تعلیم اور والدین دوہرے شکنجے میں

  • تحریر
  • جمعہ 20 / ستمبر / 2019
  • 4420

ہمیں شکایات موصول ہو رہی ہیں، والدین احتجاج کر رہے ہیں کہ  مختلف جگہوں  پر سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود  فیسوں میں زیادہ تناسب سے اضافہ کیا گیا ہے۔  میں ایسے اسکولوں کو تنبیہ کرتا ہوں کہ  فیصلے کی خلاف ورزی کی صورت میں حکومت سخت ایکشن لے گی۔ ہمیں یہ  شکایات بھی  ملی ہیں کہ  کچھ اسکول کئی  دوسرے طریقوں مثلاٌ کتابوں یا یونیفام وغیرہ  کی صورت  میں بھی  والدین پر بوجھ ڈال رہے ہیں۔ ٌ   سپریم کورٹ  کے حالیہ فیصلے پر عمل درآمد کے سلسلے میں  وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود  کی اپنے تئیں یہ ایک سخت پریس ٹاک تھی۔

اس قدر واضح کلام کے باوجود مگر والدین  کا وزیر تعلیم  پر اعتماد کا یہ عالم تھا۔۔ وزیر کا بیان نرا ڈرامہ ہے، انہیں گزشتہ پانچ چھ سال سے والدین کا احتجاج نظر نہیں آیا۔  آج سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا ہے تو نمبر گیم کے لئے یہ سب کچھ کہنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ لگتا ہے بے  یقینی اور بے اعتمادی نے سیاست کے ساتھ ساتھ تعلیم کا گھر  بھی دیکھ لیا ہے۔ سالہاسال سے پرائیویٹ اسکولوں کے والدین شکوہ کنا ں تھے کہ فیسوں میں ہرسال من چاہا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ گرمیوں  کی چھٹیوں میں بھی  فیسیں پوری  اور  ایڈوانس وصول کی جاتی ہیں۔ رہی سہی کسر ان ہی  اسکولوں سے کتابیں اور یونیفارم خریدنے  کی مجبوری سے  نکل جاتی ہے۔  اس  شکستہ قرار ی پر نصیر ترابی یاد آئے:

یہی  شہر  شہر ِ قرار  ہے  تو  دلِ شکستہ  کی خیر ہو

مری آس ہے کِسی اور سے مجھے پوچھتا کوئی اور ہے

یوں تو تعلیمی نظام  میں کئی دبستاں رائج ہیں لیکن فی الوقت صرف پرائیویٹ اسکولوں کے دوہرے نظام  کا ذکر مقصود ہے۔ گزشتہ تیس پینتیس سالوں کے دوران   شہروں  میں ہائی اینڈ  انگلش  میڈیم اسکولوں کو خوب فروغ ملا۔  سرکاری اسکولوں کے معیار میں مسلسل پستی  نے ان کے پھیلاؤ میں بالواسطہ معاون کردار ادا کیا۔ شہروں میں ابھرتی ہوئی  وسیع  مڈل کلاس  اور ان کی خوشحالی  نے ملک بھر میں  چار پانچ  بڑے اسکولوں کی چینز  (Chains)  کے لئے انتہائی منافع بخش کاروبار  کا میدان ایسا کھولا کہ  یہ میدان  پھیلتا ہی  چلاگیا۔ ان اسکولوں میں مڈل اور اپر مڈل کلاس کے  بچے بچیاں پڑھانا والدین کے لئے  ایک لگا بندھا  سا معاشرتی ضابطہ  بن گیا۔              داخلوں کے لئے لگی لمبی لائنیں اور  طویل انتظار کے مارے والدین داخلہ  ملنے کو ہی  خدائی نعمت اور اولاد کی کامیابی کی ٹکٹ سمجھ کر بھاری بھر کم فیسیں ادا کرتے اور شکرانہ الگ ادا کرتے۔  اس منفرد کاروبار  میں موناپلی   (Monoply)اور مسلسل پھیلاؤ نے  انگلش میڈیم اسکولوں کے  پاؤں بہت مضبوط کر دئے۔  سالانہ ریونیو  اور منافع اربوں  میں ہونے کے باوجود  ریونیو اور منافع  مزید بڑھانے کے نت نئے طریقہ ایجاد کئے جاتے ہیں۔ کتابیں، یونی فارم اور مختلف مدوں میں مزید  رقوم اینٹھنا ایک مستقل سی روایت بن گئی۔

