آرڈیننس جاری بھی واپس بھی

  • تحریر
  • جمعہ 06 / ستمبر / 2019
  • 5210

کہاں گئے وہ سب دعوے؟   ہم خزانے  کی حفاظت کریں گے،  اوپر ایماندار حکومت ہو تو وہ  کرپشن  کرتی ہے نہ  نیچے کسی کو کرنے دیتی ہے۔  اس طرح  ہوتی ہے خزانے کی  حفاظت کہ  ایک ہی آرڈی نینس کے ذریعے  با اثر  سرمایہ  دار دوستوں کو  210 ارب روپے کا   فائدہ پہنچا دیا۔ اور کس  طرح ہوتی ہے کرپشن؟  غضب خدا کا  1971  سے لے کر 2018  تک بینکوں کے معاف کئے گئے  تمام قرضوں سے بھی  زیادہ  اپنے  سرمایہ دار دوست کمپنیوں  کو ایک ہی  جھٹکے میں فائدہ  پہنچا دیا۔۔۔

یہ اور اس سے ملتے جلتے دھواں دار  تبصرے گذشتہ  دو  تین دن  میڈیا کی   زینت  بنے رہے۔  پی ٹی آئی کے  کٹّر حامی بھی   ہل کر رہ گئے۔  کئی ایک کو تشویش کے ساتھ  ادھر ادھر سے حقیقت ِ حال معلوم کرتے پایا، انہیں یقین ہی نہیں  ہو رہا  تھا کہ ان کے محبوب قائد عمران خان کے  ہاتھوں کوئی ایسا کام سرزد  ہو سکتا ہے۔  صاف چلی شفاف چلی قیادت  کے یہ لچھن کیسے ہو سکتے ہیں؟  ہمارے دو دوستوں نے ہم سے  رابطہ کرکے تصدیق چاہی کہ یہ فیک نیوز ہے  یا میڈیا  حاشیہ آرائی میں تمام حدوں کو پار کر گیا ہے۔

 دو روز قبل وفاقی وزیر برائے انرجی عمر ایوب اور مشیر برائے انرجی ندیم بابر نے  پریس کانفرنس کرکے اپنے تئیں وضاحت کرنے کی کوشش کی کہ سب نظر کا دھوکہ ہے اور عقل کا فریب، کسی کو  فری لنچ آفر نہیں ہوا۔گیس انفرااسٹرکچر ڈیویلپمنٹ سیس (GIDC)  کی بابت 2011سے لے کر اب تک سالہا سال کی بے یقینی اور عدالتی مقدمات کی جھنجھٹ سے انڈسٹری اور حکومت کو آزاد کرنے کے لئے  طویل سوچ بچار اور انڈسٹری کی مشاورت سے یہ اسکیم تیار کی گئی۔ حکومت اپنے  ان واجبات میں سے نصف معاف کرنے کو تیار ہے جو قانونی موشگافیوں کے ہاتھوں عدالتی سٹے اور اندسٹری کے عدم تعاون سے کاغذوں میں جمع ہے  لیکن وصولی کی  کوئی بھی صورت بنتی نظر نہیں آرہی۔  

اس سادہ سی تاویل میں مگر سخن گسترانہ  بات یہ  آن پڑی کہ  فرٹیلائزر اور  بجلی پیداوار کمپنیوں نے اپنے صارفین   سے تو GIDC وصول کر لیا ہے لیکن  سٹے آرڈرز کی آڑ لے کر  البتہ حکومت کو  ایک دھیلا  بھی جمع نہیں کروایا۔ اب  انہیں نصف واجبات اور لیٹ سرچارج معاف کرنے کا مطلب یہ ہے کہ  وہ  اربوں جمع کئے گئے  کا نصف  خاموشی سے ڈکار جائیں،  اور ایک دوسرے سے کہیں  کہ   رب کا شکر ادا کر بھائی  جس نے ایسی دوست نواز حکومت بنائی۔ سابق وزیر خزانہ اسد عمر جن کے زمانے میں فروری میں کابینہ سے اس اسکیم کا خاکہ منظور ہوا تھا کا تعلق کبھی  ایک بہت بڑی فرٹیلائزر کمپنی سے تھا، سو یوں  مفادات کے ٹکراؤ یعنی  Conflict of Interest  کا وقوعہ ثابت کر دیا گیا۔ حکومت کے مشیر برائے انرجی ندیم بابر پر  پہلے ہی انگلیاں اٹھتی  رہی ہیں کہ وہ خود  دو یا تین آئی پی پیز کے مالک بھی ہیں اور اس سیکٹر کے لئے پالیسیاں وضع کرنے والوں  میں بھی شامل ہیں۔  کوئی شک؟

 بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے،  اس کی نوبت  ہی نہ آئی کہ  پہلے ہی دن میڈیا پر  یار لوگوں نے دودھ کا دودھ اور پانی کر دیا۔ حکومت کے حامی وضاحتیں کرتے رہ گئے لیکن  نقارخانے میں ان کی آواز دب گئی۔   اس اچانک گھمبیرتا میں وہی ہوا جو  اکثر  ہوتا ہے، وزیر اعظم عمران خان نے فوراٌ نوٹس لے  لیا۔ وہی آرڈی نینس  جو  ان کی سفارش پر صدر پاکستان کے  رسمی دستخطوں کے لئے  ان کے دفتر سے بھیجا گیا،  اسی آرڈی نینس کو کسی شرارتی بچے کی طرح کان سے پکڑ کر واپس لانے  اورنیا  ترمیمی آرڈی نینس لا نے کا اعلان ہوا۔ 

