یوم دفاع پاکستان یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا گیا

  • جمعہ 06 / ستمبر / 2019
  • 4880

ملک بھر میں یوم دفاع، یوم یکجہتی کشمیر کے طورپر منایا گیا۔ اس کامقصد وطنِ عزیز کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کے علاوہ مقبوضہ کشمیر میں مظلوم کشمیریوں کے ساتھ پاکستانی عوام کی حمایت کا اعادہ کرنا ہے۔

یومِ دفاع کا آغاز نمازِ فجر کے بعد ملک کی ترقی و خوشحالی اور بھارت کے ظالمانہ تسلط سے مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے خصوصی دعائیں مانگ کر کیا گیا۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دن کا آغاز 31 جبکہ صوبائی دارالحکومتوں میں21 ،21 توپوں کی سلامی سے ہوا۔

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کے مزارات پر گارڈ کی تبدیلی کی پُروقار تقاریب منعقد ہوئیں۔ جن میں پاک فضائیہ نے مزارِ قائد جبکہ پاک فوج نے مزار اقبال پر گارڈ کے فرائض سنبھالے۔ کراچی میں مزار قائد پر پاک فضائیہ کے کیڈیٹس سے فرائض سنبھالے۔ اس موقع پر مہمان خصوصی کو جنرل سلیوٹ پیش کیا گیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی ائیر وائس مارشل حامد راشد رندھاوا نے گارڈ آف آرنر کا معائنہ کیا مزار پر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔

لاہور میں مزار اقبال پر منعقدہ تقریب میں میجر جنرل محمد عامر نے پھولوں کی چادر چڑھائی۔ اس دوران پاک فوج کے چاق و چوبند دستے سے سلامی پیش کی۔ شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے یوم دفاع کی مرکزی تقریب جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں ہوئی جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔ اس خصوصی تقریب میں آرمی چیف نے یادگارِ شہدا پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی گئی۔

یومِ دفاع و شہدا کے سلسلے میں ایک تقریب نیول ہیڈ کورٹر اسلام آباد میں بھی منعقد کی گئی جس کے مہمانِ خصوصی وائس ایڈمرل کلیم شوکت تھے۔ انہوں نے بھی یادگارِ شہدا پر پھول چڑھائے اور وطن عزیر کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔

یوم دفاع کی مناسبت سے وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق آج سہ پہر 3 بجے ملک بھر میں تمام دفاتر بند کردیے گئے۔ پاکستانی عوام کشمیریوں سے اظہارِیکجہتی کیا۔

صدر ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان نے یوم دفاع اور شہداء کے موقع پر اپنے پیغامات میں کہا کہ قوم دشمن کی کسی بھی مہم جوئی سے پوری طرح آگاہ ہے اور ممکنہ طورپر ردعمل کے لیے تیار ہے۔