افغانستان: امریکی ڈرون حملے اور بم دھماکے میں 50 افراد ہلاک
- جمعرات 19 / ستمبر / 2019
- 5840
افغانستان میں طالبان کے ایک ٹرک بم حملے میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جب کہ امریکہ کے ایک ڈرون حملے میں 30 عام شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔
حکام کے مطابق شہریوں کی ہلاکت کا واقعہ بدھ کی رات صوبہ ننگرہار کے مشرقی علاقے وزیر تنگی میں پیش آیا۔ حملے میں 40 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ افغان حکومت کے تین اہلکاروں نے خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ امریکی ڈرون حملے کا ہدف داعش کے دہشت گردوں کا ایک ٹھکانہ تھا۔ لیکن ان کے بقول ڈرون نے غلطی سے نزدیک واقع کھیتوں میں موجود کسانوں پر بمباری کردی۔
واضح رہے کہ داعش کے جنگجو ننگرہار میں سرگرم ہیں اور وہاں ان کی طالبان اور افغان سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔ علاقے کے ایک قبائلی رہنما مالک راحت گل نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے تمام افراد مزدور اور کسان تھے جو کھیتوں سے چلغوزے چننے کے بعد آرام کر رہے تھے۔
افغانستان کی وزارتِ دفاع اور افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے ایک ترجمان نے علاقے میں ڈرون حملے کی تصدیق کی ہے لیکن اس میں شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی ہے۔ امریکی فوج کے ترجمان کرنل سونی لیگٹ نے کہا ہے کہ امریکی فوج نے ننگر ہار میں داعش کے دہشت گردوں پر ڈرون حملہ کیا تھا جس میں عام شہریوں کے ہلاک ہونے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ ترجمان کے بقول امریکی فوج حقائق جاننے کے لیے مقامی حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔
دریں اثنا افغانستان کے جنوبی صوبے زابل میں ایک اسپتال کے نزدیک ٹرک بم حملے میں کم از کم 20 افراد ہلاک اور 95 زخمی ہوگئے ہیں۔ حملہ صوبہ زابل کے دارالحکومت قلات میں جمعرات کی صبح کیا گیا۔ طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا ہدف افغانستان کے انٹیلی جنس ادارے کی ایک عمارت تھی۔
افغان وزارتِ دفاع کے ایک سینئر اہلکار نے 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ دھماکہ خیز مواد کی مقدار بہت زیادہ تھی جسے ایک ٹرک میں چھپایا گیا تھا۔ اہلکار کے مطابق حملہ آور افغان انٹیلی جنس ایجنسی 'نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی' کےایک تربیتی مرکز کو نشانہ بنانا چاہتے تھے لیکن بظاہر وہاں تک رسائی نہ ملنے کے باعث ٹرک کو نزدیک واقع ایک اسپتال کے دروازے کے باہر کھڑا کرکے فرار ہوگئے تھے۔