یہ روایت جاری رہتی مگر بہت سے والدین  کے سر  سے پانی گزرنے لگا۔  تین چار ٹاپ  انگلش میڈیم  اسکول برانڈز میں کلاس ون سے  او۔ لیول تک کی فیس کم و بیش  بیس ہزار روپے ماہانہ تک  ہے، اے لیول  کی فیس تیس سے پینتیس ہزار روپے ماہانہ تک ہے۔  اتنی بھاری بھر کم فیس کے بعد انگلینڈ یا امریکہ کے امتحانی سسٹم  اور ان کے مقامی امتحانی  پارٹنر کی  بھاری فیسیں الگ۔ اس سارے کھیکھڑ کے دوران کئی کئی ماہ اکیڈمیوں کی مجبوری الگ جہاں ان ہی اسکولوں کے بیشتر اساتذہ شام کو پڑھاتے ہیں۔ یوں دو سے تین بچوں کو  انگلش میڈیم اسکول میں پڑھانے پر والدین  کا ماہانہ خرچ لاکھ سے سوا لاکھ  تک اٹھتا ہے۔

سالہاسال کی شکایات اور ہلکے پھلکے احتجاج  کے باوجود  شنوائی نہ ہوئی تو  مایوس  والدین نے اعلیٰ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ 2017 میں عدالت کا فیصلہ آیا  تو پہلی بار اس معاملے میں والدین کو حوصلہ ہوا کہ وہ  اب اکیلے نہیں لیکن یہ خوش گمانی زیادہ دیر نہ رہی۔ اسکولوں نے فیصلے کی پاسداری سے گریز کیا ۔ معاملہ پھر سے عدالت میں جا پہنچا جس کے نتیجے میں عدالت نے اپنے حالیہ فیصلے  سے 2017 کی فیسوں کو  خطِ اعتدال یعنی Base year قرار دیتے ہوئے صرف سالانہ پانچ فی صد اضافے کی اجازت دی ہے۔   وزیر تعلیم کی سنیں تو لگتا ہے کہ وہ عدالت  کے فیصلے سے سرِمو انحراف نہ ہونے دیں گے لیکن والدین کی سنیں تو  اندازہ ہوتا ہے کہ  اعتبار کا کچا دھاگہ بہت بار آزمایا جا چکا۔

والدین کے احتجاج اور عدالت میں کیس پیش کرنے والے لاہور کے  ایک متحرک  سماجی کا رکن عمیر احمد  کا کہنا ہے کہ اسکولوں کی انتظامیہ کسی کو خاطر میں لانے پر تیا ر نہیں۔ ان  اداروں کے لئے تعلیم صرف ایک منافع بخش کاروبار ہے اور بس، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ والدین مجبور ہیں کہ ان کے پاس بہت محدود چوائسز ہیں۔ اسکولوں کو بھی والدین کی اس مجبوری کا اندازہ ہے۔  عمیر احمد اور ان کے ساتھی والدین کا خیال ہے کہ وہ اسکولوں کو من مانی نہیں کرنے دیں گے مگر وہ  اس امر پر بھی شاکی ہیں کہ صوبائی اور وفاقی حکومت کے وزرائے تعلیم ان اسکولوں  کی اندھی  طاقت کے سامنے ڈھیر ہیں۔ ریگولیٹری اتھارٹی  کے دم خم کا  بھی یہی حال ہے۔  یوں  اس سارے قضیے میں تعلیم اور شاگرد اور اسکول کے درمیان احترام کا  باہمی جذبہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔

