الیکشن کمیشن نے مریم نواز کی نائب صدارت کے خلاف درخواستیں مسترد کردیں
- منگل 17 / ستمبر / 2019
- 4800
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مریم نواز کے مسلم لیگ (ن) میں پارٹی عہدے کے خلاف دائر درخواست خارج کردی ہے۔ اور انہیں پارٹی میں نائب صدر کے لیے اہل قرار دے دیا۔
چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے مریم نواز کے پارٹی عہدے کے خلاف دائر پاکستان تحریک انصاف کے اراکین کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔ الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ مریم نواز پارٹی کی نائب صدارت کے اہل ہیں۔ تاہم انہیں پارٹی کا قائم مقام صدر نہیں بنایا جاسکتا۔ اور وہ خود بھی پارٹی کا کوئی بھی فعال عہدہ قبول نہ کریں۔
واضح رہے کہ درخواست میں مریم نواز کو مسلم لیگ (ن) میں نائب صدر کے عہدے سے ہٹانے کی استدعا کی گئی تھی۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے پر مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ تحریک انصاف ای سی پی میں سستی شہرت کے لیے درخواست لے کر گئی تھی۔ مریم نواز کو عوامی خدمت کے لیے کسی عہدے اور سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔ آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے مریم نواز کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں مریم نواز نے پیچھے رہ کر صحت و تعلیم کے لیے کام کیا۔ تاہم موجودہ حکومت اس طرح کی چھوٹی حرکتیں کررہی تھی، جس کا جواب انہیں الیکشن کمیشن سے مل گیا۔
مریم نواز کے پارٹی عہدے کے خلاف درخواست پر دوسری مرتبہ الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ اس سے قبل یکم اگست کو یہ فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا اور اسے 27 اگست کو سنانے کا کہا گیا تھا۔
تاہم ای سی پی نے غیر معمولی اقدام اٹھاتے ہوئے اس فیصلے کو موخر کردیا تھا اور فریقین کے وکلا سے کہا گیا تھا کہ وہ اس میں مدد کریں کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کی روشنی میں آیا سزا یافتہ شخص کے سیاسی جماعت کے صدر کا عہدے رکھنے پر عائد پابندی کا اطلاق نائب صدر پر بھی ہوتا ہے یا نہیں۔
اس معاملے پر گزشتہ روز چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا کی سربراہی میں کمیشن کے 3 رکنی بینچ نے سماعت کی تھی، جہاں پاکستان تحریک انصاف کے وکیل حسن مان نے اعتراض اٹھایا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے ساتھ الیکشن ایکٹ کی دفعہ 203 کو بھی پڑھنا چاہیے۔
3 مئی کو مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے اپنے بیٹے حمزہ شہباز کے علاوہ مریم نواز کو بھی پارٹی کے نائب صدر مقرر کیا تھا۔ 9 مئی کو پی ٹی آئی کے قانون سازوں بیرسٹر ملیکہ بخاری، فرخ حبیب، کنول شوزب اور جویریہ ظفر نے ایک درخواست دائر کی ، جس میں کہا گیا کہ مریم نواز کی تقرری خلاف قانون تھی کیونکہ مسلم لیگ (ن) کی رہنما کو کسی بھی سیاسی یا عوامی عہدہ رکھنے کے لیے نااہل قرار دیا گیا تھا۔