جسٹس فائز عیسیٰ کے معاملہ پر غور کرنے والا سپریم کورٹ بنچ تحلیل
- منگل 17 / ستمبر / 2019
- 5270
سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر دائر صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کرنے والا عدالت عظمیٰ کا 7 رکنی بینچ، ججز پر اعتراض کے بعد تحلیل ہوگیا ہے۔ نئے بینچ کی تشکیل کے لیے معاملہ چیف جسٹس آف پاکستان کو بھیج دیا گیا۔
عدالت عظمیٰ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس طارق مسعود، جسٹس فیصل عرب، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل پر مشتمل 7 رکنی بینچ نے صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی۔
اس دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک عدالت میں پیش ہوئے اور دلائل کا آغاز کیا۔ سماعت کے آغاز پر جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل منیر اے ملک سے مکالمہ کیا کہ مجھے خوشی ہوئی کہ آپ عدالت آئے۔
منیر ملک نے کہا کہ بار کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ پوری قوم کی نظریں اس بینچ پر لگی ہوئی ہیں۔ اس درخواست میں کچھ حساس معاملات ہیں، جن پر بات ہوئی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل نے کہا کہ چیف جسٹس نے عدالتی سال کے آغاز کی تقریب سے خطاب کیا تھا اور کہا تھا کہ احتساب کا عمل غیر متوازن ہے اور پولیٹیکل انجینئرنگ کا تاثر مل رہا ہے۔
وکیل نے کہا کہ احتساب کا عمل جوڈیشل انجینئرنگ کے لیے بھی استعمال ہو رہا ہے۔ میرے موکل کی ہدایت ہے کہ عدلیہ کا تشخص خراب نہیں ہونا چاہیے۔ منیر اے ملک نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کے لیے سب کچھ قربان کردیں گے۔ ہم اہل ججز کی فل کورٹ بنانے کی استدعا کرتے ہیں، اس لیے سپریم جوڈیشل کونسل کے اراکین فل بینچ کا حصہ نہ ہوں۔ کوئی بھی ایسا جج جس کا ذاتی مفاد اس کیس سے نہ جڑا ہو اسے شامل کیا جائے، جن ججز کے مفادات اس سے جڑے ہیں وہ اس بینچ کا حصہ نہ ہوں۔ منیر اے ملک کی بات پر جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ' اس عدالت کا کوئی بھی جج متعصب نہیں'۔
منیر اے ملک نے کہا کہ بینچ میں موجود 2 مستقبل کے چیف جسٹس فل کورٹ کا حصہ نہیں بن سکتے. اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ 4 سال بعد چیف جسٹس بننے والے ججز پر تعصب کا الزام عائد نہیں کر سکتے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالتی فیصلے موجود ہیں کسی جج کو مقدمہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا. اس پر منیر اے ملک نے کہا کہ ان ججز پر ذمہ داری ہے وہ خود فیصلہ کریں، جس جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ کا نقطہ نظر ان ججز نے سن لیا ہے، وہ خود فیصلہ کر لیں گے۔
بعد ازاں جسٹس طارق مسعود اور جسٹس اعجاز الاحسن نے بنچ میں شرکت سے معذوری ظاہر کردی۔ اس طرح 7 رکنی بینچ تحلیل ہوگیا۔ دونوں ججز کے بینچ سے علیحدہ ہونے پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ نئے بینچ کے لیے معاملہ چیف جسٹس کو بھیج رہے ہیں، ان سے جلد سماعت کی بھی استدعا کی جائے گی۔