صدر ڈونلڈ ٹرمپ طالبان کے ساتھ ملاقات منسوخ اور امن مذاکرات معطل کردیے
- اتوار 08 / ستمبر / 2019
- 4180
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ جاری امن مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے طالبان رہنماؤں سے آج ہونے والی خفیہ ملاقات منسوخ کردی ہے۔
صدر ٹرمپ نے ٹوئٹ پیغام میں کہا ہے کہ ’یہ بات شاید کسی کو بھی معلوم نہیں کہ طالبان کے اہم رہنما اور افغان صدر علیحدہ علیحدہ مجھ سے کیمپ ڈیوڈ میں خفیہ ملاقات کرنے والے تھے‘۔ امریکی صدر نے بتایا کہ ’وہ آج امریکا آرہے تھے۔ بدقستمی سے جھوٹے مفاد کے لیے انہوں نے کابل میں حملے کی ذمہ داری قبول کی جس میں ہمارے ایک عظیم سپاہی سمیت 11 افراد ہلاک ہوئے‘۔
امریکی صدر نے کہا کہ ’میں یہ ملاقات فوری طور پر منسوخ کرتا ہوں۔ اور امن مذاکرات معطل کررہا ہوں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ کیسے لوگ ہیں جو بارگیننگ پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے لوگوں کو قتل کرتے ہیں۔ انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ انہوں نے اسے مزید خراب کردیا ہے‘۔
دوسری جانب افغان صدر اشرف غنی کی جانب ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان پرایک بیان میں کہا ہے کہ ’افغان حکومت امن کے لیے اپنے اتحادیوں کی کوششوں کو سراہتی ہے اور امریکا اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ امن کے لیے کام کرنے کے لیے پر عزم ہے‘۔
امریکا کے سابق خصوصی نمائندہ برائے افغانستان و پاکستان لورل ملر کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا کیمپ ڈیوڈ میں طالبان کی میزبانی کرنے کا فیصلہ بہت بڑا سرپرائز تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بات واضح نہیں ہے کہ کابل میں جمعرات کو ہونے والا خونریز حملہ ہی اس کی منسوخی کی وجہ کیوں بنا جبکہ طالبان نے حال ہی میں متعدد حملے کیے ہیں۔
کانگریس میں ٹوم مالینوسکی طالبان رہنماؤں کی کیمپ ڈیوڈ میں میزبانی کی بات کو عجیب و غریب قرار دیا اور کہا کہ سب جانتے ہیں کہ وہ مستقل حملے کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے خوشی ہے کہ صدر نے اسے منسوخ کردیا اور امید کرتا ہوں کہ یہ بہترین فیصلہ برقرار رہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان سے امریکا کا افغانستان سے فوجی انخلا پر سوالیہ نشان پیدا ہوگیا۔ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جبکہ افغانستان میں آئندہ چند ہفتوں میں انتخابات ہونے والے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ ہفتوں میں افغانستان کے معاملے پر خاموش تھے جبکہ سب کی نظریں ان پر تھیں کہ وہ طے پانے والے معاہدے کو منظور کریں گے یا نہیں۔ واشنگٹن نے امید ظاہر کی تھی کہ امریکی فوج کے انخلا سے طالبان اور کابل میں مستقل امن کے لیے مذاکرات ہوں گے۔
خیال رہے کہ کابل میں گاڑی کے حملے میں امریکی سپاہی اور رومانیہ کے فوجی سمیت متعدد لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔ حملے کی ذمہ داری طالبان نے ایک ایسے وقت میں قبول کی تھی جب ان کے امریکی وفد سے مذاکرات جاری تھے۔
طالبان کے ساتھ معاہدے میں کلیدی کردار ادا کرنے والے امریکی سفیر زلمے خلیل زاد دوحہ میں ایک ال کے دوران طالبان کے ساتھ مذاکرات کے کئی دور کر چکے ہیں تاکہ افغانستان میں 18 سالہ طویل امریکی جنگ کا خاتمہ ہوسکے۔
یکم ستمبر کو امریکی سفیر زلمے خلیل زاد نے کہا تھا کہ امریکا اور طالبان معاہدے ’دہلیز‘ پر ہیں جو تشدد کو کم کرے گا اور یہ پائیدار امن کا راستہ ہوگا۔ بعد ازاں امریکی نمائندہ خصوصی نے کابل میں افغان حکام کو معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کیا تھا۔