طاہر القادری سیاست سے ریٹائر ہوگئے: ریاست بچی سو لاکھوں پائے

  • تحریر
  • اتوار 15 / ستمبر / 2019
  • 7070

سیاست نہیں ریاست بچاؤ کے نعرے کے خالق اورمحرک ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے سیاست کو خیرباد کہنے کا اعلان کردیا۔   

اس کاز کے لئے حالیہ تاریخ میں انہوں  نے اسلام آباد پر دو طولانی اور متنازعہ لانگ مارچ بھی کئے۔ دوسرے لانگ مارچ میں انہیں عمران خان  کی رفاقت بھی حاصل ہوئی، یوں وہ پی ٹی آئی کے سیاسی کزن بھی کہلائے۔   پی ٹی آئی کے ایک سالہ دور حکومت میں انہوں نے اپنی موجودگی کا سیاسی احساس دلانے کے لئے بیانات ، ویڈیو لنک یا بہ نفس نفیس پریس کانفرنسیں تو ضرور کیں لیکن عملی طور پر سیاست اور ریاست کے حال کو اس کے حال پر چھوڑنا مناسب سمجھا۔

اسّی کی دہائی میں انہوں نے مذہبی تعلیم کی اپنی  تحریک منہاج القرآن کے سائے میں پاکستان عوامی تحریک کے نام سے سیاسی پارٹی بنائی۔ سیاسی نظام پر ان کی شدید تنقید اور مختلف مواقع پر اس نظام میں اپنے لئے جگہ بنانے کی ہر ممکن کوشش جیسے تضادات، ان کے سیاسی سفر کا حصہ  رہے۔ شریف فیملی کے ساتھ ان کی  محبت اور بعد ازاں شدید مخالفت نے ان کی سیاست پر گہری چھاپ ڈالی ۔

 اسلام آباد پر ان کی آخری چڑھائی کا بیانیہ جو بھی رہا، اس کی تہ میں شریف فیملی سے شدید اختلافات اور سیاسی معرکے کو اپنے لئے آخری سمجھتے ہوئے اسے فیصلہ کن انجام تک لانے کی حتمی اور بے پایاں کوشش عیاں تھی۔ اس معرکہ آرائی میں ان کے بیانئے میں شامل تلخی اور عدم برداشت کا جادو پی ٹی آئی کے یکساں انداز کے ساتھ شامل ہو کر سیاسی عدم برداشت کے کلچر پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔

 سیاسی نشتروں پر مذہبی تمثیل کی سان چڑھانا ان کے بیانئے کا معمول رہا۔ حسب ضرورت حسینیت اور یزیدیت جیسے انتہائی حساس علامتوں کے بے دریغ استعمال نے ان کی  سیاسی معاملہ فہمی میں اکثر شدت پسندی کو غالب رکھا۔ دوسری طرف سیاسی مقاصد کے لئے کل کے حریف کو حلیف بنانا اور وفادار ثابت کرنا ان کی خطابت نے آسان بنائے رکھا۔  تمام تر سیاسی معرکہ آرائیوں کے باوجود پاپولر سیاست میں وہ قدم جمانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ پرویز مشرف کے دور حکومت میں پہلی بار اسمبلی میں بمشکل پہنچے تو اپنے لئے نظام میں خاطر خواہ مقام نہ دیکھتے ہوئے مستعفی ہو کر راستہ ناپ لیا۔

پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے ادوار میں ان کے لانگ مارچ کے محرکات اور اہداف پر شکوک کا پردہ پڑا رہا۔ ان کا معروف نعرہ سیاست نہیں ریاست بچاؤ اپنی ٹائمنگ کے اعتبار سے سیاسی ماحول میں دلچسپ مگر مشکوک ثابت ہوا ۔ دوہری شہریت کے حوالے سے ان پر شدید تنقید ہوئی مگر انہوں نے کینیڈا کی شہریت سے دستبرداری کی حامی نہ بھری۔ 

سیاست سے دستبرداری کے اپنے بیان میں انہوں نے ماڈل ٹاؤن کے مظلومین کے ساتھ اخلاقی یک جہتی اور انصاف کی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم دہرایا۔ مگر قیادت کا بار اپنی پارٹی کی مرکزی کونسل کو سپرد کرتے ہوئے خود کو آسودہ کر لیا۔

کہنے کی حد تک تاریخ ان کے سیاسی سفر اور پاکستانی سیاست میں ان کے رول کا تعین کرے گی لیکن حالات کا موجودہ بہاؤ چغلی کھا رہا ہے کہ سیاست میں ان کا رول تمام تر کوششوں کے باوجود کھبی گیم چینجر  نہ بن سکا۔  البتہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انہوں نے گیم چینج کرنے کی اپنے تئیں ہر ممکن کوشش کی لیکن گیم بن نہ پائی!