ریاست کی تصویر اور اقتصادی اشاریے

ہم 72سال سے تنازعہ کشمیر اور چالیس سال سے افغانستان کے معاملات میں اس قدر الجھے ہوئے ہیں کہ ملک کی معاشی سمت درست کرنے کے حوالے سے پالیسیاں بنانے کی فرصت نہیں ہے۔ہندوستان کے مقبوضہ کشمیر کو اپنے وفاق میں ضم کرنے کے بعد ہم اپنی تمام تر توجہ اس تنازعہ کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے صرف کر رہے ہیں۔

حکمرانوں کی طرف سے بیانات داغے جا رہے ہیں دوسری طرف حکومت نے سو سے زیادہ مشیر اس لیے مقرر کیے ہیں کہ وہ عوام کو باور کروائیں کہ سابق حکمران بد عنوان تھے۔افغانستان میں قیام امن کے مذاکرات امریکہ نے طالبان کے ساتھ ختم کر دیئے ہیں۔طالبان نے روس سے رجوع کیا ہے بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے روس طالبان کی مدد کر کے افغانستان میں اپنی شکست کا بدلہ امریکہ سے لینا چاہتا ہے۔  خارجی محاذ پر تو حکومت خاصی فعال دیکھائی دیتی ہے اور قوم کو جنرل اسمبلی سے عمران خان کے خطاب کے بعد کشمیر کے بارے میں حتمی پالیسی کا اعلان کیا جائے گا کہ کنٹرول لائن کو عبور کیا جائے یا نہیں۔ یہ خاصہ کٹھن فیصلہ ہے کیونکہ اس اقدام کو اٹھانے سے بے گناہ لوگوں کی جانین ضائع ہو سکتی ہیں۔

 دوسری طرف یہ کہا جا رہا ہے پاک بھارت تنازعات کا خاتمہ ایٹمی جنگ سے کیا جا سکتا ہے۔یہ دونوں ہی بیش رفت انتہائی خطر ناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ ہم کشمیر کے حوالہ سے 72سال سے تقرریں کر رہے ہیں اور 70سال پرانی اقوام متحدہ کی قرار دادوں کا حوالہ بھی دیا جا تا ہے۔ اس عرصے میں کتنے ملک آزاد ہوئے اور اقوام متحدہ کے اراکین ملک کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ ہم نے دنیا کے مختلف ممالک میں امن قائم کرنے کیلئے اپنی افواج بھجوائیں۔ اقوام متحدہ کے سب سے بڑے ڈونر امریکہ کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ نہ ہی ہم سفارتی دباؤ کے ذریعے یا پھر دوست اسلامی ممالک کے حوالے سے کشمیر کے بارے میں اپنے موقف کی حمایت حاصل کر پائے ہیں۔

بھارتی حکومتوں نے ذہانت کے ساتھ سرد جنگ ہو یا موجودہ گلوبلائزیشن، خود ساختہ علاقائی تنازعات کے باوجود اپنی تمام تر توجہ معاشی ترقی کی طرف مرکوز کر رکھی ہے۔ بھارت نے غیر وابستہ ممالک کی تحریک میں شامل ہو کر سویت یونین سے بے پناہ فوجی امداد حاصل کی تھی۔  دوسری طرف اس نے امریکہ کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو بہتر بنایا ہے۔سویت یونین کے منتشر ہونے کے بعد بھارت نے عالمی سرمایہ کے بہاؤ سے بے پناہ فائدہ اٹھایا جس سے وہاں ملٹی نیشنل کمپنیوں نے سرمایہ کاری کی۔ ہندوستان کے سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ نے اپنی آزاد منڈی  پالیسی کے ذریعے بے پناہ سرمایہ کاری کو ہندوستان میں یقینی بنایا۔ اس  پروگرام سے  آج نریندر مودی فائدہ اٹھا رہا ہے۔ آج بھارت صنعتی اور مضبوط تجارتی بنیادوں کی وجہ سے تمام ممالک بالخصوص اسلامی ممالک کے ساتھ خاصی تجارت کر رہا ہے جبکہ ہم اپنے مخصوص مائنڈ سیٹ کی وجہ سے دیگر ممالک میں اپنی حکمت عملی کی گہرائیوں کو مستحکم کرنے میں مصروف ہیں۔

