نیب نے وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کو طلب کرلیا

  • سوموار 16 / ستمبر / 2019
  • 4770

قومی احتساب بیورو (نیب) نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو مشکوک ذرائع اور عہدیداروں کے ذریعے مبینہ طور پر شوگر ملز کو سبسڈیز دینے کے معاملہ پر تفتیش کے لیے طلب کیا ہے۔

نیب عہدیدار نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کو نیب کراچی کے دفتر میں طلب کیا گیا ہے تاہم انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ وزیراعلیٰ سندھ اس سے قبل سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دی گئی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے جو منی لانڈرنگ اور جعلی اکاؤنٹس کیس میں ملوث ہونے کے حوالے سے تفتیش کررہی تھی۔

جے آئی ٹی سے باخبر ذرائع نے بتایا تھا کہ جب چار یا پانچ شوگر ملز کو دی گئی سبسڈیز کا معاملے پیش آیا تو ٹیم اراکین کے درمیان اختلاف سامنے آیا تھا کیونکہ چند اراکین کا خیال تھا جے آئی ٹی کو صرف جعلی بینک اکاؤنٹس کی تفتیش کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔ اس لیے یہ معاملہ ہماری حدود سے باہر ہے۔

بعد ازاں شوگر ملز سبسڈیز کے حوالے سے تفتیش کے لیے نیب راولپنڈی کے ڈائریکٹر جنرل عرفان منگی کی جانب سے کمبائنڈ انویسٹی گیشن ٹیم  تشکیل دی گئی تھی۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نیب راولپنڈی کے سامنے پیش ہوئے تھے جہاں سی آئی ٹی نے ان کو 50 سوالات پر مشتمل ایک سوالنامہ دیا تھا جس میں ٹھٹہ شوگر مل اور دادو شوگر مل کی فروخت سے متعلق سوالات بھی موجود تھے۔

سی آئی ٹی نے وزیراعلیٰ سندھ سے گزشتہ دورِ حکومت میں بطور صوبائی وزیرِخزانہ اومنی گروپ کے لیے ایک ارب روپے کی سبسڈی منظور کرنے سے متعلق بھی سوالات کیے تھے۔ کیس کے حوالے سے ذرائع نے انکشاف کیا تھا کہ جب مراد علی شاہ سندھ کے وزیرخزانہ تھے تو انہوں نے  مبینہ طور پرٹھٹہ شوگرملز اور دادو شوگر ملزسمیت مخصوص شوگر ملز کو سبسڈیز دی تھیں۔

نیب کے ذرائع کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ کونورآباد پاورپراجیکٹ کیس میں بھی تفتیش کا سامنا ہے جس کے حوالے سے 3 افراد پہلے ہی گرفتار ہوچکے ہیں۔ نیب کے مطابق تینوں عہدیداروں پر ٹیکنومین کنٹیک پرائیویٹ لمیٹڈ اور سندھ نوری پاور کمپنی اور سندھ ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کو غیر قانونی مراعات دینے کا الزام تھا جس سے قومی خزانہ کو ایک کروڑ 60 لاکھ ڈالر کانقصان پہنچا۔

سندھ کی صوبائی کابینہ کو رواں برس کے آغاز میں آگاہ کیا گیا تھا کہ پاورپلانٹ سے 6 ارب 62 کروڑ روپے کا منافع ہوا ہے۔