ممکنہ افغان امن معاہدہ پر کانگریس ارکان کے خدشات
- جمعہ 06 / ستمبر / 2019
- 5340
امریکہ کے تین بااثر قانون سازوں نے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں انہوں نے افغانستان میں قیام امن کے لیے امریکہ اور طالبان کے درمیان ممکنہ معاہدے پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔
گانگریس ارکان مالییونسکی، مائیک گلاگھیر اور برڈ شارمین نے اپنے خط میں چند سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت طالبان سے جو بھی معاہدہ کرنے والی ہے، اس کے تمام مندرجات کانگریس کے سامنے رکھے جائیں۔ ارکان کا کہنا ہے کہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ منتخب نمائندوں کو طالبان کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے من و عن متن سے آگاہ کیا جائے گا۔ انہوں نے مائیک پومپیو سے ایک تحریری یقین دہانی طلب ہے کہ معاہدے میں کوئی خفیہ معاملات یا طالبان سے گٹھ جوڑ نہ ہو جس سے کانگریس لاعلم رہے۔
کانگریس کے قانون سازوں نے ٹرمپ حکومت سے یقین دہانی کے لیے کہا ہے کہ معاہدے میں یہ شامل ہوگا کہ طالبان تمام دہشت گرد تنظیموں سے تعلق ختم کریں گے جبکہ پاکستان میں موجود دہشت گرد گروہوں سے بھی اُن کا تعلق نہیں ہوگا۔ انہوں نے خط میں یہ بھی کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا اس شرط پر کیا جائے کہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان بھی کوئی معاہدہ ہو۔
گزشتہ ماہ کے آخر میں لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ امریکی عوام کے منتخب نمائندوں کے لیے لازم ہے کہ وہ طالبان سے کیے جانے والے معاہدے کی تحریر و شرائط سے باخبر ہوں۔ خط میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ طالبان دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ تعلق اور پاکستان میں سرگرمیاں ختم کرنے کے لیے کتنے پرُعزم ہیں؟ اور اگر امن معاہدہ ناکام ہوا تو اس کے بعد کیا ہوگا۔ کانگریس ارکان نے سوال اٹھایا کہ ٹرمپ حکومت کس طرح تصدیق کرے گی کہ طالبان معاہدے کے مندرجات پر عمل کر رہے ہیں اور القاعدہ سمیت کسی دہشت گرد تنظیم سے اُن کا تعلق نہیں ہے۔
کانگریس ارکان نے سوال کیا ہے کہ اگر طالبان افغانستان یا اس خطے میں القاعدہ سمیت 20 ان دہشت گرد تنظیموں سے رابطے رکھتے ہیں جنہیں امریکہ خطرناک قرار دے چکا ہے، تو اس صورت میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔ اُن کے بقول حقانی نیٹ ورک اور لشکر طیبہ سمیت دیگر دہشت گرد تنظیمیں امریکیوں کے قتل میں بھی ملوث ہیں۔
کانگریس ارکان کا اپنے خط میں کہنا تھا کہ اگر مصدقہ خفیہ اطلاعات ہوں کہ طالبان نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے تو کیسے اور کیا رد عمل ظاہر کیا جائے گا؟۔ ارکان نے اپنے خط میں استفسار کیا کہ افغانستان سے فوجی انخلا کے بعد اہلکاروں کو امریکہ منتقل کیا جائے گا یا انہیں افغانستان کے پڑوسی ممالک میں تعینات کیا جائے گا تاکہ انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھی جا سکیں؟۔
خط میں قانون سازوں نے کہا ہے کہ ہم اس بات کی بھر پور حمایت کرتے ہیں افغانستان میں تنازع کا خاتمہ ہو اور امریکہ کی افواج ایک دن بھی اضافی اس خطے میں نہ رکیں۔