پاکستان وقت پر کرتارپور راہداری کھول دے گا: وزارت خارجہ

  • بدھ 04 / ستمبر / 2019
  • 5330

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ پاکستان گرو نانک کے 550 ویں جنم دن کے موقع پر سکھ یاتریوں کے لیے کرتارپور راہداری کھول دے گا۔ تاہم بھارت اپنے نامکمل کام کا خود ذمہ دار ہے۔

بھارتی وفد سے کرتار پور راہداری پر بات چیت کے تیسرے دور کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا کہ کشمیر کی حالیہ کشیدگی کے باوجود ان کی یہ بات چیت مثبت رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان بات چیت کا تمام محور کرتارپور راہداری ہی رہا۔

فریقین نے کرتارپور راہداری کو فعال بنانے کے لیے مسودے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔ تاہم اس معاملے میں ابھی 2 سے 3 نکات پر متفق ہونا باقی ہے جبکہ زیادہ تر رکاوٹیں دور کرلی گئی ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مقامی اور بین الاقوامی سکھ یاتری بھی کرتارپور جائیں گے۔ بھارت کے کم از کم 5 ہزار سکھ یاتریوں کی پاکستان آمد پر رضامندی کا اظہار کیا گیا ہے لیکن اگر تعداد زیادہ ہوگئی تو بھی پاکستان قبول کرے گا۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا کہ گنجائش کے مطابق جتنے بھی یاتری بھارت سے پاکستان آئیں گے انہیں بھی خوش آمدید کہا جائے گا۔  ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نومبر میں گرو بابا نانک کے جنم دن کے موقع پر اپنی جانب سے کرتار پور راہداری کا افتتاح کردے گا۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے رواں ماہ کے دوران ہی میڈیا نمائندوں کو کرتارپور راہداری کا دورہ کروایا جائے گا اور وہاں موجود سہولیات کے بارے میں بریفنگ  دی جائے گی۔  یاتریوں کی آمد سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ بھارت سے سکھ یاتری بسوں کے ذریعے پاکستان آئیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی سرحد کے اندر وفاقی تحقیقاتی ادارے  کی ڈیوٹی ہوگی۔ ویزا کی غیر موجودگی میں یاتریوں کی شناخت کے لیے انہیں کارڈ فراہم کیے جائیں گے۔ مذہبی رسومات پوری کرنے کے بعد یاتری ایک ہی دن میں واپس بھارت چلے جائیں گے۔

ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ مذاکرات سرحد پر ‘زیرو پوائنٹ‘ کے معروف مقام پر منعقد ہوئے اور ’بات چیت میں اچھی پیش رفت ہوئی‘۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ بھارتی سکھ یاتریوں کے گردوارا کرتارپور صاحب آنے کے لیے ویزا فری راہداری کی تعمیر سے متعلق زیادہ تر ’تکنیکی امور‘ حل ہوچکے ہیں۔

کرتارپور صاحب نارووال سے 4 کلومیٹر کے فاصلے پر پاک بھارت سرحد کے قریب ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جہاں سکھ مذہب کے بانی گرو نانک نے اپنی زندگی کے آخری 18 سال گزارے تھے۔ ہر سال نومبر میں پاکستان کے علاوہ بھارت سمیت پوری دنیا سے سکھ یاتری بابا گرو نانک صاحب کے جنم دن کے موقع پر یہاں مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے آتے ہیں۔