کشمیر تنہا ہے

کیا جنت نظیر سے دنیا نے منہ موڑ لیا ہے۔ کیا کشمیر کو دنیا نے تنہا چھوڑ دیا ہے۔ کیا کشمیر اپنی ساری رعنائیوں کے باوجود خجل اور افسردہ رہ گیا ہے۔ کیا دنیا کے مسلمانوں نے ہی کشمیر سے منہ موڑ لیا ہے۔ اور ہلاکت زدہ کشمیریوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے۔

 کیا دنیا یہ دیکھنے سے قاصر ہے کہ کشمیر کی سرزمین پر ہٹلر کی آئیڈیالوجی دوسرا جنم لے رہی ہے۔ اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ کشمیر کے مسلمانوں کو طاقت اور بربریت کے زور سے گلوبل ولیج سے یک قلم خارج کرنے کیلئے وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ کیا کشمیر کی جنت نظیر نے دنیا کے اندھیروں کی طرف سفر شروع کر دیا ہے۔ کیا کشمیر کو انسانی عظمت اور حق خود ارادیت کے حقوق سے دور کرنے کی منظم سعی کی جا رہی ہے۔ آج کشمیری مسلمان ہونے کے ناطے زیر عتاب ہیں۔ وہ اپنی جنم بھومی کشمیر کے بے داغ سبزے کو وطن کہنے سے قاصر ہیں۔ کوئی یہ نہیں بتا سکتا کہ یہ لوگ کون ہیں۔ کہاں سے آئے ہیں۔ کسی کو فرصت نہیں کہ ان کے خون میں کشمیر کی مٹی کی باس رچی ہوئی ہے۔

ہر ایسے لمحے ہم مغرب اور امریکہ کی طرف دیکھنے لگتے ہیں۔ کہ ہمارے سفید فام آقا آ کر کشمیر کا مسئلہ حل کریں۔ اور ان کو حق خودارادیت عطا کریں۔ کیونکہ وہ بے دست و پا ہیں۔ بے یارومددگار ہیں۔ کسی کو فرصت نہیں کہ دیکھ سکے کہ روسیاہ بھارتی حکمران کشمیر میں نازی اقدار کی بنیادیں رکھ رہے ہیں۔ اور بھارت کو ایک بار پھر ان ہی اقدار سے روشناس کرنا چاہتے ہیں جو ہٹلر نے نازی جرمنی میں نافذ کئے تھے۔

ہم UN کو یاد کروانا چاہتے ہیں کہ ہٹلر کے Construction  کیمپ آج بھی دفاؤ DACHAU اور ایش واز ASCHWITZ میں موجود ہیں۔ جو باعث عبرت ہیں۔ کیا یو این کشمیر میں ایسے کیمپ دیکھنے کے متمنی ہیں؟ کشمیری مسلمان دیکھ رہے ہیں کہ ان کی سرحدوں پر ایٹمی ہتھیاروں سے لیس غنیم ایستادہ ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو ہم باآسانی پیش گوئی کر سکتے ہیں کہ جیت کسی بھی نہ ہو گی۔ گنجان آباد بھارت اور گنجان آباد پاکستان دو ممالک بے آب و گیاہ ہیروشیما اور ناگاساکی کی طرح سلگتے رہیں گے۔

کشمیر تنہا ہے۔ لے دے کے صرف پاکستان ہی رہ گیا ہے جو کشمیری مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کر رہا ہے۔ ہم پوچھتے ہیں کہ امت مسلمہ کہاں ہے۔ یہ بنگلہ دیشی کون ہیں؟ یہ افغان کون ہیں؟ یہ سعودی کون ہیں؟ یہ یمنی اور عمانی کون ہیں؟ اور اس کڑے وقت میں متحدہ عرب امارات نے ”گجرات کے قصاب“ کو گھر بلا کر ملک کے سب سے بڑے اعزاز سے نوازتے ہیں۔ اور بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں (معذرت خواہ ہیں، یہاں ہم سبحان اللہ نہیں کہنا چاہتے) تو چھوٹے میاں نے بھی اپنے آقا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بڑے میاں کی تقلید کی۔ اور سعودی شہزادے نے بھارت میں سرمایہ کاری کی۔

چوں کفر از کعبہ بر خیزد کجا ماند مسلمانی؟

ہم پکار رہے ہیں کہ انٹرنیشنل کونسل آف جسٹس کہاں ہے؟ ہیومن رائٹس کے پھریرے اڑانے والے کہاں ہیں؟ اور اسلامی تنظیموں کے سربراہ کہاں ہیں؟ ان کو معلوم نہیں کہ پورے کا پورا مقبوضہ کشمیر ہٹلر کا کنسٹرکشن کیمپ بنا پڑا ہے اور ہم یہ بھی کہنا چاہتے ہیں کہ آج ہم اکیسویں صدی میں وہ رہے ہیں؟

یار و اغیار کے ہاتھوں میں کمانیں تھیں فراز

اور سب دیکھ رہے تھے کہ نشانہ تو تھا