افغان صدر کے انتخابی جلسے میں دھماکہ، 30 افراد ہلاک
- منگل 17 / ستمبر / 2019
- 4820
افغانستان میں صدر اشرف غنی کے انتخابی جلسے کے قریب ہونے والے خود کش دھماکے میں 30 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق افغانستان کے شمالی صوبہ 'پروان' کے صدر مقام چاریکار میں انتخابی جلسے سے افغان صدر اشرف غنی نے خطاب کرنا تھا۔ تاہم اس سے قبل دھماکہ ہوگیا۔ اسپتال کے سربراہ قاسم سانگن کے مطابق دھماکے کے زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جن میں کئی افراد کی حالت تشویش ناک ہے اور ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
ایک مقامی عہدیدار کے مطابق انتخابی جلسے میں ہونے والا دھماکہ خود کش حملہ تھا۔ افغان صدر کے قریبی ساتھی نے 'رائٹرز' کو بتایا کہ دھماکے میں افغان صدر اشرف غنی محفوظ رہے۔ اب تک کسی بھی عسکریت پسند گروپ کی طرف سے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق کابل شہر کے وسط میں ہونے والے ایک اور دھماکے میں کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ایمبولینسز اور سکیورٹی اہلکار دھماکے کے مقام پر پہنچ رہے ہیں۔ یاد رہے کہ افغانستان میں 28 ستمبر کو صدارتی انتخابات ہورہے ہیں۔ جس میں افغانستان کے موجودہ صدر اشرف غنی دوسری بار عہدہ صدارت کے لیے امیدوار ہوں گے۔
طالبان کی طرف سے دی جانے والی دھمکیوں کے بعد سے افغان حکومت نے انتخابی جلسوں کی سکیورٹی سخت کردی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے افغان امن عمل کے لیے طالبان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو 'مردہ' قرار دیے جانے کے بعد سے افغانستان میں ہونے والے دھماکوں میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکہ اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات میں افغان حکومت شامل نہیں تھی اور ان مذاکرات کا مقصد افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا تھا۔