پولیس تشدد کی المناک کہانی: مہذب معاشرہ اس کا متحمل نہیں ہوسکتا
- تحریر منور علی شاہد
- جمعرات 05 / ستمبر / 2019
- 7990
پولیس تشدد سے ہلاک ہونے والے شہری صلاح الدین کو جب دفنانے کے لئے نہلایا جانے لگا تو موبائل سے اس کے جسم کی تصاویر کھینچی گئیں اور سوشل میڈیا پر اپلوڈ کردیا گیا۔ ان تصاویر کے مطابق صلاح الدین کی ٹانگوں کے درمیان نازک حصوں پر تشدد کیا گیا تھا۔
اس کے ہاتھ پر چاقو کے گہرے نشان تھے، ہاتھ کی پشت پھٹی ہوئی تھی، سیدھا ہاتھ جلا ہوا تھا اور کچھ کھال ادھڑی بھی ہوئی تھی۔ جیسے کھال کو استری سے جلایا گیا ہو۔ پسلیوں پر بھی تشدد کے نشان واضح تھے اور جسم کا شاید ہی کوئی حصہ ایسا ہو جو بدترین تشدد سے بچا ہو۔ علاوہ ازیں سوشل میڈیا پر بھی تشدد کی جو ویڈیوز وائرل ہیں ان میں بھی تشدد واضح ہے اور وہ درد دسے بلبلاتے ہوئے پوچھ رہا ہے کہ آپ نے مارنا کہاں سے سیکھا ہے؟
صلاح الدین کے اس سوال کا جواب صرف ان کے پاس ہے جن کو جواب دینے کی عادت نہیں، وہ صرف جان لینا جانتے ہیں۔ صلاح الدین ایک سوال پوری قوم کے سامنے اٹھا کر خود منوں مٹی تلے وہیں دفن ہو گیا ہے۔ جہاں پہلے بھی سینکڑوں صلاح الدین مدفون ہیں اور ان کو مارنے والوں کا نہ پہلے کسی نے کچھ بگاڑا ہے، نہ اب کوئی کچھ بگاڑ سکے گا۔کئی دہائیوں سے پنجاب کی پولیس بندے مار رہی ہے اور کوئی بھی اس کو پوچھنے والا نہیں ہے۔وزیر اعظم نے کشمیر کے حوالے سے دنیا پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیریوں پر ظلم اس لئے ہو رہا ہے کہ وہ مسلمان ہیں، اب پاکستانی عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ پاکستان کے اندر پاکستانی مسلمانوں کو کون اور کیوں مارہا ہے؟
یہ کیسا تعصب ہے کہ ہم دوسروں کے مظالم پر چیخ پڑتے ہیں لیکن جب اپنی ہی سوسائٹی میں ویسا ہی ظلم ڈھایا جائے تو پھر زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں۔کشمیر میں تو مسلمانوں کو مارنے والے انتہاپسند ہندو، کافر ٹھہرے لیکن یہاں صلاح الدین ایسے شہریوں کو مارنے والوں کو کیا کہا جائے گا؟ مسلمان کے ہاتھوں مسلمانوں پر اس طرح کا بھیانک، لرزہ خیز تشدد کو کیا نام دیں گے؟ صلاح الدین جنگی قیدی تو نہ تھا، کیونکہ اس قسم کا تشدد قیدیوں پر ہی کیا جاتا ہے۔ محض اے ٹی ایم کی مشین توڑنے پر ہی جیتے جاگتے انسان کو جانوروں کی طرح ماردیاگیا۔
وائرل ویڈیو میں اس کی درد بھری چیخیں اور جملے ہی رونگٹے کھڑے کر دینے والے ہیں، اور جنہوں نے تشدد کیا، اہلکار جو ویڈیوز میں نظر آتے ہیں وہ اتنے نارمل دکھائی دیتے ہیں کہ گویا وہ انسان کو نہیں کیڑے مکوڑے کو مار رہے ہیں۔پولیس تشدد سے ہلاک ہونے والے کی فیملی کے جو کوائف سامنے آئے ہیں ان کے مطابق اس کا باپ ایک ریٹائرڈ سکول ٹیچر ہے۔ اور صلاح الدین کے دو بھائی کشمیر میں شہید ہو چکے ہیں۔ خاندانی ذرائع کے مطابق صلاح الدین ذہنی مریض بھی تھا۔ لاش کی حوالگی کا منظر ناقابل بیان تھا۔ بوڑھے باپ نے جوان بیٹے کی نعش کمزور اور لرزتے ہاتھوں سے وصول کی۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب اس کے سامنے جوان بیٹے کی نعش آئی تو اس نے جھکتے ہوئے آنسوؤں بھری آنکھوں سے بیٹے کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور پھر روتے ہوئے پیشانی کو چومنے لگا۔ کئی منٹ تک بیٹے کے بے جان چہرہ پر اپنا چہرہ رکھے باپ کی شفقت بیجان بیٹے پرنچھاور کرتا رہا۔