 لمحہ فکریہ یہ ہے کہ 1979کے بعد میں آنی والی حکومتوں نے عالمی برادری کی طرف سے لگائے جانے والے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے الزامات کا جواب نہیں دیا۔ حالانکہ یہ تمام سرد جنگ کی مصنوعات کو امریکی اور اس کے اتحادیوں کی ضروریات کے تحت جہاد افغانستان کے تناظر میں تخلیق کیا گیا تھا۔ دہشت گردی کے ان واقعات کے خوف کی وجہ سے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے یہاں پر سرمایہ کاری روک دی۔ بین الاقوامی کمپنیوں نے فضائی پروازیں بند کر دیں۔ کئی دعا ساز اور مینو فیکچر کمپنیوں نے کاروبار بند کر دیا۔حکومتوں کی مجبوریاں اپنی جگہ، ان کے پاس کوئی ترقیاتی روڈ میپ موجود نہیں تھے، ہر حکومت کا متبادل اپوزیشن میں موجود ہوتا ہے۔ مگر یہاں پر دونوں ہی ایک جیسی اور مخصوص فکر کے دباؤ میں رہی ہیں۔ آج کل حکومت اور اپوزیشن دونوں کی دوڑ دھوپ جلسے جلوسوں، اسمبلیوں کے بائیکاٹ اور دھرنوں تک محدود ہے۔  مولانا فضل الرحمان اسلام آباد کو لاک اپ کرنے جا رہے ہیں جس کی حمایت کچھ اپوزیشن کے جماعتیں کر رہی ہیں۔ جبکہ پیپلز پارٹی کسی بھی مذہبی سیاسی تحریک میں شامل ہونے کو تیار نہیں ہے کیونکہ وہ چاہتی ہے تحریک انصاف کی حکومت اپنے عرصہ اقتدار کو پورا کرے۔اگر ایسا نہ ہوا تو ملک میں غیر جمہوری قوتیں زیادہ مضبوط ہو سکتی ہیں۔

یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہمارے دانشور حلقے دیانت سے بات کرنے سے گریزاں ہیں اور انہوں نے کبھی حقائق کو سامنے نہیں رکھا۔ آج ہم اخبارات میں کالم اور الیکٹرانک میڈیا پر بڑے بڑے تجزیہ نگاروں کے تبصرے سنتے ہیں لیکن ان کا مائنڈ سیٹ یکسانیت کا حامل ہے۔ انہوں نے آج تک یہ نہیں بتایا کہ ہماری ناکامیوں میں کونسے ادارے یا سیاسی جماعتیں رکاوٹ ڈالتی رہی ہیں جس کی وجہ سے ہم معاشی اہداف حاصل نہیں کر سکے۔ اور نہ ہی اداروں کی کارکردگی کوشفاف بنا سکے ہیں۔ ہم مذاکروں اور جلسوں میں لمبی چوڑی تقاریر کر کے عوام کو بے قوف بنا سکتے ہیں لیکن اس سے اقتصادی اور سماجی سدھار پیدا نہیں ہو سکتا۔  ہم ہر معاملے کو سیاسی اور جذباتی نقطہ نظر سے پرکھتے ہیں جبکہ زمینی معاشی سیاسی حقائق کو فراموش کر دیتے ہیں۔ آج ہم تنازعات کے حل کیلئے امریکہ کی طرف دیکھتے ہیں تو دوسری طرف بھارت دنیا کے تمام ممالک بالخصوص روس کے ساتھ بہتر تعلقات رکھنے کے باوجود امریکہ کے قریب ہے۔ سنا ہے کہ اگلے ماہ نریندر مودی اور صدر ٹرمپ ایک بڑے جلسہ عام سے مشترکہ خطاب کررہے ہیں۔ بھارت کو امریکہ کا جوہری تعاون حاصل ہے۔ وہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کیلئے ایک  بڑی  مارکیٹ  ہے۔ بھارت سے امریکہ جانے والے امریکی نژاد بھارتیوں نے وہاں کی سیاست میں بھرپور حصہ لیا ہے اور اپنے آبائی وطن کیلئے امریکی اداروں میں حمایت حاصل کی ہے۔

اس طرح بھارت امریکہ دوست ہے اس نے کبھی اس پر دہشت گردی کا الزام عائد نہیں کیا ہے۔ کیا ہمارے پاکستانی تارکین وطن کو ایسا کردار ادا نہیں کرنا چاہے تھا۔ شائد وہ ایسا کرنا چاہتے تھے مگر پاکستان میں موجود قبضہ گروپوں نے انہیں موقع نہیں دیا۔  آج ان کی نسلیں پاکستان آنے کا نام لینے کو تیار نہیں ہیں حالانکہ پاکستان میں دہشت گردی کم ہو گئی ہے مگر ان کالعدم تنظیموں کے ساتھ ریاستی اداروں کا کشیدہ تال میل ختم نہیں ہوا ہے۔ ایک خبر کے مطابق پاکستان میں اسلامی تاریخ کا نصاب مرتب کرنے کیلئے مختلف کالعدم تنظیموں کے لیڈروں کی حمایت حاصل کی گئی ہے۔یہ کیسی تاریخ اور نصاب ہوگا اس کو ان تنظیموں کے فرقہ وارانہ مسلکی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے جس میں مخصوص ہوتا ہے ابھی ضیاء آمریت کے نظریاتی وارث موجود ہیں۔

