پاکستان کو پاکستان ہی رہنے دیں

ہمارے ارباب اختیار کی 72سال سے خواہش رہی ہے کہ کشمیر پاکستان بن جائے گا مگر حقیقت میں ہم پاکستان کو قائد اعظم کے رول ماڈل کے مطابق جمہوری فلاحی ریاست نہیں بنا سکے۔ مقبوضہ کشمیر ہمارے دائرہ کار میں نہیں ہے اور نہ ہم اس کو پاکستان بنانے کیلئے قدرت رکھتے ہیں۔

 ہندوستان نے اس کی متنازعہ حیثیت کو ختم کرنے کیلئے  ترمیم ختم کر کے اسے ہندوستانی وفاق میں شامل کر لیا ہے۔ ہمارے چاروں صوبے آزاد جمو ں و کشمیر کے بعد فاٹا اب صوبہ اب پختونخواہ میں ضم ہو گیا ہے۔ ان سب کو ہم حقیقی معنوں میں پاکستان بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ یہ ہماری خواہش قابل قدر ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان لیکن ہم پہلے پاکستان تو بنا لیں جس کے بارے میں 11اگست1947کو قانون ساز اسمبلی میں قائد اعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا یہاں پر آئین، قانون اور جمہوریت کی بالا دستی کے ساتھ تمام اقلیتوں کو مثالی شہری کے حقوق حاصل ہوں گے۔  قائد اعظم کھرے اور سچے راہنما تھے۔ عوام کو خوش کرنے کیلئے جھوٹے اور جذباتی وعدے نہیں کرتے تھے۔ ان کا ریاستی تصور جدید ریاست کا روڈ ماڈل تھا جس کی بنیاد انسانی حقوق، جمہوریت، آئین و قانون کی بالا دستی تھی۔ افسوس ہے ہم نے کبھی قائد اعظم کے ریاستی رول ماڈل کی طرف پیش رفت نہیں کی ہے۔

ہم نے جمہوریت کے نام پر مختلف تجربات کیے ہیں۔ ہم نے لیاقت علی خان، ناظم الدین، گورمانی، دولتانہ، غلام محمد، سکندر مرزا، صدر ایوب اور یحییٰ خان کے ادوار حکومت مختلف نظاموں اور اتھارٹی پر مبنی حکومتوں کے قیام کے تجربات کیے ہیں، 1971میں قائد اعظم کا پاکستان دو لخت ہو گیا۔ اس کے بعد ہم نے ذوالفقار علی بھٹو کا پاکستان دیکھا جس میں پہلی مرتبہ نیا آئین بنایا گیا جس میں محنت کش طبقات کے حقوق کے حوالے سے قانون سازی کی گئی۔ زرعی اصلاحات کی گئیں۔ بے گھروں کو مکانوں کی تعمیر کیلئے پلاٹ دیئے گئے مگر یہ نظام حکمران طبقات کیلئے قابل قبول نہیں تھا۔ نظام مصطفی کے قیام کے نام پر تحریک چلائی گئی جس کے نتیجہ میں جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء نافذ ہوا جس میں جمہوریت اور انسانی حقوق کا نام لینے والوں کو سخت سزاوں کا سامنا کرنا پڑا۔

 کسی دور میں سویت یونین نے اپنی فوجیں افغانستان میں قبضہ کرنے کیلئے بھجوائیں، مگر اس سے قبل سازشوں اور مذہب کے نام پر چلائی جانے والی تحریک کے ذریعے ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار سے ہٹا کر قتل کے مقدمہ میں جیل ڈال دیا گیا۔ ہم نے دیکھا 25ستمبر1979کو سویت افواج افغانستان میں داخل ہوئیں اس کے بعد وہی ہوا جو بھٹو صاحب نے پشین گوئی کی تھی۔ افغانستان میں شروع ہونے والی جنگ کو25ستمبر کو چالیس سال ہو جائیں گے،15مئی 1988سے سویت یونین کی افواج کا انخلا شروع ہوا۔اس کے بعد خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ 1996سے2001تک طالبان کی حکومت رہی۔11ستمبر 2001کو امریکہ میں دہشت گردی ہوئی اس کے بعد دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر امریکہ اور نیٹو افواج القاعدہ اور طالبان کو ختم کرنے کیلئے افغانستان میں داخل ہوئی۔جن کے انخلاء کیلئے کافی سالوں سے باتیں کی جا رہی ہیں۔

