صلاح الدین کی موت میں میڈیا کا بھی ہاتھ ہے !

  • تحریر
  • جمعہ 06 / ستمبر / 2019
  • 5470

پولیس تشدد سے جان کی بازی ہارنے والے صلاح الدین کی موت میں پولیس کے ساتھ ساتھ میڈیا کی سنسنی خیزی اور ہاہا کار کا بھی دخل ہے ۔ کیسے؟ 

صلاح الدین کو ہفتہ پہلے تک کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔ مشکوک ذہنی حالت اور شاید معمولی وارداتیں کرنے والے کو کتنے لوگ جانتے ہوں گے؟ پولیس کو بھی شاید اس کا نام معلوم نہ تھا۔ لیکن صلاح الدین کی بدقسمتی کہ وہ میڈیا کی ظالم نظروں میں آ گیا۔

 اے ٹی ایم مشین سے کارڈ چراتے ہوئے کیمرے کا مونہہ چڑانے والی ویڈیو میں میڈیا کے لئے سنسنی خیزی کا سب سامان تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ ایک ہی شام میڈیا کی ہیڈ لائینز بن گیا۔ اس کے مونہہ چڑانے کو سسٹم اور پولیس پر طمانچہ قرار دیا گیا ۔ پولیس کے نالائقی کا رونا رویا گیا۔

ایک۔گمنام شخص راتوں رات سسٹم کو مونہہ چڑانے والا میڈیا ہیڈ لائینز میں کشمیر کی خبروں کے بعد کراچی کچرے سے بھی اہم پوزیشن پر اسکرینوں پر کھڑا کر دیا گیا۔۔ جو پولیس عام شخص کی ایف آئی آر درج کرنے میں لیت و لعل اور نذرانہ طلب کرتی ہے۔ دن رات میڈیا ہیڈ لائینز کے دباؤ میں دو دنوں میں اسے گرفتار کر لیا۔۔۔

 اور یوں کسی درندہ صفت پولیس اہلکار کو صلاح الدین  سے میڈیا کے ہاتھوں اپنے ڈیپارٹمنٹ  کی ہوئی " بے عزتی" کا غصہ اس پر نکالنے کا موقع ہاتھ آگیا۔ صلاح الدین اگر چھ گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ گرفتار ہوتا تو کسی اہلکار کی ہاتھ لگانے کی جرات نہ ہوتی ۔لیکن صلاح الدین غریب بھی تھا، ذہنی عدم توازن کا شکار بھی۔۔اور میڈیا کے ہاتھوں پولیس کی اندھا دھند تنقید اور بے عزتی کا مجرم بھی ۔۔۔ کسی درندہ صفت اہلکار کے لئے  موقع غنیمت تھا۔۔۔ 

میڈیا نے اسے مر کر بھی نہ بخشا۔ اس کی موت پر بھی ہیڈ لائینز نے ریٹنگ کا سامان پیدا کر دیا ۔۔ صلاح الدین زندہ بھی میڈیا کے خوب کام آیا اور اب مر کر بھی۔۔۔ خون ناحق تھا اور یوں پولیس اور میڈیا کےہاتھوں رزق خاک ہوا۔۔۔

پنجاب کے وزیراعلی نے بھی اپنی پولیس پر میڈیا کا دباؤ اور تنقید کا رخ ہھیرنے  کے لئے وہی آزمودہ نسخہ آزمایا ، یعنی انہوں نے ڈی پی او کو معطل کر دیا اور  واقعے کی انکوائری کے لئے ایک جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔۔۔ اللہ اللہ خیر صلا ۔ہوگیا انصاف صلاح الدین سے بھی اور ہوگیا علاج پولیس کی مونہہ زوری کا بھی!!!