پاک بھارت تنازعہ میں مذاکرات کی اہمیت

پاکستان او ربھارت کے درمیان مسائل کا حل جنگ نہیں بلکہ دو طرفہ  مذاکرات اور متنازعہ امور پر بات چیت کی مدد سے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔آج کی جمہوری سیاست میں مسائل کو بات چیت کی مدد سے ہی حل کیا جاتا ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ سیاسی، سفارتی، ڈپلومیسی کے محاذ پر کی جانے والی کوششوں کی مدد سے مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔

پاک بھارت بداعتمادی ایک بنیادی مسئلہ ہے او ریہ مسئلہ دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی بجائے پہلے سے موجود فاصلوں میں اور زیادہ بدگمانی او رانتشار کی سیاست کو پیدا کرتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ مسائل حل ہونے کی بجائے جنگی جنون کے ماحول میں تبدیل ہورہے ہیں۔ مسئلہ کشمیر دونوں ملکو ں کے درمیان بہتر تعلقات کی بحالی میں ایک کوریا بنیادی ایشو ہے۔ کشمیر کے مسئلہ کے حل کے بغیر دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات قائم ہونا یا اس کی بحالی کے فیصلہ کو یقینی بنانا مشکل امر لگتا ہے۔

حالیہ دنوں میں کشمیر کے تناظر میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے دونوں ملکوں کے درمیان اور زیادہ مسائل پیدا کردیے ہیں اور لگتا ہے کہ جو بھی کوشش تعلقات کی بحالی کے لیے ہورہی تھی، وہ پس پشت چلی گئی ہے۔وزیر اعظم عمران خان جو پاک بھارت تعلقات کے تواتر سے حامی ہیں او رتواتر کے ساتھ ہی انہوں نے بھارت کو مذاکرات کی پیش کش زبانی او رتحریری دونوں صورتوں میں دی تھی۔ وہ بھی حالیہ کشیدگی  میں بھارتی طرز عمل سے خاصے مایوس نظر آتے ہیں۔اسی مایوسی  میں وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں بھارت سے مذاکرات یا بات چیت کا عمل ممکن نہیں او رنہ ہی اس کا کوئی  ماحول موجود ہے۔

سیاسی اور سفارتی محاذ پر ڈپلومیسی کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ اس ڈپلومیسی کے محاذ پر مذاکرات یا بات چیت کا دروازہ بند کرنا یا اس سے مکمل انکارکرنا دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہوتا۔جنگ او رکشیدگی کے ماحول میں بھی مذاکرات کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھا جاتا ہے تاکہ اس کارڈ کے عمل سے بھی فائدہ اٹھانا ہو تو اس کی بھی حکمت عملی موجود ہونی چاہیے۔اچھی بات ہے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک بار پھر بھارت کو مشروط مذاکرات کی پیش کش کرکے بند دروازے کو دوبارہ کھولنے یا بھارت کو دستک دی ہے کہ وہ مذاکرات کی بحالی کے عمل میں آگے بڑھ کر بات چیت کے بند دروازے کو کھول سکتا ہے۔ وزیر خارجہ نے مذاکرات کی بحالی کے لئے چار شرطیں رکھی ہیں جن میں:

اول مقبوضہ کشمیر سے فوری کرفیو کے خاتمہ کا اعلان، دوئم مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی بحالی کو ممکن بنانا، سوئم گرفتار قیدیوں کی رہائی، چہارم کشمیری قیادت سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔

وزیر خارجہ نے دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ ہم مذاکرات کے حامی ہیں او ربات چیت کی مدد سے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہتے ہیں او را س کے لیے مذاکرات کا عمل براہ راست دو طرفہ بھی ہوسکتا ہے او رہم کسی تیسرے ثالثی فریق کے لیے بھی تیار ہیں۔پاکستان کی یہ پیش کش  دنیا میں واضح پیغام بھی ہے کہ اس کشیدگی او رجنگ پر منڈلاتے بادلوں میں ہم ابھی بھی مذاکرات کی بحالی کے حامی بھی ہیں او راسی کی مدد  سے مسائل کا حل بھی چاہتے ہیں۔اگرچہ اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ موجودہ صورتحال میں نریندر مودی کی حکومت مذاکرات کی میز سجانے کے عمل میں آگے بڑھے۔لیکن اس کے باوجود بھارت کو بھی اور دنیا کو بھی یہ باور کروانا ہے کہ پاکستان جنگ نہیں،امن کا خواہش مند ہے، بڑی سفارتی کامیابی ہے۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موجود ہ صورتحال میں دہلی کیا سوچ رہا ہے اور کیا وہ واقعی جنگی ماحول کو ہر صورت مذاکرات کی میز پر لانا چاہتا ہے۔

اس وقت عالمی سطح پر دو بڑ ی اہم کامیابیاں ہمیں ملی ہیں۔ اول عالمی میڈیا میں جس  مؤثر انداز میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو  پیش کررہا ہے، اس نے بھارت کے سیاسی او رجمہوری چہرہ کو بری طرح بے نقاب کیا ہے۔روزانہ کی بنیاد  پر عالمی میڈیا او رانسانی حقوق سے جڑے ادارے بھارت کی ننگی جارحیت کو سب کے سامنے پیش کررہے ہیں۔ دوئم عالمی رائے عامہ بیدار کرنے والے افراد او ر ادارے یا وہاں موجود اہل دانش  مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اپنی سنگین تشویش پیش کررہے ہیں او راس تصویر نے عملی طو رپر بھارت کو دفاعی پوزیشن پر بھی کھڑا کردیا ہے۔  ایک ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کی موجودگی ہی ظاہر کرتی ہے کہ بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں سیاسی او رجمہوری ساکھ کیا ہے اور اس عمل نے پاکستان ڈپلومیسی کے محاذ پر بھارت پر دباؤ بڑھانے میں کافی مدد دی ہے۔