 ان چالیس سالوں میں جو تباہی افغانستان میں ہوئی وہ تاریخ کا الم ناک باب ہے، اس کے ساتھ پاکستانی قوم کو بھی تاریخ کے بد ترین نقصانات اور برابری کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان میں ضیاء الحق سے لے کر آج تک جتنی حکومتیں بنی یا ختم ہوئیں، وہ افغانستان کی گریٹ گیم سے جڑی ہوئی ہیں۔ اس گریٹ گیم کو جاری رکھنے کی وجہ سے عالمی طاقتوں بالخصوص امریکی کیمپ نے مخصوص مفادات کیلئے پاکستان اور افغانستان کو ملوث کر رکھا ہے۔ جبکہ ہندوستان نے افغانستان میں خاصی سرمایہ کاری کر کے وہاں کی حکومت اور عوام کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ چین، روس اور ایران کی افغان مسئلے کے حل کے بارے میں اپنی اپنی ترجیحات ہیں۔ پاکستان کو علاقائی تناظر میں ایک طرف افغانستان میں قیام امن کے مسائل ہیں جبکہ دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کی داخلی صورتحال ہے سب سے زیادہ خدشات پاکستان کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال کے حوالے سے ہیں۔یہ بات ہمارے ارباب اختیار کو یاد رکھنی چاہیے کہ  افغانستان کے مسئلے کو امریکہ نے اپنے مفادات کے تناظر میں طے کرنا ہے ہمارا کام  طالبان کے ساتھ مذاکرات کرانا تھا۔ ہمیں کوئی نہیں بتاتا کہ افغانستان میں کیا نیا کھیل شروع ہونے والا ہے۔ ہمیں اس ضمن میں چین ایران اور روس سے بھی راہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔ امریکہ نے مذاکرات صرف طالبان کے ساتھ کیے ہیں جبکہ اس نے افغانستان کی حکمران جماعت کو اس میں شامل نہیں کیا جس کی وجہ سے اشرف غنی کی حکومت کو شدید تحفظات ہیں۔

پاکستان میں اپوزیشن کی قیادت بد عنوانی کے مقدمات کی وجہ سے جیلوں میں بند ہے۔ اس لیے اس محاذ پر کوئی شور و غل دیکھائی نہیں دیتا۔ اپوزیشن جماعتوں کے لیڈر موجودہ صورتحال کے خلاف اپنے بیانات جاری کرتے رہتے ہیں۔ گزشتہ روز قانونی سال کے آغاز پر خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا ہے کہ پولیٹیکل انجینئرنگ کے نام پر احتساب نہیں کیا جا نا چاہیے۔ ہم دیکھتے ہیں اپوزیشن کی بیشتر قیادت جیلوں میں بند ہے۔پھر بھی کرپشن جاری ہے۔ ایماندار حکمرانوں کی موجودگی میں کوئی کام رشوت کے بغیر نہیں ہو رہا ہے۔ سیاست دانوں کے علاوہ تمام مقتدرہ طبقات من مانی کرنے میں آزاد ہیں۔ حکومت اپنے کیے گئے فیصلے واپس لے رہی ہے۔ پی ٹی آئی کے  حامی  حیران ہیں کہ حکومت کیا کر ہی ہے۔ حکمرانوں کی نا اہلی کا تاثر پختہ ہو جا رہا ہے۔ مہنگائی قابو میں نہیں آ رہی۔ مشیروں اور وزیروں کو پتہ نہیں کہ وہ کس کے کہنے پر کیا بیان دے رہے ہیں، معیشت کے بارے میں کچھ اچھی خبر دیکھائی نہیں دیتی ہے۔ وہ سکڑ رہی ہے۔ اس کساد بازاری کی صورتحال میں بے روز گاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب سابقہ حکومتوں پر اپنی پالیسی کی ناکامی کی ذمہ داری نہیں ڈالی جا سکتی۔

