کراچی سے کچراچی تک

  • تحریر
  • جمعہ 13 / ستمبر / 2019
  • 12970

کراچی کا آخر مسئلہ کیا ہے؟  بہت آسان ہے اگر کوئی سمجھنا چاہے اور بہت مشکل ہے اگر کوئی حل کرنا چاہے۔ دور کیا جانا، اسی ہفتے کی چند شہ سرخیاں یہ نکتہ سمجھانے کو بہت ہیں۔

وزیر اعظم نے وزیر ِ قانون کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کر دی ہے جو  کراچی کے مسائل کا  فوری، وسط اور طویل مدت جامع حل پیش کرے گی۔  گورنر سندھ عمران اسماعیل کا  کہنا ہے کہ کمیٹی صرف سفارشات مرتب کرے گی،  اپنی سفارشات  وزیر اعظم اور  وزیر اعلیٰ سندھ کو  پیش کرنے کے بعد دس بار روز میں اپنا کام مکمل کرنے کے بعد  ختم ہو جائے گی۔

سندھ کے وزیر بلدیات سعید غنی کا ارشاد ہے کہ یہ کمیٹی غیر آئینی ہے۔ مرکز کو اگر کراچی کی اتنی فکر ہے  تو  وہ وزیر اعظم  کے اعلان کردہ کراچی پیکیج کے 162 ارب روپے کے خطیر فنڈز ریلیز کرے۔ سندھ حکومت ورلڈ بنک  کے تعاون سے پہلے ہی 1.9  ارب ڈالرز جو سکہ رائج الوقت کے مطابق  تین سو ارب روپے بنتے ہیں  کے  ذریعے نکاسی آب، پانی کی فراہمی سمیت بہت سے منصوبوں کی بہتری اور توسیع  پر کمر بستہ ہے۔  اور یہ کہ کراچی سے کچرا اٹھانے  کی  کوششیں  بھی اس دوران مسلسل  جاری ہیں۔

مئیر کراچی  وسیم اختر  کہتے ہیں کہ  جو بھی آتا ہے اپنی ہمدردی دکھا کر چلا جاتا ہے،  ہمیں خالی خولی ہمدردی نہیں چاہئے۔ اصل مسئلہ فنڈز کی فراہمی کا ہے، اس کے لئے کوئی پلہ نہیں پکڑاتا!  مجھے  ذمہ داریوں کا طعنہ ہر کوئی دیتا ہے لیکن اختیارات ہیں نہ وسائل،  ایسے میں میں کروں تو کیا۔  جو ممکنہ حد تک ہو سکتا ہے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ چند ہفتے قبل اسپرے کروانے کے اخراجات بھی ایک مخیر نے برداشت کئے۔

ان تینوں نکتہ ہائے نظر سے بھی کراچی کے موجودہ مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کی کوششوں کے بارے میں آگاہی مکمل نہ ہوئی ہو تو گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مئیر کراچی وسیم اختر اور سابق مئیر کراچی اور حالیہ سربراہ سرزمین پارٹی مصطفی کمال کے درمیان  بیان بازی  باقی ماندہ گتھیاں سلجھانے میں  معاون ہو سکتی ہے۔

یہ تو رہی کراچی اور اس کے  منتظمین کے مابین کراچی کے بارے میں فکر مندی اور  عملداری کی صورت حال، مگر  عملاً  دنیا کے پیمانوں پر کراچی شہر کہاں کھڑا ہے؟  ملک کے سب سے بڑے شہر اور فنانشل مرکز کراچی  کی دنیا کے  دیگر بڑے شہروں کے مقابلے میں کیا  پوزیشن ہے؟  یوں تو دنیا نے بڑے بڑے شہروں  کے جانچنے اور پرکھنے کے لئے بیسیؤں انڈکس یعنی  تقابلی پیمانے بنا  رکھے ہیں لیکن ہم فی الحال دو کا ہی ذکر کئے لیتے ہیں۔  دو ہفتے قبل ہی دنیا کے معروف ادارے اکونومسٹ  کے ذیلی ادارے اکنامک  انٹیلی جنس یونٹ نے  دنیا کے 140 بڑے شہروں کا ایک تقابلی جائز پیش کیا ہے  Global Liveability Index 2019  یعنی عالمی رہائش کے قابل شہروں کا انڈکس۔ 140  شہروں کی چھان پھٹک کے بعد اس انڈکس کے مطابق کراچی کا نمبر 136 واں پایا گیا۔ اگر اس پر آپ فکر مند ہیں کہ ہم سے نیچے چار شہر کون کون سے ہیں تو  سن لیجئے؛  شام کا  شہر دمشق، نا ئجیریا  کا لاگوس،  بنگلہ دیش کا ڈھاکہ اور لیبیا کا تریپولی۔

پاکستان میں کام کرنے والے  ادارے WWF  کی گزشتہ سال کی رپورٹ کے مطابق کراچی اور لاہور پاکستان کے سب سے زیادہ فضائی آلودہ شہر ہیں۔  ہوا کی کوالٹی کے اعتبار سے دنیا بھر میں کئے  گئے سروے  2019 وسط سالہ انڈکس  کے مطابق کراچی شہر کی ہوا   دنیا کے 154 شہروں کے موازنے میں 19 ویں آلودہ ترین  پائی گئی۔

