سعودی عرب یا امریکہ کی جانب سے ایران پر کسی بھی حملے کا مطلب کھلی جنگ ہو گا: جواد ظریف

  • جمعرات 19 / ستمبر / 2019
  • 7570

ایرانی وزیر خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ ان کے ملک پر کسی بھی حملے کو کھلی جنگ تصور کیا جائے گا۔ یہ بیان امریکہ کے وزیرِ خارجہ کی جانب سے سعودی تنصیبات پر حملے کے بعد سعودی عرب کے حقِ دفاع کی حمایت کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

جمعرات کو امریکی چینل سی این این سے بات کرتے ہوئے جواد ظریف کا کہنا تھا کہ 'میں ایک انتہائی سنجیدہ بیان دے رہا ہوں کہ ہم جنگ نہیں چاہتے، ہم کسی عسکری تنازع میں الجھنا نہیں چاہتے مگر ہم اپنے علاقے کا دفاع کرنے کے لیے آنکھ بھی نہیں جھپکیں گے۔'

ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ امریکہ اور ان کے حامیوں کے سعودی تیل کی تنصیبات کے حوالے سے ایران پر الزامات امریکی صدر کو ایک جنگ میں دھکیلنے کی کوشش بھی ہوسکتے ہیں۔  ٹوئٹر پر ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ 'جنگی کارروائی یا جنگ کے لیے کوششیں؟ بی ٹیم اور ان کے پرعزم ساتھی ڈونلڈ ٹرمپ کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔' ماضی میں جواد ظریف نے بی ٹیم کی اصطلاح اسرائیلی وزیراعظم نتیتن یاہو اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے لیے استعمال کی تھی۔

مائیک پومپیو بدھ کو سعودی حکام سے ملاقات کے لیے ریاض پہنچے تھے اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے بعد ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ایران کے اقدامات کو برداشت نہیں کیا جا سکتا اور تیل تنصیبات پر حملے نہ صرف سعودی عرب بلکہ امریکی شہریوں اور دنیا میں تیل کی رسد کے لیے بھی خطرہ تھے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ یہ بات یقینی دکھائی دے رہی ہے کہ تیل کی تنصیبات پر حملوں کے پیچھے ایران کا ہی ہاتھ تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ جوابی اقدام کے لیے امریکہ کے پاس ’بہت سے آپشنز‘ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایک آخری آپشن ہے اور پھر کچھ اس سے کم درجے کے آپشنز ہیں۔ ہم دیکھیں گے، ہماری پوزیشن بہت مضبوط ہے۔‘ بدھ کو ایک ٹویٹ میں صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے امریکی وزیرِ خزانہ سے ایران پر عائد پابندیوں میں مزید سختی اور اضافے کے لیے بھی کہا ہے۔

صدر ٹرمپ کے اس اقدام پر ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے امریکہ کی ’اشتعال انگیز معاشی جنگ‘ کی مذمت کی ہے۔  ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ امریکہ کا مقصد جان بوجھ کر ایرانی عوام کو نشانہ بنانا ہے۔

یاد رہے کہ سنیچر کو سعودی عرب میں بقیق اور خریص کے علاقوں میں سعودی تیل کمپنی 'آرامکو' کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں میں دنیا میں تیل صاف کرنے کا سب سے بڑا کارخانہ بھی متاثر ہوا۔ اس سے سعودی عرب کی نصف پیداوار معطل ہو گئی ہہے جس سے تیل کی عالمی رسد میں کمی آئی ہے۔