کشمیر تکمیل پاکستان کا نامکمل ایجنڈا ہے: جنرل باجوہ

  • جمعہ 06 / ستمبر / 2019
  • 4690

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ کشمیریوں پر ظلم ہمارے صبر کی آزمائش ہے لیکن پاکستان کشمیریوں کو کبھی تنہا اور حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑے گا۔

راولپنڈی میں یوم دفاع کے موقع پر جنرل ہیڈ کوارٹرز میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ آج میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ کشمیر، تکمیلِ پاکستان کا نامکمل ایجنڈا ہے اور یہ اس وقت تک رہے گا جب تک اس کا حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی اُمنگوں کے مطابق نہیں ہوجاتا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بنیادوں میں شہدا کا لہو شامل ہے، جنہوں نے بلاشبہ ایک عظیم جدوجہد کے بعد ہمارے لیے ایک آزاد وطن حاصل کیا۔

انہوں نے کہا کہ 1947 سے لے کر آج تک وطن کے بیٹوں نے ہر موقع پر لبیک کہا۔ دھرتی کے بیٹوں کا خون کل بھی پاکستان کی حفاظت کی ضمانت تھا اور آج بھی ہمارے سپوت وطنِ عزیز پر قربان ہونے کے لیے تیار ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارے جوانوں کی کامیابیاں کبھی رائیگاں نہیں گئیں اور نہ ہی جائیں گی۔ حالیہ برسوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری کامیابیاں باقی دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔

پاک فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ ایک لمبی اور مشکل جنگ تھی، جس میں ہمارے جوانوں نے اپنا کل ہمارے آج کے لیے قربان کردیا لیکن پاکستان کے دشمنوں کو ان کے ارادوں میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ آج پاکستان میں امن کی فضا قائم ہے اور آج کا پاکستان امن و سلامتی کا پیغام دیتا ہے جو خطے اور پوری دنیا کے لیے بھی ہماری قربانیوں اور تعاون کی ایک مثال ہے۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اپنی ذمہ داریاں بھرپور طریقے سے پوری کی ہیں۔ اب اقوامِ عالم کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر طرح کی دہشت گردی اور انتہا پسندی کو عملی طور پر رد کرے۔ ہمارا فرض ہے کہ آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ اور روشن مستقبل دیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کا پُرامن اور بدلتا ہوا پاکستان دنیا کے لیے امن، ترقی و رواداری کا پیامبر ہے۔ ایک پُرامن، مضبوط اور ترقی یافتہ پاکستان ہماری منزل ہے اور ہم پوری حکمتِ عملی سے اپنی منزل کی جانب سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔

پاک فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے عفریت سے کامیابی سے لڑنے کے بعد اب ہماری جنگ غربت، بے روزگاری، جہالت اور معاشی پسماندگی کے خلاف ہے تاکہ ہمارے شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ آج جب ہم ایک روشن پاکستان کی بات کرتے ہیں تو ہمارا دل مقبوضہ کشمیر میں موجود اپنے بھائیوں کی تکلیفوں، مصیبتوں اور بڑھتی مشکلات کے باعث نہایت بے چین ہے۔

آج کا کشمیر ہندوتوا کی پیروکار ہندوستانی حکومت کے ظلم و ستم کا شکار ہے۔ ریاستی دہشت گردی اپنے عروج پر ہے۔ کشمیری خون ارزاں ہوچکا اور جنت نظیر وادی ظلم کی آگ میں جل رہی ہے۔ موجودہ ہندوستانی قیادت نے مذہبی جنونیت، تعصب، تنگ نظری اور طاقت کے زعم میں کشمیریوں کے حقوق پر جو حملہ کیا ہے وہ بلا شبہ ہمارے اور پوری عالمی برادری کے لیے ایک چیلنج ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ بے بس کشمیریوں کی تکالیف اور آئے روز کی حقوق کی خلاف ورزیاں انسانیت کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔

آرمی چیف نے کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان، کشمیریوں کو کبھی تنہا اور حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑے گا، پاکستانیوں کے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں، پاکستان ایک پر امن ملک ہے جبکہ کشمیریوں پر ظلم ہمارے صبر کی آزمائش ہے۔ پاکستان کے بہادر عوام اور افواج کشمیری بھائیوں کے لیے ہر طرح کی قربانیاں دینے کو تیار ہیں۔ ہم آخری گولی، آخری سپاہی اور آخری سانس تک اپنا فرض ادا کریں گے اور اس کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار ہیں۔

آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ آج جب خطے کے حالات کو دیکھا جائے تو جنگ اور بے چینی کے بادل نظر آتے ہیں اور امن و سلامتی کی امید بھی۔ مگر تمام حالات میں پاکستان کا کردار مثبت رہا ہے۔ اس عمل میں بھی ہمارے شہدا اور غازیوں کی قربانیاں شامل ہیں۔  انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ امن و سلامتی اور مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ افغانستان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ہم نے ہمیشہ افغانستان میں پائیدار امن کی کوششیں کی ہیں اور آئندہ بھی جاری رکھیں گے۔ موجودہ افغان مفاہمتی عمل میں ہمارا بھرپور تعاون ہماری سوچ کا عکاس ہے۔

تنازع کے تمام فریقین کی شرکت اور اتفاق رائے سے ہی افغان قوم کے لیے امن سلامتی خوشحالی لائی جاسکتی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ افغان سربراہی میں افغانوں پر مشتمل امن عمل کی حمایت کی ہے۔ گزشتہ کئی ماہ کی سرگرم سفارتی کوششوں کی وجہ سے آج امن کی منزل نزدیک نظر آرہی ہے۔ اس عمل کے حتمی نتیجے پر پہنچنے تک ہمارا بامقصد تعاون جاری رہے گا کیونکہ افغانستان میں امن پاکستان میں امن کی ضمانت ہے۔