اب جس انداز میں او آئی سی نے  بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طو رپر مقبوضہ کشمیر سے کرفیو کا خاتمہ کرے اور ساتھ کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر متنازعہ علاقہ، خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمہ پر تحفظات، آئینی تبدیلی بھارت کا  یک طرفہ اقدام ہے او راقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق پائدارحل نکالا جائے۔اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ ہیں، مقبوضہ وادی میں مواصلاتی نظام کی بحالی اور لوگوں کو انسانی حقوق ملنے چاہیے۔اسی اعلامیہ میں اس نکتہ پر بھی زور دیا گیا ہے کہ پاکستان او ربھارت مسائل کو مذاکرات کی مدد سے حل کرنے کی کوشش کریں۔بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی امریکی صدر کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ مسئلہ کشمیر دونوں ملکوں کا مسئلہ ہے او ربات چیت کی مدد سے ان مسائل کا حل تلاش کریں گے اور کسی ملک کی ثالثی کی ضرورت نہیں۔

ایک بات واضح ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال اگر اسی طرح سے کشیدگی کی طرف بڑھتی رہی او رجس انداز سے وادی میں موت کا سماں ہے تو اس سے بھارت عالمی دنیا میں بڑھتے ہوئے دباؤ کی سیاست کا اور زیادہ شکار ہوگا۔خاص طو رپر ستمبر میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں بھارت او رپاکستان کے وزیر اعظم کی گفتگو اور عالمی دنیا کی توجہ کا مرکز بھی کشمیر ہی ہوگا۔سیاسی او رسفارتی یا ڈپلومیسی کے محاذ پر جو کوشیش پاکستان کررہا ہے اس کے بھی آہستہ آہستہ ثمرات سامنے آرہے ہیں اور اب  دنیا میں میڈیا اور اہل دانش کی مدد سے  مختلف ملکوں  کے  حکمرانوں کو بھی  جھنجھوڑنے کی پوری کوشش کی جارہی ہے۔

دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جب وہ یہ نکتہ اٹھاتے ہیں کہ دونوں ملکوں کو بات چیت کی مدد سے مسائل کا حل تلاش کر نا چاہیے تو اس تجزیہ کی بھی ضرورت ہے کہ کون سا ملک مذاکرات کا حامی ہے او رکون مسلسل مذاکرات سے انحراف کررہا ہے۔ بھارت کا  مذاکرات کی طرف نہ بڑھنا ہے او رہر کوشش کو خراب کرنا یا ڈیڈ لاک پیدا کرنا، اس پر بھی عالمی دنیا کو بولنا ہوگا او ربھارت پر دباؤ بڑھانا ہوگا کہ اس کی یک طرفہ پالیسی یا ہٹ دھرمی، کشمیر کے مسئلہ کا حل نہ تلاش کرنا،تعلقات کی بحالی میں بڑ ی رکاوٹ ہے اور یہ عمل جنگ کا ماحول پیدا کرسکتا ہے۔

اصل مسئلہ دو طرفہ تعلقات کی بحالی میں مذاکرات کے عمل کا آغاز ہے۔ یقینی طورپر دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے بارے میں سخت ترین تحفظات ہیں، لیکن ان تمام تر تحفظات او رمسائل کا تعلق مذاکرات ہی کی میز سے حل ہوسکتا ہے۔ جب دونوں اطرا ف کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں اور کوئی جنگ نہیں چاہتا تو پھر مذاکرات کی بحالی ہی واحد کنجی ہے جو مسائل کے حل میں معاون ثابت ہوسکتی ہے، اسی طرح دونوں ملکوں کی  حکومتوں، میڈیا اور سول سوسائٹی کی توجہ ہونی چاہیے کہ ہم کسی نہ کسی شکل میں  فریقین کو مذاکرات کی میز پر لے کر آئیں او رباہمی عمل سے مسائل کا حل تلاش کریں۔

بھارت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ پاکستان کی جانب سے بار بار مذاکرات کی پیش کش یا دوستی یا تعلقات کی بحالی کے عمل کو محض پاکستان کی کمزوری سمجھنے کی بجائے اسے ایک مثبت پہلو کے طور پر لے۔ کیونکہ اگر واقعی بھارت پاکستان سے تعلقات کی بہتری چاہتا ہے تو اسے اس موقع سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہیے کہ پاکستان مذاکرات کے عمل میں پیش پیش نظر آتا ہے۔ دونوں اطراف کے لوگ اگر ماضی کا ماتم کرنے کی بجائے یا ایک دوسرے پر ماضی پر مبنی سنگین الزامات لگانے کی بجائے دونوں ممالک مستقبل کی طرف دیکھیں تو بہتری کا امکان موجود ہے۔ کیونکہ دونوں ملکوں کویہ سمجھنا ہوگا کہ ماضی کو بنیاد بنا کر محض الزام تراشیوں پر مبنی سیاست سے کچھ نہیں نکل سکے گا۔