امریکہ کی طرف سے کشمیر پر عمران خان کے بیان کا خیرمقدم

  • جمعہ 20 / ستمبر / 2019
  • 4100

امریکی وزارت خارجہ وزیر اعظم عمران خان کے اس بیان کا خیر مقدم کیا ہے کہ کشمیر جانے والے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو نقصان پہنچانے کا سبب بنیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان سے کشمیر جانے کے خواہش مند افراد کو خبردار کیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے 2 روز قبل کہا تھا کہ جو کوئی مقبوضہ کشمیر میں جا کر لڑے گا وہ کشمیریوں پر ظلم کرے گا اور کشمیر کاز کو نقصان پہنچائے گا۔ میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ’پاکستان میں اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ کشمیر میں جاکر جہاد کرے گا تو وہ کشمیریوں کے ساتھ ظلم کرے گا‘۔

اس بیان کا امریکی قائم مقام اسسٹنٹ سیکریٹری برائے جنوبی اور وسطی ایشیائی امور ایلس ویلز نے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان کی جانب سے ہر قسم کے دہشت گرد گروہوں کو ختم کرنے کا عزم خطے کے استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے‘۔

ایلس ویلز کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور پاکستان وزیراعظم عمران خان 27 ستمبر کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان اعلان کرچکے ہیں کہ وہ اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر پر روشنی ڈالیں گے اور بھارت کے 5 اگست کے فیصلے کے حوالے سے بھارت کے قانونی اور اخلاقی دیوالیہ پن کا پردہ چاک کریں گے۔

دوسری جانب بھارتی سفارتکاروں نے صحافیوں کو بتایا کہ بھارتی وزیراعظم کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے حوالے سے کوئی بات نہیں کریں گے بلکہ وہ نئی دہلی کے اسی موقف کو دہرائیں گے کہ پاکستان اس صورتحال کا فائدہ اٹھا کر وادی میں کشیدگی پیدا کرنے کے لیے عسکریت پسندوں کو بھیج سکتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان واضح کرچکے ہیں کہ پاکستان اس قسم کی تمام سرگرمیوں کی مخالفت کرتا ہے اور عسکریت پسندوں کو موجودہ صورتحال کا فائدہ اٹھانے سے روکنے  کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔ اسلام آباد کو اندیشہ ہے کہ بھارت دراندازوں کو استعمال کرکے کشمیر میں کوئی اشتعال انگیزی کرسکتا ہے جس کا الزام پاکستان پر عائد کیا جاسکتا ہے۔

پاک افغان سرحد طورخم بارڈر 24 گھنٹے کھلا رکھنے کی تقریب کے موقع پر وزیراعظم نے کہا تھا کہ بھارت کو اس وقت کشمیر میں بہانہ چاہیے۔ وہاں اس نے 9 لاکھ فوج جمع کی ہوئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے تھا کہا کہ پاکستان میں اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ کشمیر میں جاکر جہاد کرے گا تو وہ کشمیریوں کے ساتھ ظلم کرے گا۔

وزیراعظم نے کہا تھا کہ ’مقبوضہ کشمیر میں بھارت بری طرح پھنسا ہوا ہے، بین الاقوامی برادری اس کے خلاف بیانات دے رہی ہے۔  عالمی فورم پر دہائیوں بعد بات ہورہی ہے جس کی وجہ سے ان پر دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔

بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کو خصوصی ریاست کی حیثیت ختم کردی تھی۔  اس کے ساتھ ہی کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا تھا۔ اس فیصلے ہر احتجاج اور کشمیریوں کے سخت ردِ عمل کے پیش نظر ایک روز پہلے سے ہی وادی میں موبائل فون، انٹرنیٹ سمیت ٹیلی فون لائنز منقطع کردی تھی۔

وادی میں کئی لاکھ فوجی اہلکاروں کی موجودگی کے باوجود بھاری تعداد میں سیکیورٹی فورسز کے مزید اہلکاروں کو تعنیات کرکے کہیں کرفیو تو کہیں لاک ڈاؤن کردیا گیا تھا۔ اس دوران نقل و حرکت پر پابندیوں کے باوجود کشمیریوں کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک ڈیڑھ ماہ کے عرصے میں 700 سے زائد مظاہرے ہوچکے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا کہ مقبوضہ کشمیر نے 4 ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں سے نصف کو چھوڑدیا گیا جبکہ متعدد افراد کو بھارت کے دیگر علاقوں کی جیلوں میں قید رکھا گیا ہے۔