ایٹمی طاقتیں لڑیں گی تو انجام بھیانک ہوگا: عمران خان
- ہفتہ 14 / ستمبر / 2019
- 4470
وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر عالمی برادری کو خبردار کیا کہ نئی دہلی کے اقدامات کی وجہ سے پاکستان اور بھارت جنگ کے دہانے پر ہیں۔ اگر دو ایٹمی طاقتیں لڑیں گی تو اس کا انجام بھیانک ہوگا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کو ایک انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ میں اٹھا دیا ہے۔ پاکستان ایسی قوم ہے جو اپنی بقا کے لیے آخری دم تک لڑے گی۔ دو ایٹمی طاقتیں جنگ کے دہانے پر ہیں۔ اگر یہ طاقتیں لڑیں گی تو انجام بھیانک ہوگا۔ ایٹمی جنگ سے بچنے کے لیے عالمی برادری اپنا کردار ادا کرے۔ تاہم وزیراعظم عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کوئی بھی ذی شعور انسان ایٹمی جنگ کی بات نہیں کرسکتا۔
انہوں نے پاک بھارت کشیدگی کو امریکا اور روس کے درمیان 1962 کے کیوبن میزائل بحران سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان صورتحال بہت کشیدہ ہے۔ اگر ان دونوں ممالک کے درمیان جنگ ہوئی تو اس کے اثرات برصغیر کے باہر بھی محسوس کئے جائیں گے۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ بھارت کشمیر کو اپنا اندرونی معاملہ کہتا ہے تو اس پر عالمی برادری کس طرح بات کرے گی۔ جواب دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’کشمیر اقوام متحدہ میں تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، اور اقوام متحدہ کی اس حوالے سے متعدد قراردادیں موجود ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ یہاں صرف بیانات دینے کے بجائے اسے حل کرنے کا عملی مظاہرہ کرے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’میں اس معاملے کو اقوام متحدہ میں اٹھاؤں گا اور وہاں جاکر یہ کہوں گا کہ یہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ اس معاملے کو حل کروائے۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ بھارت میں آر ایس ایس کے کیمپوں میں ایسے دہشت گرد تیار ہورہے ہیں جو تشدد سے مسلمانوں کو خوفزدہ کر رہے ہیں۔ اس وجہ سے نہ صرف کشمیروں بلکہ بھارت اور پوری دنیا میں رہنے والے مسلمانوں کی طرف سے رد عمل آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ری ایکشن اس لیے آئے گا کیونکہ مسلمان پہلے ہی روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے مظالم دیکھ چکے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ ’یہ اب عمل کا وقت ہے، کیونکہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ عمل نہ کرنا کوئی آپشن نہیں ہے۔‘ جب ان سے سوال کیا گیا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی کس طرح مدد کر رہا تو جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ’پاکستان اس وقت کچھ نہیں کر سکتا، بھارت نے تمام سرحدیں بند کی ہوئی ہیں، پاکستان عالمی برادری کو معاملے سے آگاہ کر رہا ہے اور اسے ہر فورم پر اٹھارہا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اب یہ معاملہ دوطرفہ بات چیت سے حل نہیں ہوسکتا، بات اس سے آگے نکل چکی ہے، اس کے حل کا راستہ صرف امریکا ہے‘۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے علاوہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ وہ بڑی شخصیات ہیں جو مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ حل کروانے کے لیے کردار ادا کر سکتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا مسئلہ کشمیر کا ایک ہی حل ہے کہ اقوام متحدہ نے کشمیری عوام کے ساتھ جو وعدہ کیا ہے ، اسے پورا کیا جائے۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے متعلق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ نریندر مودی نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ کیونکہ یہاں سے آگے یا پیچھے جانے میں مودی کا بہت بڑا نقصان ہے۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ بھارت یہ الزام عائد کرتا ہے کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں صورتحال خراب کرنے کا ذمہ دار ہے تو وزیراعظم نے جواب دیا کہ ’پاکستان ایسی کسی کارروائی میں ملوث نہیں ہے۔ ہم نے نریندر مودی کو یہ پیشکش کی کہ وہ اپنی انٹیلی جنس اور کسی بھی مبصر کے ذریعے اس کا پتہ لگالیں‘۔ انہوں نے کہا تحریک انصاف کی حکومت نے عسکریت پسندوں کے خاتمے کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کی حمایت کرتا ہے تو اس کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’یہ انخلا ایک منصوبہ بندی کے ساتھ اور معاہدے کے تحت ہونا چاہیے‘۔
جب وزیراعظم سے امریکا کے سابق سیکریٹری دفاع جیمز میٹس کے پاکستان کو سب سے خطرناک ملک قرار دینے سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ’اگر پاکستان امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل نہ ہوتا تو وہ آج دنیا کا خطرناک ملک نہ ہوتا۔‘