ایران یورینیم افزودگی میں اضافہ اور جدید سینٹری فیوجز بنائے گا
- اتوار 08 / ستمبر / 2019
- 6440
ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کے برعکس یورینیم کی افزودگی 20 فی صد سے بڑھارہا ہے۔ اس کے علاوہ جدید سینٹری فیوجز بھی تیار کئے جائیں گے۔
ایران کے صدر حسن روحانی نے حال ہی میں جوہری معاہدے کے ضامن یورپی ممالک کو مزید 60 روز کا الٹی میٹم دیا تھا کہ وہ اسے امریکی پابندیوں کے اثرات سے بچائیں۔ امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں کے باعث اس کی تیل برآمدات میں 80 فی صد تک کمی آئی ہے۔
ایران کی جوہری ایجنسی کے ترجمان بہروز کمالوندی نے ہفتے کو نیوز کانفرنس میں بتایا کہ ایران نے جوہری تحقیق کا عمل دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ جدید سینٹری فیوجز کی تیاری پر بھی کام شروع کر دیا ہے۔ امریکہ اور دیگر ملکوں کے ایران کے درمیان 2015 میں طے پانے والے معاہدے کے تحت ایران جوہری پروگرام محدود کرنے پر متتفق ہوگیا تھا۔ اس طرح اسے تیل برآمد کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم گزشتہ سال امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاہدے کو ناقص قرار دیتے ہوئے یک طرفہ طور پر اس سے دستبردار ہو گئے تھے۔
رواں سال مئی سے امریکہ نے ایران پر دباؤ ڈال رکھا ہے کہ وہ اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق مذاکرات کے علاوہ خطے میں عسکریت پسند گروپوں کی حمایت چھوڑ دے۔ ایران نے یورپی ممالک سے کہا ہے کہ اگر وہ اسے امریکی پابندیوں کے اثرات سے بچا کر تیل برآمد کرنے کی اجازت دلوائیں تو وہ دوبارہ جوہری معاہدے کی پاسداری شروع کر دے گا۔
جوہری معاہدے کے تحت ایران 3.67 فی صد تک سول مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کر سکتا ہے۔ جولائی میں اقوام متحدہ کی جوہری معائنہ ٹیم نے انکشاف کیا تھا کہ ایران 4.5 فی صد تک یورینیم افزودہ کر رہا ہے۔ ایرانی عہدیدار کمالوندی کے مطابق ایران اب یورینیم کی شرح افزودگی کو 20 فی صد سے بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان کے بقول وہ یورپی ممالک کا انتظار کریں گے کہ وہ کب اس معاملے میں مداخلت کر کے ایران کو امریکی پابندیوں کے اثرات سے محفوظ رکھتے ہیں۔
جوہری معاہدے کے تحت یورینیم افزودگی میں استعمال ہونے والے سینٹری فیوجز کی تعداد گھٹا کر 6 ہزار کر دی گئی تھی۔ جب کہ یورینیم افزودگی کی شرح انتہائی کم کر دی گئی تھی۔ بہروز کمالوندی کا کہنا ہے کہ ایران اب جدید سینٹری فیوجز استعمال کرتے ہوئے زیادہ مقدار میں یورینیم افزودہ کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی(آئی اے ای اے) کو ایران کے جوہری پروگرام کے معائنے کی مکمل رسائی حاصل ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر زور دیا کہ ایران کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