میڈیا ورکرز کی مرضی کے بغیر کوئی قانون مسلط نہیں کیا جائے گا: فردوس عاشق اعوان
- جمعرات 19 / ستمبر / 2019
- 4040
وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ حکومت میڈیا کو ذمہ دار کردار ادا کرتے دیکھنا چاہتی ہے۔ ان پر کوئی قانون زبردستی مسلط نہیں کیا جائے گا۔
پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے معاون خصوصی نے کہا کہ پاکستان کو بہتر حالات پر گامزن کرنے اور ملک میں آنے والی مثبت تبدیلوں کو اجاگر کرنے اور دنیا میں بہتر تصور پیش کرنے کے لیے میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہے۔ اگر کوئی بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ملک میں سرمایہ کاری لانا چاہتا ہے تو میڈیا پر آنے والے بے سروپا تبصروں اور منفی رپورٹنگ کے باعث اس کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت آپ کے سامنے جوابدہ ہے لیکن قومی مفاد کے حوالے سے چلائی جانے والی خبروں میں ذمہ داری چاہتے ہیں۔ اگر ملک کے اہم معاملات کے حوالوں سے خبروں پر متعلقہ حکام کی رائے بھی لی جائے۔
انہوں نے کہا کہ پریس کونسل میں میڈیا کارکنان کی شکایات کا ازالہ نہیں کیا جاتا جبکہ وزارت اطلاعات کے بجائے پاکستان الیکٹرونک میڈیا اتھارٹی (پیمرا)، جو ایک ریگولیٹر ہے، اس کا کام ہے کہ کسی چیننل کو لائسنس دینے سے قبل کارکنان کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت لے۔
انہوں نے بتایا کہ اس صورتحال پر بیٹھ کر بات چیت ہوئی تاہم ابھی تک حکومت نے میڈیا ٹریبونلز کا حتمی ڈرافٹ تیار نہیں کیا۔ بلکہ ایک کابینہ اجلاس میں اراکین نے تحفظات کا اظہار کیا تھا کہ ذاتی عناد کی بنا پر ان کی شہرت کو نقصان پہنچایا جس پر وزیراعظم نے تجاویز طلب کی تھیں۔ تاکہ میڈیا کو ذمہ دار بنانے کے لئے اقدامات ہو سکیں۔
وزیراعظم کو تجویز دی گئی کہ پیمرا کے ڈھانچے کو ازسر نو تشکیل دیا جائے جس کے ساتھ شکایات کی کونسل بھی منسلک ہو جس سے میڈیا ملازمین کے مسائل کا حل بھی ممکن ہوسکے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ جب پیمرا اپنے ضابطہ اخلاق پر عمل کرتا ہے تو اپوزیشن کی جانب سے شور مچایا جاتا ہے کہ یہ حکومت کروارہی ہے۔ لہٰذا حکومت کی خواہش ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کی سرپرستی میں ایک ایسا میکینزم تشکیل دے دیا جائے جو حکومتی بیساکھیوں سے آزاد ہو۔ تاہم وہ ایک لائحہ عمل طے کرنا چاہتی ہے جس میں میڈیا کی سمت کا تعین کردیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کورٹس کی تشکیل کے سلسلے میں حتمی ڈرافٹ کو وزیراعظم عمران خان کی دورہ امریکا سے واپسی پر منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا اور اس سلسلے میں آپ سے بھی رائے لی جائے گی۔
مشیر اطلاعات نے کہا کہ کچھ صحافی حکومت کا کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں اور جنہوں نے اپنی جانب سے ہی دعویٰ کردیا تھا کہ ڈرافٹ تیار ہوچکا ہے۔ تاہم ہم پریس کونسل، پریس کلبز، سی پی این ای، بی بی اے، اے پی این ایس اور پارلیمانی ایسوسی ایشن سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کریں گے۔ انہوں نے صحافیوں کو یقین دلایا کہ پارلیمان میں قانون منظور کروانے سے پہلے صحافتی تنظیموں کی رائے لی جائے گی۔