اقلیتوں پر حملے کشمیر کا مقدمہ کمزور کریں گے: عمران خان
- بدھ 18 / ستمبر / 2019
- 4350
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہندو برادری کے خلاف ہونے والا تشدد ملک کے خلاف سازش ہوگا۔ وہ گھوٹکی واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔
طورخم سرحد پر نئے ٹرمینل کے افتتاح کے موقع پر صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے گھوٹکی میں ہندو برادری کی عبادت گاہ کو نقصان پہنچانے اور مظاہروں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ گھوٹکی میں پیش آنے والا واقعہ اقوام متحدہ میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ان کی تقریر کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے تمام اقلیوں کو یہ یقین دہانی کروائی تھی وہ اس ملک کے برابر کے شہری ہیں۔ آئین پاکستان اور دین اسلام میں بھی اقلیتوں کو برابر کے شہری حقوق دیے گئے ہیں۔
چند روز قبل گھوٹکی کے سندھ پبلک اسکول کے ایک طالب علم نے ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے اسکول کے پرنسپل پر توہین مذہب کا الزام لگایا تھا۔ جس بعد پرنسپل کے خلاف مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔ ان ہنگاموں میں اقلیتی برادری کی عبادت گاہوں اور املاک کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔
بھارت کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پڑوسی ملک پر انتہا پسندوں نے قبضہ کرلیا ہے۔ مودی حکومت کی پالیسی آر ایس ایس کی پالیسی ہے جو پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز ہے۔ مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنادیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’میں اپنی قوم سے وعدہ کرکے جارہا ہوں کہ میں اس طرح کشمیر کا کیس اقوام متحدہ میں پیش کروں گا جو آج تک کسی نے نہیں کیا‘۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ کشمیر میں جاکر جہاد کرے گا تو وہ کشمیریوں کے ساتھ ظلم کرے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت پوری کشمیری قوم بھارت کے خلاف ہے اور جو ان کے ساتھ تھے اب وہ بھی بھارت کے خلاف ہوگئے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت بری طرح پھنسا ہوا ہے۔ بین الاقوامی برادری اس کے خلاف بیانات دے رہی ہے۔ عالمی فورم پر دہائیوں بعد بات ہورہی ہے جس کی وجہ سے ان پر دباؤ بڑھتا جارہا ہے اور اس کی رہی سہی کسر میں اقوام متحدہ میں پوری کردوں گا۔
قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے طورخم سرحد کو باقاعدہ طور پر 24 گھنٹے کھلے رکھنے کی سروس کے لیے ٹرمینل کا افتتاح کیا۔ اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ اس سرحد کے کھلنے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت میں اضافہ ہو گا۔
طالبان اور امریکا مذاکرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’افغان امن عمل کے لیے ہم سے جو سکتا تھا ہم نے کیا۔ ان کی ملاقاتیں کروائیں، طالبان قیادت کو قطر پہنچایا جس کا اعتراف خود امریکا بھی کرتا ہے۔ ہمیں یہ نہیں معلوم کہ یہ بات چیت کہاں تک پہنچی کیونکہ پاکستان نے کبھی اس میں شرکت نہیں کی۔ اگر ہمیں یہ معلوم ہوتا کہ مسائل کہاں ہیں تو شاید پاکستان مزید کوشش کرتا‘۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگر طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات آگے نہ بڑھے تو یہ بہت بڑا نقصان ہوگا۔ وہ نیویارک میں امریکی صدر سے ملاقات کے دوران انہیں بات چیت آگے بڑھانے پر آمادہ کریں گے۔