 عوام نے ہمیشہ نئے آنے والے تواقعات وابستہ کی ہیں پہلے دونوں پارٹیاں کرپٹ اور نا اہل ٹھہریں۔ نئے پاکستان کے دعوے مذاق بن چکے ہیں۔  تمام کوششوں کے باوجود ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا حکومت پر عدم اعتماد جاری ہے۔ حکومت کی دعوت کے باوجود کئی ملک کے بڑے صنعتی گروپ اس سے ڈائیلاگ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ہمارے تمام مسائل مہنگائی بے روز گاری غربت اور معاشی کساد بازاری کو مسئلہ کشمیر کو وقتی طور پر پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے مظالم کے ذکر سے یہاں مہنگائی کم نہیں ہو سکتی۔ نریندر مودی کو گالیاں دینے سے حکومتی کارکردگی بہتر نہیں ہوگی۔کشمیریوں پر ظلم کو اجاگر کرنے سے ہمارے داخلی حالات اچھے نہیں ہوں گے۔  ایسے داخلی اور خارجی مسائل دیگر مسائل کے ساتھ چلتے رہتے ہیں۔

  ہم نے آئی ایم ایف سے چھ بلین ڈالر قرضہ حاصل کرنے کیلئے کیا کیا پاپڑ بیلے ہیں ہم قرضہ جات کے ڈیفالٹ کے ڈر سے ان کی ادائیگی سے انکار نہیں کر سکتے۔، ایف اے ٹی ایف کی تلوار سر پر لٹک رہی ہے۔ ہم نے معیشت کو سنوارنے کی بجائے امریکہ اور اس کے ساتھیوں کا ساتھ دے کر عسکریت پسندی کو ابھارا ہے جس کی شائد موجودہ گلوبل لائزیشن کے عہد میں کوئی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن شائد ہم پھر بھی ان اثاثوں کو بچائے رکھنا چاہتے ہیں کہ آگے جا کر ان سے کام لیا جا سکتا ہے۔ ہمارے ان اقدامات نے مقامی کلچر اور سماجیت کو برباد کیا ہے مگر ہم نے عوام کو کوئی معاشی ریلیف نہیں دیا ہے جبکہ قرضہ جات کے ذریعے ریاستی معاملات کو چلا رہے ہیں۔ سندھ بلوچستان اور دیگر چھوٹے علاقوں کے لوگوں کو اچھا پاکستان نہیں دے سکے ہیں۔  مخصوص ٹارگٹ حاصل کرنے کیلئے کراچی میں کچرے ک ے مسئلہ کوبھارا گیا ہے تا کہ سیاسی قوتوں کو کمزور کیا جا سکے۔ پاکستان میں تب ہی سب کو خوشیاں دی سکتی ہیں جب ان کے مسائل حل کرنے کے ساتھ ان کو حقوق بھی حاصل ہوں۔ پاکستان کا اصل مسئلہ معاشیات کا ہے۔ پاکستان کو الباکستان کا نام دینے یا کھجوروں کے درخت لگا کر خوشخالی نہیں لا جا سکتی ہے اور نہ ہی ہم مفروضوں پر مبنی امت مسلمہ کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

  معاشی طور پر مستحکم پاکستان ہی کشمیریوں کے حقوق کا تحفظ کر سکتا ہے۔ جہاں تک افغانستان کا سوال ہے پاکستان اور ٹرمپ مشکل میں ہے۔ ملا برادر نے افغانستان کا مفاد دیکھنا ہے اور ٹرمپ نے اپنا قومی مفاد دیکھنا ہے۔ لیکن  پاکستان کو ان دونوں ایشوز کی موجودگی میں معیشت کو سنوارنے کیلئے اہم اقدامات اٹھانے ہوں گے۔  جس میں سب اہم صنعت کاروں کا اعتماد حاصل کرنا ہے۔