نیب نے پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ کو گرفتار کرلیا

  • بدھ 18 / ستمبر / 2019
  • 4440

قومی احتساب بیورو نے قومی اسمبلی کے رکن اور پاکستان پیپلز پارٹی  کے سینئر رہنما خورشید شاہ کو گرفتار کرلیا ہے۔ نیب کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نیب سکھر نے خورشید شاہ کو آمدنی سے زائد اثاثہ جات کیس میں گرفتار کیا ہے۔

انہیں ریمانڈ کے لیے جمعرات کو متعلقہ احتساب عدالت سکھر میں پیش کیا جائے گا۔ نیب ذرائع کے مطابق نیب کی مشترکہ ٹیم نے آمدن سے زائد اثاثے سے متعلق کیس میں خورشید شاہ کو بنی گالہ میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا۔ پی پی پی کے رہنما کے خلاف نیب میں 3 تحقیقات چل رہی ہیں۔

نیب ذرائع کا کہنا تھا کہ خورشید شاہ کو نیب تحقیقات کے سلسلے میں سوالنامہ بھی بھجوایا گیا تھا، جس کے وہ تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔ خورشید شاہ کی گرفتاری کے بعد خورشید شاہ کے ملازمین نے بتایا کہ نیب اور پولیس کے تقریباً 20 افراد خورشید شاہ کے گھر پہنچے تھے۔

نیب کی جانب سے خورشید شاہ کو سکھر میں طلب کیا گیا تھا لیکن پیپلز پارٹی کے رہنما کی جانب سے یہ کہہ کر پیشی سے معذرت کرلی گئی تھی کہ وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہیں۔ خورشید شاہ  خود پر عائد تمام الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔

نیب کا الزام ہے کہ خورشید شاہ  رہائشی اسکیموں، پیٹرول پمپس، زمینوں اور دکانوں کے مالک ہیں۔ اس کی تفصیلات حاصل کرلی گئی ہیں۔

خورشید شاہ کی گرفتاری پر سندھ حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے انتہائی سخت ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔   پارٹی چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ حکومت تمام سیاسی مخالفین کو جیلوں میں بند کرنا چاہتی ہے۔ سینیٹر شیری رحمان نے بھی سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اس گرفتاری کو بلاجواز قرار دیا اور حکومت کی سخت الفاظ میں مذمت کی ۔ ان کا کہنا ہے کہ رکن قومی اسمبلی کو سیشن کے دوران اسپیکر کے علم میں لائے بغیر گرفتار کر کے مذموم مقاصد کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