امریکی قانون سازوں کا ڈونلڈ ٹرمپ سے کشمیر میں مداخلت کا مطالبہ

  • جمعہ 13 / ستمبر / 2019
  • 4630

بھارت کی جانب سے کشمیر کے الحاق کے یک طرفہ فیصلے پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے امریکی قانون سازوں نے ٹرمپ حکومت پر زور دیا ہے کہ بھارت سے کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی اجازت دینے کا مطلبہ کیا جائے۔

ورجینینا کے سابق گورنر اور امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ امور کے رکن، سینیٹر ٹم کین نے کہا ہے کہ ’یہ حکومت کامعاملہ ہے اور حکومت کو اس میں دلچسپی دکھانی چاہیے‘۔ ورجینیا سے سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ کے رکن کانگریس ڈان بئیر کا بھی کہنا تھا کہ ’جو کچھ کشمیر میں ہورہا ہے، میں اس سے بہت مایوس ہوں اور جو کچھ بھارتی وزیراعظم نریند مودی نے کیا، میں اس سے سخت اختلاف کرتا ہوں۔

نریندر مودی کو دنیا میں ایک اور ظالم رہنما قرار دیتے ہوئے  ڈان بئیر کا کہنا تھا کہ ’آپ نے دیکھا دنیا بھر کے ظالم رہنما یہی کررہے ہیں۔ لوگوں کو تقسیم کرنا، ایک مذہب کو دوسرے مذہب کے خلاف کرنا، ایک سے دوسرے کا مقابلہ کرنا‘۔ دونوں قانون سازوں نے 11 ستمبر کے حملوں کی یاد میں منعقدہ تقریب کے بعد صحافیوں سے بات کی۔

اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور بھارت اور پاکستان دونوں کی جانب سےکشمیر میں ریفرنڈم کے وعدوں کا حوالہ دیتے ہوئے ڈان بئیر کا کہنا تھا کہ سالوں پہلے اس بات کا فیصلہ ہوگیا تھا کہ کشمیر میں مستقبل کا فیصلہ عوام کے ووٹ سے کیا جائے گا جو کہ نہیں ہوا۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے کشمیر کے الحاق کے یک طرفہ فیصلے کو مسترد کردیا اور اسے نامناسب فوجی دراندازی قرار دیا۔

سینیٹر ٹم کین نے کہا کہ کشمیر ان اہم ترین مسائل میں سے ایک تھا جس پر امریکی قانون سازوں نے گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد واپس آکر حکومت کی توجہ دلائی۔ سینیٹر ٹم کین نے بتایا کہ سینیٹ کا رکن ہونے کی حیثیت سے انہوں نے امریکی حکومت سمیت متعدد حکومتی نمائندوں کے ساتھ ملاقات طے کر رکھی ہے تا کہ معاملات کو سمجھا جاسکے۔

یہ دونوں بیانات واشنگٹن میں مقبوضہ کشمیر کے بارے میں پائی جانے والی تشویش کی عکاسی کرتے ہیں۔