پولیس کے ہاتھوں یہ پہلا قتل نہیں ہے۔ ایک لمبی سیاہ فہرست ہے جو اسی قسم کے تشدد و ظلم سے بھری پڑی ہے۔ان حالات و واقعات کی روشنی میں کشمیر میں مظالم پر کس منہ سے مذمت کی جائے؟ سوشل میڈیا پر تشدد کی ویڈیو پوری دنیا دیکھ رہی ہے، صلاح الدین کا یہ سوال کہ آپ نے مارنا کہاں سے سیکھا ہے؟ پوری دنیا نے سن لیا ہے، صلاح الدین کی آواز سرحد پار تک جا چکی ہے، پاکستان کے وہ اندرونی دشمن، حقیقی دشمن ہیں جو ایسے مظالم پر قانون کو حرکت نہیں کرنے دیتے بلکہ رکاوٹیں ڈالتے ہیں،۔ اس وقت عوامی ردعمل انتہائی شدید ہے۔ وفاقی وزیر چوہدری فواد نے ویڈیو وائرل ہونے پر ا ٹویٹ میں کہا تھا کہ تھانوں میں پولیس کا تشدد ایک عام سے بات ہے، صوبائی حکومتیں خواب غفلت سے جاگیں۔وفاقی وزیر نے یہ نہیں بتایا کہ پولیس کی تحویل میں تشدد سے روکنے پر ملکی قانون کیا کہتا ہے؟ کیا پاکستان کا قانون اس قسم کے تشدد کو روکتا ہے؟ اگر آئین پاکستان اس قسم کے تشدد کی اجازت نہیں دیتا تو پھر یہ قانون شکنی کیوں ہوئی اور ہو رہی ہے؟ اور تشدد کرنے والوں کے خلاف کیوں کاروائی نہیں ہوتی رہی؟
2010 میں پولیس ریسرچ سیل کی ایک رپورٹ جو وزیر داخلہ کو بھجوائی گئی تھی میں بتایاگیا تھا کہ2009میں پولیس تشدد سے چونتیس34 افراد ہلاک ہوئے تھے جس میں سو سے زائد پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمات درج کئے گئے تھے۔ سب سے زیادہ پنجاب میں ہلاک ہوئے تھے، دوسرے نمبر پر سندھ تھا۔سپریم کورٹ میں جسٹس (ر) افتخار چوہدری کے دور میں مختلف پولیس تشدد کیسوں میں ازخود نوٹس لیتے ہوئے کمیشن بھی بنائے گئے لیکن سب کچھ ہوا ہو گیا۔ اس بنچ میں آج کے نیب کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال بھی شامل تھے۔بد قسمتی سے ہر دور حکومت میں پولیس کے ہاتھوں پاکستانیوں کی ہلاکت کا بازار گرم رہا ہے لیکن کوئی اسمبلی، کوئی عدالت بھی عوام کو ریلیف دینے میں کامیاب نہ ہوسکی۔ اورآج تھانے عقوبت خانوں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔
عمران خان سمیت سبھی لیڈروں کے پولیس کلچر تبدیل کرنے کے دعوے کھوکھلے نکلے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب سے سیاست میں مذہب، اور اداروں کے اندر سیاست داخل ہوئی ہے، اسی دن سے ظلم اور قتل و غارت کا بازار گرم ہے۔ مخالفین لاکھوں روپے رشوت دے کر اپنے مخالفین کو مرواتے ہیں، اور تھانوں میں تشدد کرواتے ہیں۔پولیس میں سیاسی بھرتیاں بھی ایسے سانحوں کی ذمہ دار ہیں۔ میرٹ پر نئے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بھرتیوں سے اس مسئلہ سے نمٹا جاسکتا ہے اور اس میں کسی مذہبی،فرقہ کی تمیز نہیں ہونی چاہئے۔پولیس کے اندر بگڑے حالات کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ اب تک سال رواں کے آٹھ ماہ میں پولیس تشدد سے ہلاکتوں کی تعداد7ہو چکی ہے۔
موجودہ پنجاب حکومت ایک سال میں پانچ بار سے زائد آئی جی پولیس تبدیل کر چکی ہے لیکن کوئی بھی پسند نہیں آ رہا۔پولیس کے ٹارچر سیلوں کو غیر قانونی قرار دیا جانا چایئے اور کسی کی گرفتاری پر اس کی نگرانی ضروری ہے۔ رشوت خور پولیس اہلکار بھاری رشوت کے عوض بندے مروانے کے بعد سیاسی اثر ورسوخ سے خود کو بچا لیتے ہیں۔ پولیس اور پنجاب حکومت کے خودساختہ اقدامات سب ڈھونگ اور رنگ بازیاں ہیں جن کا آج تک کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا۔