بہادر لیڈر کمزور لوگوں پر ظلم نہیں کرتا: مظفر آباد میں عمران خان کا مودی کو چیلنج
- جمعہ 13 / ستمبر / 2019
- 5050
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے نوجوان کنٹرول لائن کی جانب بڑھنا چاہتے ہیں کہ لیکن یہ کام کب کرنا ہے اس کا فیصلہ وہ کریں گے۔
جمعے کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں ایک جلسۂ عام سے خطاب کے دوران وزیراعظم عمران خان نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ انہیں دنیا کے سامنے کشمیر کا معاملہ اٹھانے دیا جائے جس کے بعد وہ بتائیں گے کہ ایل او سی کا رخ کب کرنا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ 'پہلے مجھے کشمیر کا کیس دنیا کو بتانے دو، جنرل اسمبلی میں اس معاملے پر بات کرنے دو، اس کے بعد میں آپ کو بتاؤں گا کہ ایل او سی کی طرف کب جانا ہے۔' عمران خان کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 'خود مختار کشمیر' کے حامی جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے ایک دھڑے نے ایل او سی پر تیتری نوٹ کراسنگ کی جانب 'آزادی مارچ' کیا تھا۔ تاہم پولیس نے ان مظاہرین کو لائن آف کنٹرول تک نہیں جانے دیا۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والے تصادم میں 20 کے قریب افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ بطور سفیر دنیا بھر میں جا کر کشمیر کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ انڈیا اپنے زیر انتظام کشمیر میں جو کچھ کر رہا ہے اس سے انڈیا میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ جس طرح انہوں نے کشمیر میں اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے، اسی طرح اب مسلمانوں کے لیے بھی انڈیا میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق 'نریندر مودی لوگوں کو انتہاپسندی کی جانب دھکیل رہا ہے۔'
عمران خان کہنا تھا کہ: ’بطور سفیر کشمیر دنیا بھر میں جاؤں گا اور کشمیر کا معاملہ اٹھاؤں گا۔ میں نے جب دنیا میں کشمیر کا سفیر بننے کا فیصلہ اس لیے کیا کہ میں ایک پاکستانی، ایک مسلمان اور ایک انسان ہوں، کشمیر کا مسئلہ انسانیت کا مسئلہ ہے، 40 دنوں سے ہمارے کشمیری، بھائی، بہنیں اور بچے جیل میں قید ہیں۔' انہوں کہا کہ وہ خاص طور پر نریندر مودی کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ’ایک بزدل انسان صرف ایسا ظلم کرتا ہے جو آج کشمیریوں پر انڈیا کی فوج کر رہی ہے، مودی جس میں انسانیت ہوتی ہے وہ کبھی ایسا نہیں کر سکتا، بہادر انسان کبھی بھی عورتوں اور بچوں پر ظلم نہیں کرتا۔‘
عمران خان نے کہا کہ انڈیا کے وزیر اعظم مودی جتنا مرضی ظلم کر لیں کامیاب نہیں ہوں گے کیونکہ کشمیر کے عوام ان کے ساتھ نہیں ہیں۔ انڈیا کی ہندو تنظیم آر ایس ایس کی تاریخ بتاتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ سب کو پتہ ہونا چاہیے کہ انڈیا کے وزیر اعظم مودی آر ایس ایس کے رکن ہیں اور یہ وہ جماعت ہے جس کے اندر مسلمانوں کے لیے نفرت بھری ہوئی ہے، اس جماعت کے بنانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ انڈیا صرف ہندوؤں کے لیے ہے، مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے نہیں ہے۔
عمران خان نے کہا کہ دنیا کے 58 ممالک نے پاکستانی مؤقف کی تائید کی ہے کہ کشمیر میں لوگوں پر ظلم ہو رہا ہے۔ 50 سال میں پہلی بار کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں اٹھا، او آئی سی نے بھی انڈیا سے اپنے زیر انتظام کشمیر میں کرفیو اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی سینیٹرزنے بھی امریکی صدر ٹرمپ کو خط لکھا ہے کہ آپ کشمیر کے معاملے میں مداخلت کریں، برطانیہ کی پارلیمنٹ میں بھی پہلی مرتبہ کشمیر پر بات ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ وہ اگلے ہفتے نیو یارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جا رہے ہیں جہاں وہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کشمیریوں کو مایوس نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی میڈیا پر کشمیریوں سے متعلق بات کروں گا اور دنیا کو بتاؤں گا کہ انڈیا کی ہندو تنظیم آر ایس ایس کی اصلیت کیا ہے۔ تنظیم آر ایس ایس کے بانی ہٹلر کو اپنا رول ماڈل مانتے تھے، وہ چاہتے تھےکہ مسلمانوں کو انڈیا سے نکالا جائے۔ وزیراعظم پاکستان نے الزام عائد کیا کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے، یہ آر ایس ایس کے نظریے پر ہو رہا ہے، آر ایس ایس کی آئیڈیالوجی نے ہی گاندھی کا قتل کیا تھا۔
عمران خان نے انڈیا کے وزیر اعظم کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم نے انڈین پائلٹ کو اس لیے رہا کیا تھا کیونکہ ہم امن چاہتے ہیں لیکن انڈیا میں لوگوں کو بتایا گیا کہ پاکستان ڈر گیا ہے۔ نریندر مودی کان کھول کر سن لو، ایمان والوں کو موت سے ڈر نہیں لگتا، یہ وہ قوم ہے جو آخری سانس تک لڑنا جانتی ہے۔ اگر انڈیا نے کوئی جارحیت کی تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔'