پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کی فائرنگ، 4 پاکستانی فوجی شہید
- ہفتہ 14 / ستمبر / 2019
- 6260
پاکستان کی مغربی سرحد پر دہشت گردوں کے دو حملوں میں فائرنگ سے پاک فوج کے 4 جوان شہید اور ایک شدید زخمی ہو گیا جبکہ جوابی کارروائی میں دو شدت پسند بھی مارے گئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق شمالی وزیرستان میں گزشتہ رات اسپن وام کے علاقے اباخیل میں سیکیورٹی فورسز معمول کے گشت پر تھیں کہ شدت پسندوں نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ضلع بلتستان کے رہائشی 23سالہ سپاہی اختر حسین نے جام شہادت نوش کیا۔ اس موقع پر پاک فوج کے جوانوں نے بھی بھرپور جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں دو شرپسند مارے گئے۔
دوسری طرف دیر میں پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے کام میں مصروف پاک فوج کے جوانوں پر دہشت گردوں نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں کم از کم 3 اہلکار شہید اور ایک شدید زخمی ہو گیا۔
شہید ہونے والوں میں ضلع خیبر کے رہائشی 28سالہ لانس نائیک سید امین آفریدی، مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے 31سالہ لانس نائیک محمد شعیب سواتی اور نوشہرہ کے رہائشی 22 سالہ سپاہی کاشف علی شامل ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے جمعے کی شب آخری لمحے میں پاک افغان سرحد پر طورخم بارڈر کا دورہ ملتوی کردیا تھا۔
سرحد پر باڑ لگانے کے دوران افغانستان میں موجود دہشت گردوں نے وقفے وقفے سے متعدد مرتبہ پاک فوج پر حملے کیے ہیں، جن میں کئی جوان شہید بھی ہوچکے ہیں۔ رواں برس جولائی میں شمالی وزیرِستان میں پاک افغان سرحد پر اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں پر افغانستان کے سرحدی علاقے سے حملہ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں 6 جوان شہید ہوگئے تھے۔
اس سے قبل جون میں خیبرپختونخوا کے قبائلی علاقے باجوڑ اور بلوچستان کے علاقے قمر دین کاریز میں سرحد پار حملوں کے نتیجے میں 5 سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ جوابی فائرنگ سے 6 دہشت گرد ہلاک ہوگئے تھے۔
اپریل 2018 میں جنوبی پارہ چنار سے 25 کلومیڑ دور لوئر کرم ایجنسی کے علاقے لاقہ تیگا میں سرحد پار افغانستان کے علاقے سے فائرنگ کے نتیجے میں 2 فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) اہلکار شہید اور 5 زخمی ہو گئے تھے۔