سعودی تیل تنصیبات پر حملہ میں ایران ملوث ہے: امریکہ
- اتوار 15 / ستمبر / 2019
- 4720
امریکہ نے سعودی عرب کی سب سے بڑی تیل تنصیبات پر حملوں کی ذمہ دار ایران پر عائد کی ہے۔ وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ حملوں میں یمن کا کوئی کردار نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔
ہفتے کو ایک ٹوئٹ میں مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ تہران سعودی عرب میں لگ بھگ ایک سو حملوں میں ملوث ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشیدگی بڑھانے کے بعد اب ایران نے دنیا کی سب سے بڑی آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم دیگر ممالک سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ ایران کے اس اقدام کی مذمت کریں گے۔ مائیک پومپیو نے واضح کیا کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر صورتِ حال کا جائزہ لے گا اور ایران کا محاسبہ کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ ہفتے کو یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں نے سعودی عرب میں موجود دنیا کی سب سے بڑی آئل ریفائنری آرمکو کی دو تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ جس سے سعودی عرب کی تیل پیدا کرنے کی صلاحیت میں پچاس فی صد کمی جب کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
آرمکو حکام کے مطابق حملوں کے باعث روزانہ 57 لاکھ بیرل تیل کی پیدوار کم ہوگی۔ جب کہ تیل کی عالمی ترسیل میں پانچ فی صد کمی ہو سکتی ہے۔ سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے سپا کے مطابق حملوں کے بعد سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر بات کی ہے۔ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب تیل تنصیبات پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اپنے اتحادی سعودی عرب کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ امریکی محکمہ توانائی کے حکام کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑنے پر امریکہ اپنے تیل ذخائر کو بروئے کار لا سکتا ہے۔ اس ضمن میں امریکہ متعلقہ حکام سے رابطے میں رہے گا۔
آرمکو کے چیف ایگزیکٹو امین نصیر کا کہنا ہے کہ حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ایران نے امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے معنی قرار دیا ہے۔
سعودی عرب کی قیادت میں مارچ 2015 سے یمن میں باغیوں کے خلاف جنگ جاری ہے۔ یمن میں باغی حوثیوں کو ایران کی حمایت حاصل ہے۔ یمن کے دارالحکومت صنعا پر بھی باغی قابض ہیں جبکہ دیگر کئی علاقوں میں حوثی اپنی عمل داری قائم کر چکے ہیں۔
یمن کی جنگ میں 2015 سے 2019 کے درمیان چار سال میں ایک اندازے کے مطابق 90 ہزار افراد کی ہلاک ہو چکے ہیں۔ جب سے جنگ کا آغاز ہوا ہے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے حملوں کے لیے ڈرونز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