پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی پالیسی پر قائم ہے: ترجمان وزارت خارجہ
- جمعہ 13 / ستمبر / 2019
- 6960
وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے اس بات کی تردید کی ہے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ہفتہ وار بریفنگ میں انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے جارہے۔
ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ اس طرح کی خبریں بے بنیاد پروپیگنڈا کا حصہ ہیں، ہماری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی ہماری پالیسی تبدیل نہیں ہوئی ہے۔ یہ ریمارکس سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے اسرائیلی اخبار کے تفصیلی آرٹیکل کے بعد سامنے آئے جس میں پاکستان کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات کے بارے میں بات کی گئی تھی۔
اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس کے وزیراعظم کے حالیہ بیان پر ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ ہم فلسطین کی 1967 والی سرحد کو ہی تسلیم کرتے ہیں۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے پاکستان کا موقف واضح ہے۔
گزشتہ روز اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ اگر وہ 17 ستمبر کو دوبارہ منتخب ہوتے ہیں تو مقبوضہ مغربی کنارے کی وادی اردن کو اسرائیل میں شامل کرلیں گے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ کے دورہ پاکستان سے متعلق ذرائع ابلاغ میں گردش کرنے والی رپورٹس کو بھی مسترد کیا ہے۔
دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے حالیہ دوروں کے بعد یہ خبریں زیرگردش تھیں کہ انہوں نے حکومت کو کہا تھا کہ کشمیر کو مسلم امہ کا مسئلہ نہ بنایا جائے۔ اس حوالے سے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ڈاکٹر محمد فیصل نے ایک سوال کے جواب میں ان رپورٹس کو 'قیاس آرائیاں' قرار دیا اور کہا کہ دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کشمیر کاز کے لیے حمایت کی یقین دہانی کروائی۔
سعودی عرب اور امارات کے وزیر خارجہ نے گزشتہ ہفتے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے علاوہ وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کی تھی۔ ان ملاقاتوں میں بھارت کے 5 اگست کے اقدام کے بعد مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال، ان اہم معاملات میں سے ایک تھا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن 40 ویں روز میں داخل ہوگیا ہے اور پاکستان کا موقف واضح ہے کہ مسئلہ کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ ہم ہمیشہ دو طرفہ مذاکرات سمیت ثالثی کے لیے تیار ہیں اور ہم نے اس کے لیے کئی کوششیں کی ہیں۔ ہمارا ہمیشہ یہی موقف ہے کہ ہر مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل ہوسکتا ہے۔