تیل تنصیبات پر حملوں میں ایرانی ہتھیار استعمال کیے گئے: سعودی عرب
- سوموار 16 / ستمبر / 2019
- 5650
سعودی عرب نے اپنی تیل کی تنصیبات پر حملوں کا ذمے دار ایران کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ تیل تنصیبات پر حملوں میں ایرانی ہتھیار استعمال کیے گئے۔
سعودی عرب کی فوج کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے پیر کو ریاض میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی جانب سے حملے کی ذمے داری قبول کی گئی۔ لیکن حقائق اس دعوے کے برعکس ہیں کیونکہ ہفتے کی صبح کیے گئے یہ حملے یمن سے نہیں ہوئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان حملوں میں ایرانی ہتھیار استعمال کیے گئے لیکن انہوں نے معاملے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں اور کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے پر معاملے کو عوام کے سامنے لے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ابھی تحقیقات کر رہے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ حملے کہاں سے کیے گئے۔
دوسری جانب ایران نے ایک مرتبہ پھر اپنے سابقہ موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ان کا سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملوں میں کوئی کردار نہیں۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے پیر کو جاری کیے گئے بیان میں کہا کہ ہم ایران پر لگائے گئے حملوں کے الزامات کی سخت سے مذمت کرتے ہیں۔ یہ الزامات ناقابل قبول اور بے بنیاد ہیں۔
دوسری جانب سے حوثی باغیوں نے سعودی عرب میں تیل کی مزید تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دیتے ہوئے وہاں کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب میں موجود توانائی کی تنصیبات سے دور رہیں۔ حوثی باغیوں کے ترجمان یحییٰ سیری نے کہا کہ جس طرح ہفتے کو تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، اسی طرح دوبارہ کسی بھی وقت تنصیبات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
14 ستمبر کو سعودی عرب میں حکومت کے زیر انتظام چلنے والی دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کے 2 پلانٹس پر ڈرون حملے کیے گئے تھے۔ امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے اتوار کو الزام عائد کیا تھا کہ سعودی تیل کمپنی آرامکو کی آئل فیلڈ پر حملے میں ایران براہ راست ملوث ہے۔
امریکی صدر نے بھی ان حملوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملہ ہوا ہے۔ امریکا ذمہ داران کو جانتا ہے اور اس کے پاس اس کا جواز بھی موجود ہے۔ امریکا نے تصدیق کی بنیاد پر اہداف لاک کرلیے ہیں اور وہ بالکل تیار ہے۔
تاہم اس سے قبل ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکا کو خبردار کیا تھا کہ خطے میں امریکی مراکز اور طیارے ان کے میزائلوں کے نشانے پر ہیں۔
سعودی عرب کی تیل کی دو بڑی تنصیبات پر حملے سے دنیا کا سب سے بڑا تیل کا بحران جنم لے چکا ہے اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تقریباً 20فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں سعودی آرامکو سے روزانہ 5.7ملین بیرل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے جو عالمی سطح پر تیل کی پیداوار کا 5فیصد سے زائد حصہ ہے۔