بیرون ملک سے لائے گئے ملزمان کو سزائے موت نہ دینے کا قانون
- اتوار 15 / ستمبر / 2019
- 5290
پاکستان میں حکومت نے فوجداری مقدمات میں بیرون ملک سے لائے گئے ملزمان کے لیے سزائے موت ختم کررہی ہے۔ اس حوالے سے تعزیرات پاکستان میں ترمیم کا آرڈیننس قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے ترمیمی آرڈیننس کے مطابق دوسرے ممالک سے مفرور ملزمان کو پاکستان واپس لا کر سزائے موت نہیں دی جا سکے گی۔ وفاقی حکومت نے مجموعہ تعزیرات پاکستان 1860 میں ترمیم کا آرڈیننس 12 جولائی 2019 کو جاری کیا تھا۔ جو اب قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا ہے۔ یہ آرڈیننس وزارت داخلہ کی طرف سے پیش کیا گیا جبکہ اسے قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو جائزہ لینے کے لیے بھی ارسال کر دیا گیا ہے۔
آرڈیننس کے مطابق بیرون ممالک سے پاکستان لائے گئے ملزمان کو سزائے موت کے علاوہ کوئی بھی سزا دی جاسکے گی۔ وزارت داخلہ نے آرڈیننس پیش کرنے کی یہ وجہ بتائی ہے کہ تعزیرات پاکستان ترمیمی بل 2019 کا مقصد دہشت گردی اور منظم بین الاقوامی جرائم کے خلاف نبرد آزما ہونا ہے۔ ایسے بہت سے جرائم کا اصل، بنیاد اور روابط دیگر ممالک میں ہوتے ہیں۔
بیشتر مقدمات میں یہ لازم ہوتا ہے کہ پاکستان یا دیگر ممالک میں دستیاب شواہد کو اکھٹا کیا جائے تاکہ انصاف میں تاخیر نہ ہو۔ اس مقصد کے حصول کا ایک ذریعہ باہمی قانونی مدد کی درخواستیں ہیں۔ بعض اوقات پاکستان کی قانونی مدد کی درخواستوں کو محض اس لیے قبول نہیں کیا جاتا کہ درکار معلومات کسی معاملے میں قصور وار فرد کے لیے سزائے موت کے اطلاق کی فوجداری کارروائی میں استعمال نہ ہوجائیں۔
ملک میں اس وقت سزائے موت کے خاتمے پر بحث جاری ہے اور بعض انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس کی حمایت کر رہی ہیں۔ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ سزائے موت کے خاتمہ کے مذہبی پہلو بھی ہیں۔ کچھ مقدمات جیسے حدود کے کیسز میں سزائے موت ختم نہیں کی جا سکتی۔ تعزیر کے مقدمات میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔
وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ فوری توجہ کا متقاضی ہے کیونکہ باہمی قانونی تعاون اور متعلقہ درخواستیں ناگزیر ہوسکتی ہیں لہذا مسائل کے حل کے لیے ترمیم ضروری ہے۔ قانون کے مطابق 12 جولائی کو جاری ہونے والا یہ آرڈیننس چار ماہ یعنی 12 نومبر تک نافذ العمل ہے اور اگر اس پر باقاعدہ قانون سازی نہ ہوسکی تو 12 نومبر کو یہ قانون غیر موثر ہوجائے گا۔