بھاری کرپشن کے ملزموں کو جیل میں اے کلاس نہ دینے کا فیصلہ
- اتوار 15 / ستمبر / 2019
- 4420
پاکستان تحریک انصاف حکومت نے میگا کرپشن کیسز میں گرفتار افراد کے لیے جیل میں اے کلاس کی سہولت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے لیڈر اور اہم کاروباری افراد اس وقت جیلوں میں بند ہیں۔ وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم نے وزیر اعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران اس بارے مین اعلان کیا ہے۔ پریس کانفرنس میں پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت اور خیبر پختونخوا کے وزیر قانون سلطان محمد خان بھی موجود تھے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ قومی احتساب آرڈیننس 1999 میں ترمیم متعارف کروائی جارہی ہے جس کے تحت 50 کروڑ سے زائد کرپشن کا سامنا کرنے والے ملزم کو جیل کی سی کلاس میں رکھا جائے گا۔ وزیر اعظم عمران خان نے جولائی میں نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ معاملہ وزارت قانون کو بھیج دیا گیا ہے تاکہ قیدیوں کے لیے اے کلاس کی سہولت کے خاتمے کے لیے ترمیم لائی جاسکے۔
قیدیوں کے قواعد کے مطابق اے کلاس قیدیوں کو علیحدہ بیرکس اور کمروں میں رکھا جاتا ہے اور انہیں اپنے خرچ پر سہولیات حاصل کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ اس وقت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد، سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز، بھتیجے حمزہ شہباز، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمعیٰل، عباس شریف، پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور اور متعدد کاروباری افراد جیلوں میں بند ہیں۔
نیب ریفرنسز میں سزا پانے والے نواز شریف اور مریم نواز کے علاوہ تمام افراد کو اس وقت ٹرائل کا سامنا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ گرفتار قیدیوں کو سی کلاس دینے کی پیش کردہ ترمیم اپوزیشن جماعتوں کے لیے مخصوص نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کا مقصد معاشرے میں توازن برقرار رکھنا ہے اور اس ترمیم سے حکومت کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کا مقصد جیلوں سے وی آئی پی کلچر کا خاتمہ ہے۔
سابق وزیر قانون سینیٹر فاروق ایچ نائک نے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیل صوبائی معاملہ ہے اور وفاقی دارالحکومت میں جیل نہیں ہے۔ اس وجہ سے قیدیوں کے حوالے سے کوئی بھی وفاقی قانون بیکار ہوگا۔
ڈاکٹر فروغ نسیم نے یہ بھی بتایا کہ سول پروسیجر کوڈ (سی پی سی) میں تارکین وطن پاکستانیوں کی غیر منقولہ جائیداد کے تحفظ کے لیے ترمیم پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ حکومت بے نامی ٹرانزیکشنز کے لیے قانون لارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اعلیٰ عدلیہ کے لیے ڈریس کوڈ کے بارے میں اپنے اختیارات واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ اپنی مرضی کے ڈریس کوڈ کا فیصلہ کرسکیں گے۔
کراچی کے لیے آرٹیکل 149 کے حوالے سے وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 149 کا نفاذ مختلف صوبوں میں صرف بلدیاتی حکومتی نظام کو مضبوط اور بااختیار بنائے گا اور یہ کسی بھی طریقے سے ایسا معاملہ نہیں جسے متنازع سمجھا جائے۔