کراچی ہمیشہ سے ایسا تھا؟  جی نہیں، کراچی پاکستان بننے سے قبل ایک خوبصورت ساحلی شہر تھا۔  اس میں مختلف النوع مذاہب اور زبانیں  بولنے والے بستے تھے۔ کراچی کا  انتظامی سربراہ یعنی اس وقت کا مئیر مختلف  کمیونٹیز سے  چنا جاتا۔  کراچی کی کئی سڑکوں کو روزانہ کی بنیاد پر دھویا جاتا۔  شہر میں گہما گہمی ،  صفائی اور طرزِ تعمیر کی شاہکار عمارتوں کی تصاویر دیکھنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ وہ کراچی جس کی آبادی آزادی کے وقت چار لاکھ کے لگ بھگ تھی وہ کراچی  اب قصہ پارینہ ہو چکا۔ 

ہمارے والد مرحوم  جو سند یافتہ ماہر زراعت تھے، انہوں  نے اوائل جوانی کا کچھ حصہ ٹھٹھہ  میں  گزارا۔ کراچی  بھی آنا جانا لگا رہتا تھا۔ ہم نے ان  کی زبانی ملیر کی ندی اور اس کے کنارے  باغوں کے بہت سے قصے سن رکھے تھے۔ ملیر جو اس وقت کراچی کا نواحی قصبہ تھا  اسے پھیلتا ہوا شہر کب کا نگل چکا۔ ہم نے خود  کراچی کو 70 کی دِہائی کے آخر میں دیکھا تو بھی پورٹ قاسم، لانڈھی، کورنگی  کو کراچی  کے نواحی قصبے ہی پایا مگر اب سب کچھ ضم ہو چکا۔ اینٹ سریے اور بجری  اور بے ہنگم  چھوٹی بڑی بستیوں اور کچی آبادیوں کا ایک جنگل ہے جو چار سو پھیلا ہوا ہے۔ دیکھنے  کو سبزہ اب  شاذ  ہی ملتا  ہے۔

ہمارے ایک دوست ہیں  جنہوں نے کراچی میں شعور کی آنکھ کھولی، پلے بڑھے اور زندگی کا آغاز یہیں سے کیا اور پھر رزق کی تلاش انہیں سعودی عرب لے گئی،  پچیس سال بعد واپسی ہوئی۔  کراچی سے متعلق اپنی یادداشتوں کو محمد سعید جاوید نے اپنی کتاب  ’ایسا تھا میرا کراچی‘  میں سمویا ہے۔ کراچی کے بارے جو نوسٹیلجیا عمر بھر ان کے ساتھ رہا، وہ مدت بعد اسی کراچی میں اپنی یادوں کو تازہ کرنے پہنچے تو کیا دیکھا اور کیا کیفیت ہوئی، ملاحظہ ہو:  جس کراچی کو میں بہترین حالت میں  چھوڑ آیا تھا، وہ بعد میں ویسا نہیں رہا۔نہ جانے کس کی نظر کھا گئی اس کو اور کتنے ہی صدمے اٹھانے پڑے اس شہر کو۔۔شہر بھر میں پھیلے خوبصو رت پارکس اور سڑکوں پر لگے برگد، نیم، پیپل، ناریل اور آموں امرودوں کے ہرے بھرے اور گھنے سایہ دار شجر نہ جانے کس کی انا اور بد عنوانیوں کی بھینٹ چڑھ گئے۔ وہ تو یوں کٹ کر گرے کہ  سارے شہر  ہی کو برہنہ کرکے دھوپ میں کھڑا کر دیا!

کراچی کے معردف ماہر تعمیرات  عارف حسن کے مطابق شہروں سے بے اندازہ نقل مکانی کی وجہ سے صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کی افزائش اور ٹرانسپورٹ سے پیدا شدہ ماحولیاتی، سماجی اور معاشی مسائل  سے  آئے دن حالت بد سے بد تر ہوتی جا رہی ہے اور رہنا دوبھر ہو گیا ہے۔ اگر مناسب منصوبہ بندی  پر عمل کیا جائے تو شہر میں تصادم اور تخر یب کی فضا کو کم کیا جا سکتا ہے۔  انہوں نے  چار ایسے  اہم  رہنما اصولوں پر زور دیا ہے جن پر عمل درآمد سے اس شہر کو بہتر سکونت کے قابل بنایا  جا سکتا ہے۔  اول،  شہری آبادی کا  شہر کے خطے کی  ecology   یعنی جغرافیائی ماحول کے ساتھ تعلق اور رشتہ۔ دوم،  شہر کے پھیلاؤ اور پلاننگ میں محض زمین کے ٹکڑے کی مالیاتی قدر کو بنیاد بنانا  درست نہیں، دیگر ماحولیاتی  پہلوؤں کو  نظر انداز کرنے سے سماجی تصادم اور انتشار جنم لیتا ہے۔ سوم، جو بھی ترقیاتی کام کئے جائیں وہاں کی اکثریت کی ضروریات کو  مدِنظر  رکھا جائے، یہ بڑی اکثریت کم آمدن  اور درمیانہ آمدن والے طبقات پر مشتمل ہوتی ہے۔ چہارم،  شہر کے Tangible and intangible یعنی  مرئی اور غیر مرئی ثقافتی اثاثے اور ورثے کو جو  اس کی  ملکیت ہوں  او ر تاریخ کا حصہ ہوں، انہیں محفوظ اور قائم و دائم رکھا جائے۔   

باقی مسائل  کا تو ذکر ہی کیا، کراچی میں کچرے کا مسئلہ کس قدر سنگین  اور بد عملی کا شکار ہے، اس پر ایک  میڈیا  چینل نے  پھبتی کسی کہ ’کراچی اب کچراچی بن چکا  ہے‘۔ سنا تو دل پر ایک گھونسہ لگا۔ سنبھلے تو سوچ میں پڑ گئے کہ اس نے کوئی اتنا غلط بھی نہیں کہا۔