امریکہ، سعودی تنصیبات پر حملے سے پیدا ہونے والے بحران کا پر امن حل چاہتا ہے: پومپیو
- جمعہ 20 / ستمبر / 2019
- 3980
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ امریکہ سعودی تیل تنصیبات پر حملے سے جنم لینے والے بحران کا پر امن حل چاہتا ہے۔
پومپیو نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر سعودی تیل کی تنصیبات پر ہونے والے حملے کا الزام ایران پر لگایا تھا اور اس ’جنگی حرکت‘ کی مذمت کی تھی۔ اس حملے سے سعودی عرب کی تیل کی نصف پیداوار متاثر ہوئی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے امریکہ اور اس کے اتحادی خلیج ممالک پر واضح کیا تھا کہ ’اگر ایران پر کسی طرف سے بھی حملہ ہوا تو یہ کھلی جنگ کا آغاز ہوگا‘۔
سعودی دارالحکومت ریاض اور متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں ملاقات کرنے کے بعد مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ’خطے میں اتفاقِ رائے‘ پایا جاتا ہے کہ ایران کی تردید کے باجود حملے اسی نے کیے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکہ محاذ آرائی سے نکلنے کی راہ تلاش کرنے کا عزم رکھتا ہے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم پرامن حل چاہتے ہیں اور میرے خیال میں ہم نے ایسا کرکے بھی دکھایا ہے اور مجھے امید ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران بھی اس کو اسی نظر سے دیکھے گا‘۔
امریکی سیکریٹری اسٹیٹ نے ریاض میں ولی محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی۔ اور تیل کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کو عالمی عزم کا امتحان قرار دیا تھا۔
سعودی حکام نے انکشاف کیا تھا کہ ملک کے مشرق میں قائم تیل کی تنصیبات پر 25 ڈرونز اور کروز میزائلز سے حملہ کیا گیا تھا جس سے وہاں آگ بھڑک اٹھی تھی۔ ان حملوں کی ذمہ داری یمن کے حوثی باغیوں نے قبول کی تھی لیکن واشنگٹن اور ریاض دونوں نے اس دعوے کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔
14 ستمبر کو سعودی عرب میں حکومت کے زیر انتظام چلنے والی دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کے 2 پلانٹس پر ڈرون حملے کیے گئے تھے۔ حوثی باغیوں نے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ سعودی حکومت کو مستقبل میں بھی ایسے حملوں کی توقع رکھنی چاہیے۔