پاکستان جد و جہد آزادی مین کشمیریوں کے ساتھ ہے: ترجمان پاک فوج
- بدھ 04 / ستمبر / 2019
- 6130
پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاک فوج جدوجہد آزادی میں کشمیریوں کے ساتھ ہے۔ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل آج ایک پریس بریفنگ میں بھارت پر جنگی جنون پیدا کرنے کا الزام بھی لگایا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا 72 سال کشمیریوں نے بھارتی دہشت گردی کا مقابلہ کیا ہے۔ پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ آپ کی ثابت قدمی کو سلام ہے۔ ہمیں آپ کی موجودہ مشکلات کا بھرپور احساس ہے۔ ہم آپ کے ساتھ کھڑے تھے، کھڑے ہیں اور انشااللہ کھڑے رہیں گے۔ ہمیں رب سے امید ہے کہ آپ اپنا جائز حق خود ارادیت حاصل کرکے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم ثابت قدم رہیں۔ آزادی کی جدوجہد بہت لمبی ہوتی ہے۔ پاکستان کی آزادی کی جدوجہد 1947 میں شروع نہیں ہوئی تھی بلکہ اس کا آغاز 1857 سے ہوگیا تھا۔ اتنی لمبی جدوجہد کرکے ہم نے پاکستان حاصل کیا اور کشمیر کے لیے بھی اس جدوجہد پر نہ کوئی سمجھوتہ ہوگا اور نہ اس میں کوئی کمی آئے گی۔
میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کی افواج اس کی خودمختاری اور سلامتی کی محافظ ہوتی ہیں۔ اگر قومی طاقت کے دوسرے عناصر مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و ستم کو روکنے کی کوششوں میں کامیاب نہیں ہوتے تو جنگ لڑنا مجبوری میں ایک آپشن بن جاتا ہے اور پھر کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے۔ اس کے لیے ہم کوئی بھی قدم اور کسی بھی انتہا تک جائیں گے خواہ اس کی ہمیں کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔ پاکستانی عوام، حکومت اور افواج پاکستان آخری گولی، آخری سپاہی، آخری سانس تک پرعزم ہیں اور رہیں گے۔
بھارت کی بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اس وقت بھارت میں اقلیتیں غیر محفوظ ہیں وہاں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں، دلت سمیت دیگر اقلیتوں کے خلاف مظالم جاری ہیں۔ اس وقت بھارت میں ہٹلر کے پیروکار فاشسٹ مودی کی حکومت ہے۔ پاکستان امن کا خواہاں ہے، اور خطہ بھی امن کی جانب بڑھ رہا ہے لیکن بھارت اس وقت نئی جنگ کا بیج بو رہا ہے۔
میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارت مانتا ہے کہ یہ دو طرفہ معاملہ ہے، تاہم اس نے آرٹیکل 370 ختم کرکے یہ معاملہ ختم کیا۔ موجودہ صورتحال میں مقبوضہ کشمیر میں بھارت حکومت کی خواہش ہے کہ وہ کچھ اس طرح دباؤ بڑھائے کہ وہاں لوگ مشتعل ہوں جسے وہ دہشتگردی کا نام دے سکے۔
میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان اب دھوکے میں نہیں آئے گا، کیونکہ پاکستان کشمیر میں اس طرح کی کارروائی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ جو مسئلہ پہلے دبا ہوا تھا وہ آہستہ آہستہ دنیا کے سامنے آرہا ہے۔ پاکستان متعدد مرتبہ کہہ چکا ہے کہ یہ معاملہ جنگ کے بجائے پر امن طریقے سے بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
اسٹریٹجک صلاحیت اور ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق سوال کے جواب میں میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ یہ معاملہ سنجیدہ نوعیت کا ہے جس پر پریس کانفرنس پر بات نہیں کی جاسکتی۔ بس لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے اثاثے ہیں اور جب انہیں خطرہ ہوگا تو انہیں استعمال کیا جاسکتا ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ بھارت نے اپنی ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کی پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ دے دیا ہے جس کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی نو فرسٹ یوز کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔ تاہم اگر بھارت پہلے استعمال کرتا ہے تو یاد رکھے کہ پہلے کے بعد دوسرا بھی آتا ہے۔
اسرائیل سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہائبرڈ جنگ سے نبرد آزما ہے اور اس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ قوم میں اختلاف پیدا کیا جائے ۔ پاکستان کا اسرائیل سے متعلق گزشتہ 72 سال سے جو مؤقف رہا ہے وہ برقرار ہے اور اس میں اب تک کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور اس کے تسلیم کرنے سے متعلق باتیں پروپیگنڈا ہیں۔