں احتساب کا عمل بھی کمزور ہے او رجو نتائج نظر آنے چاہیے تھے اس کی کمی نظر آتی ہے۔ احتساب کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں او ریہ عمل محض حکومت مخالف جماعتوں تک ہی موجود ہے۔اسی طرح حکومتی وزرا کے درمیان بھی جو باہمی چپقلش ہے وہ بھی ان کی حکمرانی کے نظام کو عدم استحکام دیتی ہے۔بعض وزرا کا انداز نہ صرف غیر سیاسی ہے بلکہ وہ خود اپنی ہی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔اس لیے اب وقت ہے کہ ایک برس کی حکومت کا دیانت داری سے تجزیہ کرکے مستقبل کی طرف موثر انداز میں پیش قدمی کی جائے او راس تاثر کو عملی اقدامات کی بنیاد سے ہی مضبوط بنایا جاسکتا ہے کہ پی ٹی آئی مشکل صورتحال میں مستقبل کے تناظر میں درست سمت میں چل رہی ہے جو اگلے برس بہتر نتائج دے سکے گی۔