شہروں کی  مڈل اور اپر مڈل کلاس  نے اپنی شناخت اور اثرو رسوخ کے باوجود اتنے سالوں بعد اس ناروا بوجھ  پر احتجاج کیا ہے اور مشترکہ کوششوں سے عدالت سے ریلیف لینے میں کامیاب بھی ہوئے ہیں۔  دوسری جانب  لوئر مڈل کلاس کی ایک وسیع تعداد  ان ٹاپ اسکولوں کے اخراجات برداشت کرنے کے قابل  نہیں  لیکن اپنے بچوں کو ویسی ہی انگلش میڈیم تعلیم دلوانا بھی چاہتے ہیں۔  ٹاپ  کلاس انگلش میڈیم اسکولوں نے اس خواہش میں ایک نئے بزنس کے روشن امکانات دیکھے اور یوں ان اداروں کے بینر تلے مختلف ناموں سے فرنچائز انگلش میڈیم اسکولوں  کے کئی وسیع نیٹ ورک قائم ہوتے گئے   جن میں فیسیں تو کم ہیں مگر لیبل انگلش میڈیم کا ہے۔  ان  نیٹ ورکس  کی وسعت بڑے شہروں کے علاوہ چھوٹے شہروں اور قصبوں تک  پھیلی ہوئی ہے۔ 

ا س سسٹم کے تحت  بالا دست  اسکول برانڈز  اپنے نام کی رائلٹی لیتے ہیں،  تعلیمی کیلنڈر اور نصاب  میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں مگر اسکول  کی ملکیت اور اسے  چلانے  کا  ذمہ فرنچائز  کا ہوتا ہے۔ مشہور اسکول برانڈز کے  ریونیو اور منافع  کا بڑا حصہ اب  ان  فرنچائز  اسکولوں  سے  حاصل ہوتا ہے۔   فرنچائز  اسکولوں  میں ٹیچرز کی صلاحیت اور کوالٹی بالعموم   فرنچائز مالکان کے   لالچ کے سامنے  سر نگوں ہو جاتی ہے۔  آدھی تنخواہ پر  اَن ٹرینڈ اساتذہ  فرنچائز اسکولوں میں معمول ہے کہ ان کے بغیر کمائی اور لاگت کا حساب ٹھیک نہیں بیٹھتا۔ ایسے میں تعلیم کے معیار پر کیا بیتتی ہے، اس کا اندازہ لگانا کے لئے کسی کا بقراط ہونا شرط نہیں ہے

سیاست اور گورننس کی حد تک ہم اکثر بہتر سالہ حکومتی اچھی بری کارکردگی پر سینہ کوبی کرتے رہتے ہیں لیکن  تعلیم کے میدان  میں اس دوران  کیا قیامت بیت گئی، اس کا  ذکر کرنے  کی نوبت کم ہی  آتی ہے۔  سرکاری اسکول سسٹم سیاسی مداخلت، بد انتظامی اور  فرسودگی کی وجہ سے اپنی کشش اس  حد تک کھو چکے ہیں کہ انتہائی کم فیسوں کے باوجود طلبا او ر طالبات کی تعداد  بڑھنے کے  بجائے اکثر جگہوں پر کم ہو رہی ہے۔ تعلیم کا معیار مسلسل زوال پذیر ہے۔ دوسری جانب پرائیویٹ سیکٹر میں ٹاپ کلاس اسکول  برانڈز اور ان کے فرنچائز  برانڈز کی  منافع کی دوڑ میں تعلیمی معیار اور والدین دونوں ہانپ رہے ہیں۔ تعلیم  اور والدین  دوہرے شکنجے میں ہیں۔  سرکاری اسکول سسٹم میں بھی اور  دو منزلہ پرائیویٹ اسکول سسٹم میں بھی۔