صوبائی تعصب نہ پھیلایا جائے، حکومت آئین کی پاسداری کرے گی: شاہ محمود قریشی

  • جمعہ 13 / ستمبر / 2019
  • 4740

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ  پاکستان کے اندر صوبائی تعصب کو ہوا نہ دی جائے۔ یہاں پختونستان کی باتیں کرنے والے پٹ گئے اور سندھو دیش کی باتیں کرنے والے بھی پٹ جائیں گے۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان پیپلزپارٹی کے سید خورشید شاہ کے بیان پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ سندھ پر کوئی تشویش نہیں ہونی چاہیے۔ سندھ اس ملک کی اکائی ہے۔ صوبے سے متعلق ماضی کے حوالے کو اسے تسلیم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا وفاق کی سوچ ہونی چاہیے، اس ملک کی بقا یہ ہے کہ وفاقی سوچ ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں حکومت کی طرف سے ایک پالیسی بیان دے رہا ہوں کہ آئین کا احترام تھا، ہے اور رہے گا۔ صوبائی خودمختاری پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ سندھ حکومت سے بلاوجہ چھیڑ چھاڑ کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ وزیر قانون کے بیان اور آرٹیکل 149 غلط بیانی کی جارہی ہے اور اسے توڑ مروڑ کر پیش کیا جارہا ہے۔ جب ایک وفاقی وزیر نے وضاحت کردی تو آپ کی تشویش ختم ہوجانی چاہیے۔

بلاول بھٹو زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ کے سیاسی سفر کی شروعات ہیں، آپ کی جانب سے کسی دباؤ یا جذبات میں بہہ کر سندھو دیش یا پختونستان کی بات کرنا مناسب نہیں ہے۔ مجھے بلاول بھٹو کی حب الوطنی پر شک نہیں ہے لیکن سیاسی دباؤ میں آکر اس طرح کی بات کرنا آپ کو زیب نہیں دیتا۔

انہوں نے کہا کہ خورشید شاہ نے صحیح کہا کہ پیپلزپارٹی ایک ایسی جماعت ہے جس نے وفاق کو ترجیح دی ہے اور اسی جماعت نے صوبائی تعصب کو دفن کیا ہے۔ جو جماعت وفاق کی علامت کی بات کرتی ہو اس کے موجودہ چیئرمین سندھ کارڈ استعمال کرنے کی کوشش کریں یہ مناسب نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اندر صوبائی تعصب کی کوئی لہر نہیں۔ چاہے اردو بولنے والے سندھی ہوں یا سندھی بولنے والے سندھی سب حب الوطن ہیں۔

قبل ازیں پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ  پاکستان ہم سب نے بنایا پنجاب نے بھی بنایا، خیبرپختونخوا کے لوگوں نے بھی بنایا لیکن قرارداد صرف دو جگہوں بنگال اور سندھ میں پاس ہوئی۔ پاکستان ایک فیڈریشن اور گلدستہ ہے مگر اسے تباہ کون کررہا ہے۔ آج ایک خطرناک بحث چھیڑی جا رہی  ہےَکراچی میں ایک سوچ ہے، یہ پاکستان کا چہرہ ہے۔ اس شہر میں آپ کو پٹھان، بلوچ، پنجابی، کشمیری، گلگتی ملیں گے اور وہ سندھ کا تو ہے تو وہاں سندھی بھی ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے میں آرٹیکل 149 کی بحث چھیڑنا فیڈریشن کے حق میں نہیں۔ کچرے پر سیاست نہیں ہوتی، کچرا تو لاہور میں بھی بھرا پڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے قائد کو کہتے ہیں میں کسی ایسی تحریک میں نہیں جاؤں گا جو اس پارلیمنٹ کو توڑے گی، حکومت کو ہٹانے میں ہم سب کے ساتھ ہیں لیکن پارلیمنٹ کو توڑنے کے حق میں نہیں ہیں۔