یاد رہے دنیا کے ممالک اور تھنک ٹینک ہماری سیاسی نظریاتی مسائل تجزیات جلسے جلوسوں کو نہیں دیکھتے بلکہ وہ معاشی اشاریوں کو دیکھتے ہیں۔ ہماری برآمدات میں کتنا اضافہ ہوا ہے قومی ترقی شرح نموکیا ہے، زر مبادلہ کتنا ہے۔ کیا ہم برآمدی گراؤتھ کے ذریعے کما رہے ہیں۔ ہم نے سائنسی تحقیقات کے کتنے ادارے اور یونیورسٹیاں قائم کی ہیں جس سے ہم جدید مصنوعات کی پیدا وار کر رہے ہیں فی کس آمدنی کیا ہے۔ سیاحت کی کیا صورتحال ہے۔ زرعی پیدا وار میں اضافہ کیلئے ہم نے کیا تحقیقات کی ہیں۔ عوام کی انصاف تعلیم اور صحت تک کتنی رسائی ہے۔ بد عنوانی کا کیا لیول ہے۔ وہ نہیں دیکھتے کہ جلسے اور ریلیوں میں کتنے لوگ آتے یا لائے گئے ہیں۔ کتنے فنکاروں نے وہاں پر پرفارم کیا ہے جبکہ وہ معاشی ترقی کی حرکیات اور جمہوریت دوست پالیسیوں کی طر ف دیکھتے ہیں۔ ہمارے ارباب اختیار مسئلہ کشمیر اور افغانستان میں اس قدر الجھے ہیں کہ انہیں نہیں معلوم کہ مہنگائی کے ہاتھوں لوگوں کی محرومیوں میں کتنا اضافہ ہو رہا ہے۔ شائد ان کو اس بات کا یقین ہے انہیں مڈل کلاس اور بلائی طبقات نے ووٹ دیے اور  حکومت دلانے میں کچھ اداروں کا کردار ہے۔ اس لیے انہیں عوام سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں مہنگائی میں اضافہ ہو اہے۔ اس کی شرح 5.84سے بڑھ کر11.63%ہو گئی ہے۔ادارہ شماریاتی کنزیومر پرائس انڈکس کے مطابق اگست2018کے مقابلے میں شرح مہنگائی میں ڈبل ڈیجٹ اضافہ ہوا ہے جو کہ گزشتہ سال کی بد ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ مارکیٹ میں ضروریات اشیاء کے دام روزانہ بڑھتے ہیں۔ ادارہ شماریات کے مطابق مہنگائی کی بنیادی وجہ بجلی، گیس اور پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ روپے کی قدر کی قیمت نے غریب کی قوت خرید کو متاثر کیا ہے۔ حکومت کے ٹیکس عائد کرنے کے نام پر منافع خوروں نے اپنے منافعوں میں خوش ربا اضافہ کیا ہے جس سے غریب آدمی اپنے بچوں کو نا بہتر روٹی، نہ بہتر تعلیم اور نہ بہتر علاج معالجے کی سہولتیں مہیا کر سکتا ۔گورنر اسٹیٹ بینک اور بینکوں کے صدور کی فیڈریشن کی میٹنگ میں بتایا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے پالیسی ریٹ 13.25%ہونے کی وجہ سے بینکوں کے قرضہ پر مارک اپ کی شرح 16سے17فیصد ہو گئی ہے۔ اتنے مہنگے قرضوں کی موجودگی میں نہ کوئی نئی صنعت لگائی جا سکتی ہے نہ کوئی نیا کاروبار شروع کیا جا سکتا ہے۔ اور نہ ہی نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔

 ملک میں بے روز گاری اور غربت میں اضافہ ہوگا۔آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی پیشین گوئیاں اس بات کا عندیہ دیتی ہیں کہ پاکستان کی معیشت آئندہ دو سال تک شدید دباؤ کا شکار رہے گی۔ لہذا حکومت کو چاہئے کہ موثر معاشی اصلاحات کر کے پاکستان کو تیزی سے جی ڈی پی گراؤتھ والے ممالک میں شامل کرے۔ مگر ان تمام کاموں کیلئے داخلی سیاسی محاذ آرائی کو ختم کرنے اور تمام اسٹیک ہولڈر کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں اقتصادی عمرانی معاہدے کو طے کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ احتساب کے نام پر پولیٹکل انجینئرنگ کا عمل پاکستان معیشت پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