امریکہ سعودی عرب کی وجہ سے جنگ نہیں کرے گا: صدر ٹرمپ

  • منگل 17 / ستمبر / 2019
  • 4900

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہم جنگ نہیں چاہتے اور نہ ہی کبھی امریکا نے سعودی عرب سے اس کی حفاظت کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یہ محسوس ہورہا ہے کہ ایران ہی سعودی تنصیبات پر حملے میں ملوث ہے تاہم وہ پھر بھی خطے میں جنگ نہیں چاہتے۔  خیال رہے کہ امریکا نے الزام عائد کیا تھا کہ ایران اپنے حریف سعودی عرب میں تیل تنصیبات پر حملے میں براہ راست ملوث ہے۔

امریکا کے صدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ وہ سعودی عرب میں تیل تنصیبات پر ہونے والے حملے کا جواب دینے کے لئے تیار ہیں۔ اور واشنگٹن نے اپنے اہداف بھی لاک کرلیے ہیں۔ تاہم ایک روز بعد ہی اب اپنے حالیہ بیان میں امریکا کے صدر کا کہنا تھا کہ انہیں ایسا کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس مزید آپشنز موجود ہیں۔ ابھی ہم ان آپشنز کی جانب نہیں دیکھ رہے بلکہ پہلے ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ  حملہ کس نے کیا۔‘  امریکا تفتیش کر رہا ہے کہ کیا ان حملوں میں ایران ملوث ہے جبکہ اس حوالے سے امریکا کے صدر کا کہنا تھا کہ یہ یقیناً اسی طرف دیکھ رہے ہیں  ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ سعودی عرب کے لیے انہیں کسی تنازع میں جانے کی جلدی نہیں اور نہ ہی وہ جنگ کی خواہش رکھتے ہیں۔  

دورہ ترکی کے دوران ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا تھا کہ ’سعودی اتحادی فوجیوں کی یمنی عوام پر بمباری کے نتیجے میں وہاں کے باسی ’جوابی کارروائی‘ کر رہے ہیں۔  ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یمنی عوام اپنے دفاع کا قانونی حق استعمال کر رہے ہیں۔

امریکی صدر نے واضح کیا ہے کہ ’یہ حملہ سعودی عرب پر ہوا ہے ہمارے اوپر نہیں ہوا۔‘ خیال رہے کہ 14 ستمبر کو سعودی عرب میں حکومت کے زیر انتظام چلنے والی دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کے 2 پلانٹس ابقیق اور خریص پر ڈرون حملے کیے گئے تھے۔ ڈرون حملوں سے تیل کی تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی تھی تاہم سعودی پریس ایجنسی نے سعودی وزارت داخلہ کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ابقیق اور خریص میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔

اس حملے کی ذمہ داری حوثی باغیوں نے قبول کی تھی جبکہ اس کے عسکری ترجمان نے کہا تھا کہ سعودی حکومت کو مستقبل میں بھی ایسے مزید حملوں کی توقع رکھنی چاہیے۔