  GIDC  کا نفاذ  2011 میں پیپلز پارٹی کے دور میں ہوا۔ تب سے اب تک  اس  تنازعے میں آج کی تینوں بڑی پارٹیاں حصہ دار ہیں لیکن آفرین ہے اپوزیشن کی دونوں پارٹیوں کے کہ انہوں نے بھی  اعتدال کا موقف اپنانے کی  بجائے  موقع غنیمت جان کر اسے حکومتی کھاتے میں ڈال کر  پوائنٹ اسکور کرنا مناسب سمجھا۔

مقامی گیس  کی قلت کے باوجود پچھلے بیس تیس سالوں میں بااثر صنعتکاروں اور سیاست دانوں نے گیس کو  اپنے اپنے مفاد کے لئے  مال غنیمت کی طرح سمیٹا اور لٹایا۔گیس  امپورٹ کی منصو بہ بندی   کئی سال  تک مبینہ کرپشن کے الزامات  اور  سرخ فیتے کا شکار ہوئی۔ پچھلی حکومت نے  آر ایل ین جی کی سپلائی چین بنائی  تو گیس کی قلت میں کمی کا تدارک ہوا  لیکن اس کے ساتھ دو  مسائل مزید پیدا ہو گئے۔ مقامی گیس کی قیمت عالمی قیمت سے بہت کم جبکہ امپورٹ کی قیمت دوگنا کے لگ بھگ تھی۔ 

18 ویں ترمیم کے بعد صوبہ سندھ کی صنعتوں کو مقامی گیس سپلائی پر آئینی فوقیت رہی اور وہ بھی  کم قیمت  پر۔ دوسری طرف پنجاب میں صنعتوں کے لئے  ملکی گیس کی پہلے راشن بندی اور بعد میں صرف ایل این جی کی دستیابی کا آپشن ملا۔ 2016 سے ایل ین جی کی قیمت سات سو کے لگ بھگ شروع ہو کر اب عالمی قیمتوں اور شرح مبادلہ کے سبب اٹھار ہ  سو روپے فی  ایم ایم بی ٹی یو  ہو چکی ہے۔ صوبوں کے درمیان گیس کی قیمتوں میں تفاوت نے صنعتی عمل کو غیر متوازن بھی کیا  ہے اور  صنعتی مسابقت  کو بھی  ناقابلِ تلافی  زک پہنچائی ہے۔ اس پر طرفہ تماشہ نفاذ کے وقت GIDC  کا ریٹ دو سو روپے فی ایم یم بی ٹی یو رکھا گیا جبکہ سسٹم گیس اس وقت پانچ سو روپے سے بھی  کم نرخوں پر سپلائی کی جا رہی تھی۔  اس  قدر بھاری بوجھ نے صنعتوں کو مزید مسائل تلے  دبا دیا۔

GIDC کی وصولی کا تنازعہ  انڈسٹری   کے گلے میں ہڈی بنا رہا۔ حکومت  نے آؤٹ آف کورٹ تصفیے کی کوشش کرکے آؤٹ آف باکس فیصلے کی عمدہ کوشش کی لیکن  فاش غلطی  یہ  بھی کر بیٹھی کہ جہاں جہاں اندسٹری نے یہ سیس وصول کیا، اس کا  حساب اور شمار  کرنے کی بجائے ایک سائز سب کو  چست  فارمولا اپنایا۔ اس فارمولے میں  یہی  بارودی مواد شامل تھا جس نے آر ڈی نینس جاری ہوتے ہی آگ پکڑ لی، حکومت کی نیت پر  حرف آیا  اور  اس کی فیصلہ سازی کے عمل پر شدید گرفت ہوئی۔ حیرت ہے  فارنزک آڈٹ  کروانے اور تحفظات دور کرنے کی عقل پہلے  استعمال کرنے سے گریز کیوں ہوا۔

اس سارے  جھمیلے  میں  دو مزید نکات قابل غور ہیں۔ اوّل یہ کہ  حکومتی کی انتظامی  رِٹ چیلنج کرنا اب ایک باقاعدہ کاروبار سا بن گیا ہے۔ اِدھر   محصولات  سے  متعلق  کوئی  حکومتی  نو ٹیفیکیشن جاری ہوتا ہے  اٗدھر فورا ٌ  عدالتوں میں سٹے کے لئے چیلنج ہو جاتا ہے۔ قانونی سقم  اپنی جگہ مگر ایک سٹے آرڈر جاری ہونے کے  بعد وکلا ء  کی سینکڑوں  ترغیبی میلز کاروباری و صنعتی اداروں کا مسلسل پیچھا کرتی ہیں کہ فلا ں فلاں  ٹیکس یا  درآمدی ڈیوٹی وغیرہ  پر سٹے ہو چکا ہے۔ آپ اسے ادا کرنے کی حماقت سے بچیں اور اگلی پیشی پر  مناسب فیس پر سٹے حاصل کریں اور پھر لمبی تان کر سوئیں۔ ایسی ہی قانونی موشگافیوں کے ہاتھو ں حکومت کی انتظامی  رِٹ  اب تماشہ بنتی جا رہی ہے۔

دوئم  حکومت  میں یہ صلاحیت کیوں ناپید  ہے کہ فیصلہ کرنے سے قبل  باریک بینی سے  نیک و بد پر  غور کر ے۔ میڈیا  اور عوامی دباؤ پر  نوٹس لینے او ر  پھر اس  دباؤ  کے تحت  فیصلوں پر پھرتی سے  نظرِ ثانی میں برخورداری کی ر ِیت اس کی  فیصلہ سازی کا  بھرم بھی  اپنے ساتھ ریت کردے گی۔  وقتی واہ واہ ایک مستقل آہ آہ نہ بن جائے کہیں!